27/08/2025
شہلا کی خودکشی: انصاف کا کڑا امتحان
چند روز قبل تھانہ موڑکھو کی حدود میں شہلا نامی لڑکی نے اپنی زندگی کا چراغ بجھا دیا۔ یہ محض ایک خودکشی نہیں تھی بلکہ سماج کے منہ پر ایک تھپڑ ہے، کیونکہ بتایا جا رہا ہے کہ شہلا نے اپنے آخری کاغذ پر وہ سب لکھ دیا جو ایک بلیک میلر کی مکروہ حرکتوں کی تفصیل تھی۔ یہ نوٹ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ وہ دباؤ اور ذہنی اذیت کا شکار تھی۔
بارہ دن گزر جانے کے باوجود FIR درج نہ ہونا عوام کے لیے حیرانی اور مایوسی کا باعث ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا بلیک میلر کا خاندانی اثر و رسوخ پولیس کے لیے قانون اور انصاف سے زیادہ طاقتور ہے؟
ایسے معاملات میں تو محض SIM ریکارڈ اور ڈیجیٹل ڈیٹیلز مجرم تک پہنچنے کے لیے کافی ہوتی ہیں۔ لیکن اگر قانون کے رکھوالے ہی طاقتور حلقوں کے سامنے بے بس ہو جائیں تو عام شہری کہاں جائیں؟
یہ کیس اپر چترال پولیس کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔ عوام کی نظریں DPO صاحب اور ان کی ٹیم پر لگی ہیں کہ وہ ثابت کریں کہ پولیس صرف کمزور کے لیے نہیں بلکہ طاقتور کے سامنے بھی ایک جیسی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر شہلا کے بلیک میلر کو قانون کے کٹہرے میں نہ لایا گیا تو یہ صرف ایک بیٹی کی قربانی نہیں، بلکہ پورے معاشرے میں ایک خطرناک روایت کو جنم دے گا کہ اثر و رسوخ قانون سے بالاتر ہے۔
اب وقت ہے کہ اپر چترال پولیس شہلا کی آخری تحریر کو انصاف دلانے کا ذریعہ بنائے، اور یہ ثابت کرے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔ شہلا کی آواز دب گئی، مگر اس کے لکھے ہوئے الفاظ آج بھی پکار رہے ہیں کہ ’’انصاف کب ملے گا؟‘‘