02/03/2023
*شانِ اولیا۶*
*داتادربار کےتہہ خانے میں ایک قبرھے*
*ان کی قبر فاروق احمد لینارڈ انگریز انگلینڈ کے ایک شاھی خاندان سےتعلق رکھتا تھا*
*اس کی قبر کے کتبے پر فاروق احمد لینارڈ انگلستانی لکھا ہوا ہے*
*(تبلغی جماعت )کی دعوت پر مسلمان ہوگیا*
*اس کا نام لینارڈ تھا*
*مسلمان ھونے پر اس کا اسلامی نام فاروق احمد رکھا گیا*
*اسلام قبول کرنے کے بعد اس نے قرآن پاک کا مطالعہ شروع کیا*
*اس میں حضرت سلمانؑ کا واقعہ ہے*
*جس کا مفہوم یوں ہے*
*''بلقیس'' کا تختِ شاہی اَسّی گز لمبا اور چالیس گز چوڑا تھا*
*یہ سونے چاندی اور طرح طرح کے جواہرات اور موتیوں سے آراستہ تھا*
*جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے بلقیس کے قاصد اور اُس کےھدیہ و تحائف کو ٹھکرا دیا*
*اور اُس کو یہ حکم نامہ بھیجا کہ وہ مسلمان ہو کر میرے دربار میں حاضر ہوجائے*
*تو آپ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ بلقیس کے یہاں آنے سے پہلے ہی اُس کا تخت میرے دربار میں آجائے*
*چنانچہ آپ نے اپنے دربار میں درباریوں سے یہ فرمایا:۔*
*اے درباریو! تم میں کون ہے کہ وہ اس کا تخت میرے پاس لے آئے*
*قبل اس کے کہ وہ میرے حضور مطیع ہو کر حاضر ہوں*
*ایک بڑا جن بولا میں وہ تخت حاضر کردوں گا قبل اس کےکہ حضور اجلاس برخاست کریں اور میں بیشک اس پر قوت والا امانت دار ہوں*
*جنّ کا بیان سن کر حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا*
*کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ اس سے بھی جلد وہ تخت میرے دربار میں آجائے*
*یہ سن کر آپ کے وزیر حضرت ''آصف برخیا جو اسم اعظم جانتے تھے*
*اور ایک باکرامت ولی تھے*
*انہوں نےحضرت سلیمان علیہ السلام سے عرض کیا*
*جیسا کہ قرآن مجید میں ہے*
*میں آپکے حضور میں حاضر کردوں گا ایک پل جھپکنے سے پہلے*
*چنانچہ حضرت آصف برخیا نے روحانی قوت سے بلقیس کے تخت کو حضرت سلیمان علیہ السلام کے محل میں حاضر کردیا اور وہ ایک دم حضرت سلیمان علیہ السلام کی کرسی کے قریب نمودار ہو گیا*
*تخت کو دیکھ کر حضرت سلیمان علیہ السلام نے یہ کہا*
*یہ میرے رب کے فضل سے ہے*
*اب آجائیں فاروق احمد لینارڈ کی طرف اس نے یہ واقعہ پڑھا تو حیران ہوا*
*کہ کیسے ایک شخص اتنی کم مدت میں سیکڑوں میل دور سے تخت لا سکتا ہے*
*یہ سوال اس نے مبلغوں سے کیا جس کا کوئی تسلی بخش جواب نہ مل سکا*
*اس انگریز فاروق احمد لینارڈ انگلستانی کو قرآن پاک کی سچائی پر پورا یقین حاصل ہوچکا تھا*
*یہ تو بس ایسی تصدیق چاہتا تھا جو اسے روحانی طور پر مطمئن کر سکے...*
*اسےتبلیغی جماعت کےعلمی افراد نے مختلف دلائل سےمطمئن کرنے کی کوشش کی*
*کہ انبیاء کرام معجزات اور اولیاء کرام کرامات پر قدرت رکھتے ہیں*
*مگر انگریزمسلمان یہ روحانی تصدیق کے جواب کا طلبگار تھا*
*اس لیے علمی جوابات سے مطمئن نہ ہوا.....*
*اس نے اپنے ساتھیوں سے لاہور کے مقامات دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا*
*اسے مختلف مشہور مقامات کا دورہ کرواتےہوئے جب داتا دربار کے سامنےسےگزرے*
*تو اسےایک روحانی کشش کی حامل خوشبو نے اپنی طرف کھینچا*
*یہ مزار کی جانب روانہ ہوا تو اسکےساتھیوں نے عقیدے کےاعتبار سےاختلافی نظریات کے پیش نظر اسے روک کر واپس لےجانے کی کوشش کی*
*مگر وہ نہ مانااور خوشبو کی جانب بڑھتا چلا گیا*
*مزار کےاحاطے میں داخل ہوتے ہی داتا دربار کے گیٹ پر ایک بزرگ نے آپ کا استقبال کیا*
*اور انکو چائے پانی پوچھا فاروق احمد نے گرم چاۓ کی طلب ظاھر کی*
*بزرگ آدمی نے اپنا ھاتھ مغرب کی جانب بڑھایا اور آنکھ جھپکنے سے پہلے ھی ایک ساعت میں گرم چاۓ کا کپ فاروق احمد کے سامنے پیش کردیا*
*فاروق احمد یہ سب کچھ دیکھ کر اپنےحواس کھو گیا*
*حواس بحال ھونے پر بزرگ وھاں پر موجود نہ تھے اور کافی تلاش بسار پر بھی نہ ملے*
*آپ نے مبلغین کو بتایا کہ اسے مزارِ داتا گنج بخش علی ھجویری رحمۃ اللّٰہ علیہ سے اپنے سوال کا جواب مل گیا*
*یہ کپ لاھور ملتان یا برصغیر کے کسی شہر قصبے دیہات کا کپ نہیں*
*بلکہ یہ لندن میرے گھر کا کپ ھے*
*جو پلک جھپکنےسےپہلے اس بزرگ نےلندن سےمیرے سامنےپیش کیاھے*
*اور میں اپنےگھر میں اسی کپ میں چاۓپیتاتھا*
*آپ نے کہا کہ اسلام کے اصل ترجمان تو یہ اولیا اللہ صاحب مزار حضرت داتا گنج بخش علی ھجویری رحمۃ اللّٰہ علیہ اور دیگر اولیاء ھیں*
*اس واقعہ نےجناب فاروق احمد لینارڈ صاحب کے دل کی دنیا ھی بدل ڈالی اور کایا پلٹ دی*
*مبلغین کو چھوڑ کر لندن شہر کا باشندہ ھمیشہ کے لئے لاھور داتا دربار کی دربانی پر مامور ھوگیا*
*اور وھاں پر ھی 13 فروری 1945 سن عیسوی میں وفات پائی*
*آپ کا مزار بیسمنٹ داتا دربار لاہور میں واقع ھے*
*یہاں قبر پر وہ کچھ لکھاگیاجو وہاں سےمعلومات ملیں*
*صل اللّٰہ علی حبیبہ محمدوآلہ وسلم*