05/04/2026
ایک گاؤں میں دو کاریگر رہتے تھے۔ ایک کا نام رحمت تھا جو لکڑی کا کام بڑی مہارت سے کرتا تھا، اور دوسرا سلیم تھا جو ہر چیز کو جوڑنے اور مرمت کرنے میں ماہر تھا۔ سلیم کو لوگ مذاق میں “Fevicol” کہتے تھے کیونکہ وہ ٹوٹی ہوئی چیزوں کو اس طرح جوڑتا کہ وہ نئی لگنے لگتیں۔
وقت گزرا تو سلیم نے دیکھا کہ رحمت کی بڑی تعریف ہو رہی ہے۔ اس کے بنائے ہوئے فرنیچر دور دور تک مشہور تھے۔ سلیم کے دل میں خیال آیا کہ وہ بھی اب لکڑی کا کاریگر بنے گا تاکہ لوگ اس کی بھی تعریف کریں۔ اس نے آری اٹھائی اور رحمت کی طرح کام کرنے کی کوشش کی، لیکن نہ اس کے ہاتھ میں وہ مہارت تھی اور نہ صبر۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کا کام خراب ہونے لگا اور لوگ بھی اس سے ناراض ہونے لگے۔
ایک دن گاؤں کے ایک بزرگ نے اسے بلایا اور کہا،
“بیٹا، تم کیوں وہ بننے کی کوشش کر رہے ہو جو تم نہیں ہو؟ تمہاری اصل طاقت چیزوں کو جوڑنے میں ہے، نہ کہ کاٹنے میں۔ ہر انسان کی اپنی ایک پہچان اور ہنر ہوتا ہے۔”
سلیم کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اس نے دوبارہ اپنے اصل کام پر توجہ دی اور جلد ہی لوگ پھر سے اس کے کام کی تعریف کرنے لگے۔ اب وہ نہ صرف خوش تھا بلکہ مطمئن بھی، کیونکہ اس نے اپنی پہچان کو پہچان لیا تھا۔
سبق (Moral):
ہر انسان کو اپنی اصل صلاحیت کو پہچان کر اسی پر کام کرنا چاہیے، دوسروں کی نقل کرنے سے نہ کامیابی ملتی ہے اور نہ عزت۔
اسی لیے جو توڑنے کا کام کرتا ہے، اسے جوڑنے کا ناٹک نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنا اصل کام ہی جاری رکھنا چاہیے۔