TANWEER CLICK

TANWEER CLICK إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ
بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے❤️

22/01/2026

27/08/2025

شہلا کی خودکشی: انصاف کا کڑا امتحان

چند روز قبل تھانہ موڑکھو کی حدود میں شہلا نامی لڑکی نے اپنی زندگی کا چراغ بجھا دیا۔ یہ محض ایک خودکشی نہیں تھی بلکہ سماج کے منہ پر ایک تھپڑ ہے، کیونکہ بتایا جا رہا ہے کہ شہلا نے اپنے آخری کاغذ پر وہ سب لکھ دیا جو ایک بلیک میلر کی مکروہ حرکتوں کی تفصیل تھی۔ یہ نوٹ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ وہ دباؤ اور ذہنی اذیت کا شکار تھی۔

بارہ دن گزر جانے کے باوجود FIR درج نہ ہونا عوام کے لیے حیرانی اور مایوسی کا باعث ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا بلیک میلر کا خاندانی اثر و رسوخ پولیس کے لیے قانون اور انصاف سے زیادہ طاقتور ہے؟

ایسے معاملات میں تو محض SIM ریکارڈ اور ڈیجیٹل ڈیٹیلز مجرم تک پہنچنے کے لیے کافی ہوتی ہیں۔ لیکن اگر قانون کے رکھوالے ہی طاقتور حلقوں کے سامنے بے بس ہو جائیں تو عام شہری کہاں جائیں؟

یہ کیس اپر چترال پولیس کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔ عوام کی نظریں DPO صاحب اور ان کی ٹیم پر لگی ہیں کہ وہ ثابت کریں کہ پولیس صرف کمزور کے لیے نہیں بلکہ طاقتور کے سامنے بھی ایک جیسی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر شہلا کے بلیک میلر کو قانون کے کٹہرے میں نہ لایا گیا تو یہ صرف ایک بیٹی کی قربانی نہیں، بلکہ پورے معاشرے میں ایک خطرناک روایت کو جنم دے گا کہ اثر و رسوخ قانون سے بالاتر ہے۔

اب وقت ہے کہ اپر چترال پولیس شہلا کی آخری تحریر کو انصاف دلانے کا ذریعہ بنائے، اور یہ ثابت کرے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔ شہلا کی آواز دب گئی، مگر اس کے لکھے ہوئے الفاظ آج بھی پکار رہے ہیں کہ ’’انصاف کب ملے گا؟‘‘

26/08/2025

نشکوہ اپر چترال میں ہونے والا واقعہ صرف ایک لڑکی کی خودکشی کا واقعہ نہیں، بلکہ یہ اس سماجی اور نفسیاتی قید کی نشاندہی کرتا ہے جس میں ہماری خواتین صدیوں سے جکڑی ہوئی ہیں۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہمارے معاشرے میں عورت کی حیثیت ایک مظلوم اور بے بس فرد کی ہے، اور اس کی جڑیں صرف آج کے حالات میں نہیں، بلکہ ہماری صدیوں پرانی روایتوں اور پدر شاہی نظام میں پیوست ہیں۔ ہمارا معاشرہ مرد کو فطری طور پر عورت سے برتر مانتا ہے، اور یہ سوچ ہمارے خاندانی، سماجی اور قانونی نظام میں سرایت کر چکی ہے۔ مردانہ انا اور عزت کے نام پر عورت کو ملکیت سمجھا جاتا ہے، جس پر مرد کی حاکمیت ہوتی ہے۔ یہ اسی سوچ کا نتیجہ ہے کہ ایک مرد کسی دوسرے مرد سے اپنی ملکیت چھن جانے پر اس قدر بھڑک اٹھتا ہے کہ ایک عورت کی زندگی کو تباہ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ ہمارے معاشرے میں "عزت" کا بوجھ صرف عورت کے کندھوں پر رکھا گیا ہے۔ اگر کوئی عورت اپنی مرضی سے فیصلہ کرے، کسی سے محبت کرے، یا کسی مشکل کا شکار ہو، تو اسے فوراً "خاندان کی عزت" پر حملہ سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بہن کے پاس کوئی جائے پناہ نہیں تھی۔ اسے علم تھا کہ اگر وہ یہ معاملہ اپنے خاندان کو بتاتی، تو وہ بھی شاید اسے عزت کے نام پر دباؤ کا شکار بناتے یا مزید بدنامی سے بچنے کے لیے کوئی انتہائی قدم اٹھاتے۔ اس دلدل سے نکلنے کے لیے صرف قوانین بنانا کافی نہیں، بلکہ ہمیں اپنی سوچ اور سماجی رویوں کو مکمل طور پر تبدیل کرنا ہو گا۔ ہمیں عزت کے اس فرسودہ تصور کو ترک کرنا ہو گا جو صرف عورت کی ذات سے وابستہ ہے۔ سچی عزت مرد کی طاقت میں نہیں، بلکہ انصاف، انسانیت اور رحم میں ہے۔ جب تک ہم عورت کو اپنی ملکیت سمجھیں گے، اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ عورت بھی ایک مکمل انسان ہے جس کے اپنے حقوق اور فیصلے ہیں۔ عورت جب تک مالی اور تعلیمی طور پر خود مختار نہیں ہو گی، اس کی نجات ممکن نہیں۔ جب کوئی لڑکی کمانے کے قابل ہو گی اور اپنے حقوق سے واقف ہو گی، تو وہ کسی مرد کی دھمکیوں یا خاندانی دباؤ میں نہیں آئے گی اور اپنے فیصلے خود کر سکے گی۔ جو لوگ اس خودکشی کا سبب بنے ہیں، ان کو عبرت کا نشان بنانا انتہائی ضروری ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس معاملے کو خودکشی کا کیس سمجھنے کے بجائے قتل کے طور پر لینا چاہیے۔ مجرم کو اس قدر سخت سزا دی جائے کہ کسی اور کو ایسی گھناؤنی حرکت کرنے کی جرأت نہ ہو۔ عدالتوں کو ایسے مقدمات کی فوری سماعت کرنی چاہیے اور ان پر جلد فیصلہ سنانا چاہیے۔
کیا ہم واقعی بحیثیت ایک معاشرہ عورت کو صرف ایک ذمہ داری اور ملکیت سمجھتے رہیں گے؟ یا اس کی انسانیت کو تسلیم کریں گے؟ یہ سوال ہم سب کو خود سے پوچھنا ہے۔









😢😢😢

💓
17/05/2025

💓

04/04/2025
Connection, attachment, expectations always hurts.💔😪
30/08/2024

Connection, attachment, expectations always hurts.💔😪

13/08/2024

    ❤️
15/07/2024

❤️

❤️
08/07/2024

❤️

Address

Bara

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when TANWEER CLICK posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to TANWEER CLICK:

Share