ہمارا گاؤں چکیا حسین آباد

ہمارا گاؤں چکیا حسین آباد اس خطہ اعظم گڑھ پے مگر فیضان تجلّی ہے یکسر
جو ذرّہ یہاں سے اٹھتا ہے وہ نیئر اعظم ہوتا ہے

12/03/2026

Inside view
Jama masjid ..__ chakiya Husenabad

06/11/2025

I got over 50 reactions on my posts last week! Thanks everyone for your support! 🎉

05/10/2025

جامعہ مسجد
چکیا حسین آباد پہلے کے بعد دوسرے منزلہ کی تیاری شروع الحمدللہ

23/09/2025

إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ


انتہائی رنج و غم کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ ہماری امی کی بوبو اور ہم سب کی نانی "جیلائی بوبو" (اللہ جلائی) طویل علالت اور فالج کے صبر آزما دور کے بعد داعیِ اجل کو لبیک کہہ گئیں۔ ان کے وصال سے خانوادۂ مجیدی اخلاق و ادب، تہذیب و شائستگی کے ایک عظیم سرمائے اور محبت و شفقت اور لطف و عنایت کے مجسم پیکر سے محروم ہوگیا۔ ہم سب کے دل غم اور حسرت سے لبریز ہیں۔

جیلائی بوبو (ہم سب بچپن سے بوبو ہی کہتے آئے) کا جانا محض ایک فرد کا رخصت ہونا نہیں ہے، واقعہ یہ ہے کہ ان کے جانے سے پورے گھر اور خاندان کی تاریخ کا ایک یا یوں کہیے کہ آخری باب بند ہوگیا ہے۔

محترمہ جیلائی بوبو خطۂ اعظم گڑھ کے جید عالمِ دین، سابق صدر المدرسین مدرسۃ الاصلاح، شہیدِ حق و صداقت مولانا عبد المجید ندویؒ کی حقیقی ہمشیرہ تھیں۔ ان کے جانے سے خانوادۂ مجیدی کا وہ آخری برگ بھی جھڑ گیا جس سے اس شجرِ مبارک کا سایہ تا دیر قائم تھا۔

مولانا عبد المجید ندویؒ، جو علم و عمل، تقویٰ و طہارت اور استقامت و عزیمت کے پیکر تھے، اپنے بھائی بہنوں سے غیر معمولی شفقت اور محبت رکھتے تھے۔ مرحومہ جیلائی بوبو ان کے بعد پیدا ہوئیں، جبکہ ان سے پہلے چار بہنیں پنگھوڑے ہی میں وفات پاچکی تھیں۔ مولانا مرحوم اکثر مزاحیہ انداز میں فرمایا کرتے کہ:
“صرف ہماری بہن زندہ ہے، باقی سب کی بہنیں فوت ہوچکی ہیں”۔

گھر والوں نے اس فالِ نیک کے ساتھ ان کا نام اللہ جلائی رکھا کہ اللہ انہیں زندہ و سلامت رکھے، اور حقیقتاً اللہ نے انہیں نسبتاً دراز عمر عطا کی۔ ان کے بعد ایک بہن اور تھیں جمیلہؒ جن کا انتقال چند سال پہلے ہوا۔ مولانا کے چار بھائی—بسم اللہ، یعقوب خلیفہ، عبد الشکور اور عبد العزیز—اور دو بہنیں (اللہ جلائی اور جمیلہ) اب سب اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔

یہ سب بھائی بہن حیرت انگیز طور پر غیر معمولی اخلاقی اور انسانی خوبیوں سے بہرہ ور تھے۔ مرحومہ جیلائی بوبو بھی انہی اوصاف کی آئینہ دار تھیں۔ سلیقہ مندی، صفائی، نفاست، شرافت، نستعلیقیت، وضعداری، رکھ رکھاؤ، صلہ رحمی، مہمان نوازی، رشتہ و ناطہ کی پاسداری، دل و نگاہ کی پاکیزگی، تربیت کے گر اور ہنر یہ سب ان کی شخصیت کے نمایاں اور روشن گوشے تھے۔ ان کے گھر کا ماحول، ان کی نشست و برخاست، ان کا طورِ زندگی سب کچھ ایک معیار اور وقار کی مثال تھا۔ جو بھی ان سے ملا متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ آج ان کے جانے کے بعد ان کی اولاد اور احفاد ہی نہیں، تمام اعزہ و اقارب اس عظیم فقدان کو شدت سے محسوس کر رہے ہیں۔

مرحومہ کے دو صاحبزادے جناب محمد فیروز (امیر مقامی، جماعت اسلامی ہند مالیگاؤں) اور محمد اسماعیل مالیگاؤں میں مقیم ہیں اور دین و دنیا دونوں پہلوؤں سے باوقار زندگی گزار رہے ہیں۔ پانچوں بیٹیاں اپنے اپنے گھروں میں خوشحال ہیں۔ ان سب میں مرحومہ کے اخلاقی ورثے اور تربیت کے اثرات نمایاں ہیں۔ یہ سب ان کی زندگی کی کامیاب ترین کاوشوں کے گواہ اور شاہدِ عدل ہیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مرحومہ جیلائی بوبو کے اعمال و اخلاق ان کے حق میں قبول فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، اور ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے۔ ان کے پس ماندگان، اولاد، احفاد، اور جملہ متعلقین کو صبرِ جمیل اور اجرِ عظیم عطا فرمائے۔ ان کے دلوں کو سکون اور ان کی زندگیوں کو مرحومہ کی نیک یادوں اور دعاؤں سے آباد رکھے۔ آمین۔

اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهَا وَارْحَمْهَا، وَعَافِهَا وَاعْفُ عَنْهَا، وَأَكْرِمْ نُزُلَهَا، وَوَسِّعْ مَدْخَلَهَا، وَاغْسِلْهَا بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّهَا مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، وَأَبْدِلْهَا دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهَا، وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهَا، وَأَدْخِلْهَا الْجَنَّةَ وَأَعِذْهَا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ۔

آمين يا رب العالمين!

13/09/2025

Night shift work is also being done to complete the electrical work as soon as possible



Yasir Arfat

Address

Chakia Husenabad
Azamgarh
223227

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ہمارا گاؤں چکیا حسین آباد posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category