14/05/2026
عنوان: خاموش سایوں کی جدائی
کچھ جدائیاں شور نہیں کرتیں…
وہ آہستہ آہستہ انسان کے اندر اُترتی ہیں اور پھر پوری زندگی میں پھیل جاتی ہیں۔
باہر سے سب کچھ معمول کے مطابق دکھائی دیتا ہے، مگر اندر ایک ایسا ویران شہر آباد ہوجاتا ہے جہاں ہر گلی کسی بچھڑ جانے والی آواز کا ماتم کرتی ہے۔
گھر وہی رہتا ہے…
دیواروں کے رنگ بھی نہیں بدلتے، دروازے بھی ویسے ہی کھلتے اور بند ہوتے ہیں، صحن میں دھوپ بھی پہلے کی طرح اترتی ہے… مگر نہ جانے کیوں ہر چیز اجنبی لگنے لگتی ہے۔
جیسے مکان تو باقی رہ گیا ہو، مگر “گھر” کہیں کھو گیا ہو۔
زندگی کے کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جب انسان بےاختیار پلٹ کر کسی کو آواز دینا چاہتا ہے۔
کامیابی ملے تو دل چاہتا ہے کوئی پیشانی چوم کر کہے:
“مجھے تم پر فخر ہے۔”
تھکن حد سے بڑھ جائے تو خواہش ہوتی ہے کوئی بس اتنا پوچھ لے:
“کھانا کھایا؟”
اور جب رات کے آخری پہر دل بےوجہ اُداس ہو تو انسان صرف ایک دعا بھری آواز سننا چاہتا ہے۔
مگر پھر اچانک احساس ہوتا ہے کہ کچھ آوازیں اب صرف یادوں میں باقی رہ گئی ہیں۔
وہ لوگ جن کی موجودگی کبھی زندگی کا سب سے عام حصہ لگتی تھی، اُن کی عدم موجودگی پوری زندگی کا سب سے بڑا خلا بن جاتی ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ انسان جینا تو سیکھ لیتا ہے، مگر بعض کمیوں کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کر پاتا۔
کچھ دروازے ایسے ہوتے ہیں جو بند ہوجائیں تو پھر دنیا کی کوئی دولت، کوئی تعلق، کوئی خوشی اُنہیں دوبارہ نہیں کھول سکتی۔
پھر ایک دن انسان ہجوم میں بیٹھا مسکرا بھی رہا ہوتا ہے، مگر اندر کہیں ایک بچہ خاموشی سے کسی کو ڈھونڈ رہا ہوتا ہے۔
کسی ایسے وجود کو…
جو بغیر کہے تکلیف سمجھ لیتا تھا،
جو دعا کو ڈانٹ میں چھپا دیتا تھا،
جو خود تھک کر بھی اولاد کے لیے سایہ بنا رہتا تھا۔
اور تب احساس ہوتا ہے کہ دنیا کا سب سے گہرا دکھ قبرستانوں میں دفن نہیں ہوتا…
وہ اُن زندہ لوگوں کے دلوں میں رہتا ہے جن کے سر سے ہمیشہ کے لیے
“ماں باپ” کا سایہ اٹھ جاتا ہے۔
تحریر: تبریز محمود