Irshad Ayun

Irshad Ayun I am a professional photographer and videographer from Pakistan northern area of KPK chitral. KPK Chitral Ayun Muldeh

For more contact me on my
WhatsApp number.
+923449700938

YouTube chanel
https://youtube.com/-beauty-x7d?si=_ajHczlrippJsQX6

07/07/2026

الفاظ کا لبادہ اور چھپا ہوا زہر جب مذاق کڑوی سچائی بن جائے

انسان کے الفاظ اس کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتے ہیں، لیکن کبھی کبھی ان الفاظ کے پیچھے چھپی نیت کو سمجھنے کے لیے گہری نظر کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہماری روزمرہ کی زندگی میں "مذاق" ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جس کی آڑ میں اکثر لوگ وہ باتیں کہہ جاتے ہیں جو وہ عام حالات میں کہنے کی ہمت نہیں رکھتے۔

اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ ہمارے آس پاس کچھ لوگ مزاح کا سہارا لے کر دوسروں کی ذات، ان کی کمزوریوں یا ان کے فیصلوں پر طنز کے تیر چلاتے ہیں۔

بظاہر تو وہ ہنس رہے ہوتے ہیں اور اسے ایک 'معصومانہ مذاق' کا نام دیتے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ اس مذاق کے لبادے میں اپنے اندر کا حسد، کینہ اور زہر اگل رہے ہوتے ہیں۔

"کسی کے دل کو دکھا کر اپنے لفظوں کو 'مذاق' کا نام دینا دراصل بدتمیزی کو چھپانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔"

لہٰذا، اپنے اردگرد کے لوگوں کے رویوں اور ان کے مذاق پر غور کرنا سیکھیں۔ جو شخص آپ کی عزت کا پاس نہیں رکھ سکتا، وہ آپ کا سچا خیر خواہ کبھی نہیں ہو سکتا۔

لفظوں کے اس کھیل کو سمجھیں، کیونکہ ہر ہنستا ہوا چہرہ مخلص نہیں ہوتا اور ہر مذاق صرف تفریح کے لیے نہیں کیا جاتا۔

اپنی ذہنی سکون کی خاطر ایسے منفی رویوں کو پہچاننا اور ان سے فاصلہ اختیار کرنا بے حد ضروری ہے۔

07/07/2026

Please follow my page

07/07/2026

زندگی کا ریاضی اور رشتوں کے بریکٹ

ریاضی کے اصول صرف کتابوں کے صفحات تک محدود نہیں ہوتے، بلکہ اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ ہماری روزمرہ کی زندگی اور رشتوں پر بھی بالکل سچ اترتے ہیں۔

علمِ ریاضی کا ایک سادہ سا قانون ہے کہ جب کسی بریکٹ (قوسین) کے باہر ایک چھوٹی سی مائنس (منفی) کی علامت لگ جائے، تو وہ اندر موجود تمام جمع کے ہندسوں کی قیمت اور نشانات کو یکسر بدل کر رکھ دیتی ہے۔

ٹھیک اسی طرح ہماری سماجی اور گھریلو زندگی کا بھی ایک بریکٹ ہوتا ہے۔

ایک ہنستا کھیلتا، محبت اور سکون سے بھرا ہوا گھرانہ جہاں ہر فرد ایک دوسرے کے لیے مثبت جذبات رکھتا ہو، وہ ریاضی کے اس بریکٹ کی مانند ہے جس کے اندر سب کچھ 'جمع' (مثبت) ہوتا ہے۔

لیکن، جیسے ہی اس خوبصورت دائرے کے باہر کوئی تیسرا انسان اپنی منفی سوچ، حسد یا غلط فہمیوں کی 'مائنس کی علامت' لے کر کھڑا ہوتا ہے، تو وہ پورے گھر کے ماحول کو بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔

منفی سوچ کا اثر

کسی بیرونی انسان کی منفی گفتگو یا سازش ایک دیمک کی طرح ہوتی ہے جو مضبوط سے مضبوط رشتوں کی بنیادوں کو بھی کھوکھلا کر دیتی ہے۔

اعتماد کا خاتمہ:

مائنس کی یہ علامت محبت کو نفرت میں اور یقین کو شک میں بدل دیتی ہے۔

خوشیوں کی بربادی:

ایک ہنستا بستا گھر، جہاں قہقہے گونجتے تھے، دیکھتے ہی دیکھتے خاموشی اور تلخی کی چادر اوڑھ لیتا ہے۔

رشتوں میں دوری:

تیسرے فرد کی منفی سوچ اپنوں کے درمیان ایسی دیواریں کھڑی کر دیتی ہے جنہیں گرانا ناممکن ہو جاتا ہے۔

"رشتوں کو بیرونی اثرات سے بچانا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کسی پودے کو تیز دھوپ اور آندھی سے محفوظ رکھنا۔"

اپنے گھر کے بریکٹ کو کیسے محفوظ رکھیں؟

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے گھر کا سکون برقرار رہے، تو ہمیں ریاضی کے اس اصول کو الٹنا ہوگا۔

ہمیں اپنے گھر کے اطراف ایک ایسی مضبوط دیوار یا 'بریکٹ' قائم کرنی ہوگی جس کے باہر کھڑی کسی بھی منفی سوچ (مائنس) کو اندر آنے کی اجازت نہ ہو۔

اپنوں پر بھروسہ رکھیں، سنی سنائی باتوں پر کان دھرنے کے بجائے آپس میں گفتگو کریں، اور کسی بھی تیسرے انسان کو اپنے رشتوں کے فیصلے کرنے کا حق نہ دیں۔

یاد رکھیں، گھر اینٹ اور گارے سے نہیں بلکہ محبت، صبر اور اندھے اعتماد سے بنتے ہیں؛ انہیں کسی کی منفی سوچ کی نذر نہ ہونے دیں۔

07/07/2026

جہاں فطرت مسکراتی ہے دل میں اتر جانے والے مناظر

کہا جاتا ہے کہ "سکون وہیں ملتا ہے جہاں فطرت مسکراتی ہے"۔ اور جب بات پاکستان کے سحر انگیز اور فلک بوس پہاڑوں کی ہو، تو یہ مسکراہٹ سیدھی روح میں اترتی محسوس ہوتی ہے۔

دور تک پھیلی ہوئی پرسکون وادیاں، سرسبز راستے اور بادلوں کے دوش پر تیرتی چوٹیاں انسان کو دنیا کے بے ہنگم شور سے دور ایک ایسی دنیا میں لے جاتی ہیں جہاں صرف ہوائوں کی سرگوشیاں اور دل کا سکون باقی رہ جاتا ہے۔

کبھی کبھار ان حسین وادیوں کے بیچ کھڑے ہو کر ایسا لگتا ہے کہ وقت یہیں تھم گیا ہے۔ وہ ٹھنڈی ہوا جو چہرے کو چھو کر گزرتی ہے، وہ لمحہ جب آپ قدرت کی اس بے مثال صناعی کو اپنی آنکھوں میں قید کرتے ہیں—یہ احساسات اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ الفاظ ان کا احاطہ نہیں کر سکتے۔

یہ بالکل سچ ہے کہ "کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جو صرف کیمرے میں نہیں، دل میں بھی ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتے ہیں"۔

تصویریں تو محض ایک عکس ہوتی ہیں، لیکن ان مناظر کو اپنی روح میں محسوس کرنا ایک ایسا تجربہ ہے جو عمر بھر یاد رہتا ہے۔

یہ بلند و بالا پہاڑ ہمیں زندگی کا ایک بہت خوبصورت سبق بھی سکھاتے ہیں۔ پہاڑ کی چڑھائی کٹھن ضرور ہوتی ہے، راستے دشوار ہوتے ہیں، لیکن جب انسان بلندی پر پہنچ کر نیچے پھیلی کائنات کو دیکھتا ہے تو ساری تھکن ہوا ہو جاتی ہے۔

بالکل اسی طرح، "زندگی ایک سفر ہے، ہر قدم نئی امید، نیا حوصلہ اور نئی منزل کی طرف لے جاتا ہے "۔

راستے کی ہر مشکل ہمیں مزید مضبوط بناتی ہے، اور قدرت کا یہ حسن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہر کٹھن سفر کے اختتام پر ایک دلکش اور پرسکون منزل ہمارا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔

سفید روایتی لباس میں ملبوس، اپنی مٹی کی خوشبو سے جڑے رہ کر ان وادیوں میں سانس لینا ایک ایسا فخر اور طمانیت کا احساس دیتا ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔

یہ ہمارے پاکستان کا وہ روشن اور خوبصورت چہرہ ہے، جو ہر دیکھنے والے کو اپنا دیوانہ بنا لیتا ہے۔

اگر آپ کو یہ تحریر اور قدرت کے یہ دلفریب مناظر پسند آئے ہوں تو ❤️ ری ایکٹ کریں، کمنٹس میں ہمیں ضرور بتائیں کہ آپ کا تعلق کس شہر سے ہے، اور اس خوبصورت پیغام کو اپنے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں تاکہ وہ بھی اس خوبصورت احساس کا حصہ بن سکیں۔ 🙌

📍 Pakistan's Beautiful Mountains

کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب، شرم تم کو مگر آتی نہیں!سیاست کے میدان میں جب مفادات کی جنگ چھڑتی ہے تو اکثر سچائی کی چادر دھ...
07/07/2026

کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب، شرم تم کو مگر آتی نہیں!

سیاست کے میدان میں جب مفادات کی جنگ چھڑتی ہے تو اکثر سچائی کی چادر دھندلا دی جاتی ہے، لیکن تاریخ کا قلم ہمیشہ بے لاگ رہتا ہے، وہ نہ کسی کی خوشامد کرتا ہے اور نہ کسی کی حق تلفی۔

چترال کی مٹی کے دو سپوتوں، شہزادہ افتخار الدین صاحب اور رضیت باللہ صاحب کی لازوال اور بے لوث جدوجہد اس بات کی گواہ ہے کہ جب نیتوں میں اخلاص ہو تو راستے کی ہر دیوار ریت کا ڈھیر ثابت ہوتی ہے۔

چترال کے تین اہم مقامات دروش، سنگور اور ایون کے لیے گیس پلانٹ کا منصوبہ کوئی حادثاتی تحفہ نہیں تھا، بلکہ یہ سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف صاحب کے دورِ حکومت میں سابق ایم این اے شہزادہ افتخار الدین صاحب کی شبانہ روز محنتوں اور مسلسل کاوشوں کا ثمر تھا۔

اس منصوبے پر کام باقاعدہ شروع ہو چکا تھا، زمین خریدی جا چکی تھی اور مشینری بھی لاہور میں تیار کھڑی تھی، چترال کے عوام کی آنکھوں میں ترقی کے خواب سجے ہی تھے کہ وفاق میں حکومت بدل گئی۔

اقتدار کے ایوان بدلے تو ترجیحات بھی بدل گئیں، پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت نے ایک انتہائی ہیرا پھیری اور ناانصافی پر مبنی فیصلہ کرتے ہوئے چترال کے اس جیتے جاگتے منصوبے کو منسوخ کر کے گلگت منتقل کر دیا، یہ چترال کے عوام کے حق پر شب خون مارنے کے مترادف تھا۔

ایسے مایوس کن حالات میں جب پارٹی وفاداریاں اندھی ہو جاتی ہیں، چترال کی دھرتی سے ایک مردِ حر کھڑا ہوا، پی ٹی آئی کے اپنے ہی رہنما رضیت باللہ صاحب نے مصلحت پسندی کے بتوں کو پاش پاش کرتے ہوئے اپنی ہی پارٹی کی حکومت کے خلاف پشاور ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

انہوں نے ثابت کیا کہ ان کے لیے پارٹی کا جھنڈا بعد میں ہے، چترال کے حقوق کا تحفظ پہلے ہے، دوسری طرف، شہزادہ افتخار الدین صاحب نے بھی ہمت نہیں ہاری اور وفاقی سطح پر سیاسی و حکومتی ایوانوں میں اس منصوبے کی بحالی کے لیے مسلسل جنگ لڑتے رہے۔

ان دونوں رہنماؤں کی دلیری، مخلصانہ اتحاد اور انتھک قانونی و سیاسی جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ آج اس منصوبے کے ٹینڈر کا اشتہار جاری ہو چکا ہے، یہ چترال کے عوام کی جیت ہے، یہ حق کی جیت ہے۔

حقائق کو تسلیم کیا جائے، کریڈٹ نہ چرایا جائے!

اب جب کامیابی سامنے کھڑی ہے، تو پی ٹی آئی کے کچھ نام نہاد دوست اس کا پورا کریڈٹ اپنی جماعت کی جھولی میں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کی خدمت میں عرض ہے کہ حقائق سے نظریں چرانا سیاسی دیانت داری کے خلاف اور منافقت ہے۔

اگر آپ کی حکومت یہ منصوبہ چترال سے منتقل نہ کرتی تو نہ تو عدالتوں کے چکر کاٹنے پڑتے اور نہ ہی اس طویل جدوجہد کی ضرورت پیش آتی۔

پارٹی سے بالاتر سوچ:

رضیت باللہ صاحب نے پارٹی مفاد پر عوامی مفاد کو ترجیح دے کر ایک نئی تاریخ رقم کی۔

بنیاد کس نے رکھی؟

شہزادہ افتخار الدین صاحب نے اس منصوبے کو چترال کے لیے منظور کروا کر اس کی بنیاد رکھی تھی۔

دروش، سنگور اور ایون کا بچہ بچہ آج ان دونوں رہنماؤں کا تہہ دل سے شکر گزار ہے، ہم دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں رضیت باللہ صاحب کا اور شہزادہ افتخار الدین صاحب کا، جنہوں نے ہمیں مایوسی کے اندھیروں میں امید کی کرن دکھائی۔

حقائق کو تسلیم کرنا ہی انصاف کا اولین تقاضا ہے، اور یہی سچی سیاست ہے۔

اللہ پاک آپ دونوں صاحبان کو تندرستی کے ساتھ سلامت رکھیں اور یونہی چترال کی ترقی کے لئے آپ کو مزید طاقت دیں۔ آمین
🙏🏻❤️💐🥀🇵🇰👈🏻

07/07/2026

انا کی حدیں اور رشتوں کا بھرم ایک خاموش فیصلہ

انسانی فطرت کے مروجہ اصولوں میں خودداری اور غیرتِ نفس کو ایک خاص مقام حاصل ہے، زندگی کے سفر میں ہم بے شمار رشتوں اور تعلقات سے گزرتے ہیں، لیکن ہر تعلق کی عمر اس میں موجود مخلصی اور احترام پر منحصر ہوتی ہے۔

جب تک رشتوں میں اناؤں کا بھرم قائم رہے، وہ خوبصورت لگتے ہیں، مگر جیسے ہی کوئی رشتہ دلدل بننے لگے، وہاں سے خاموشی سے نکل جانا ہی دانشمندی ہے۔

خودداری بمقابلہ تعلق

تعلقات کی خوبصورتی اس وقت تک برقرار رہتی ہے جب تک دونوں طرف سے جذبوں میں تمازت اور خلوص شامل ہو۔

لیکن زندگی میں بعض اوقات ایسے موڑ آتے ہیں جہاں رشتے فریقین کی انا اور سرد مہری کی نذر ہو جاتے ہیں۔

احترامِ نفس:

اپنے وجود اور اپنی عزتِ نفس کا تحفظ ہر انسان کی اولین ذمہ داری ہے، کسی بھی ایسے رشتے کو زبردستی گھسیٹنا جس میں آپ کی قدر کم ہو رہی ہو، خود اپنی ذات کے ساتھ ناانصافی ہے۔

خاموشی سے کنارہ کشی:

جب تعلقات میں وہ پہلا سا رنگ نہ رہے، جب گفتگو محض ایک بوجھ بن جائے اور جذبات پھیکے پڑ جائیں، تو وہاں لڑنے جھگڑنے یا منتیں کرنے کی بجائے خود کو پیچھے ہٹا لینا ہی سب سے باوقار راستہ ہے۔

خود کا فیصلہ:

رشتوں کو ٹوٹنے کی نہج پر چھوڑ دینے کے بجائے، جب انسان خود یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اب الگ ہو جانا چاہیے، تو وہ اپنی انا کا بھرم بھی رکھ لیتا ہے اور اپنی خودداری کو بھی آنچ نہیں آنے دیتا۔

"رشتے زبردستی سے نہیں، دل کی آمادگی سے چلتے ہیں، جہاں خلوص ختم ہو جائے، وہاں خود ہی فاصلہ کر لینا دانشمندی ہے۔"

اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنا اور وقت آنے پر ایک مشکل مگر مضبوط فیصلہ لینا ہی ایک طاقتور شخصیت کی نشانی ہے۔

تعلق کا پھیکا پڑ جانا اس بات کا سگنل ہوتا ہے کہ اب آپ کو اپنی منزل کی طرف اکیلے اور زیادہ مضبوطی سے قدم بڑھانا ہے۔

06/07/2026

تعجب کی بات ہے!

ہمیں اکثر یہ بات حیران کرتی ہے کہ کچھ معاملات پر تو پلک جھپکتے ہی فوری توجہ دی جاتی ہے، مگر جب بات چترال کی معصوم عوام اور ان کے مفاد سے جڑے اہم مسائل کی ہو، تو وہ بدستور سرد خانے کی نذر نظر آتے ہیں۔

چترال، جو اپنی خوبصورتی اور سادگی کے لیے جانا جاتا ہے، آج کل مہنگائی اور لاقانونیت کے سائے میں سسک رہا ہے۔

وادیِ چترال میں ہوٹلوں کے من مانے چارجز ہوں، ٹرانسپورٹ کے آسمان سے باتیں کرتے کرائے، یا پھر سبزی فروشوں اور دیگر اشیائے ضروریہ کے خود ساختہ ریٹس، ہر جگہ عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے۔

ایسے میں سرکاری نرخ ناموں (Price Lists) پر سختی سے عمل درآمد کرانا اب محض ایک ضرورت نہیں، بلکہ وقت کی سب سے اہم پکار بن چکا ہے۔

متعلقہ اداروں اور انتظامیہ کو اب خوابِ غفلت سے جاگنا ہوگا۔ نرخ نامے صرف کاغذ کے ٹکڑوں پر جاری کر دینا کافی نہیں ہوتا؛

اصل کام ان پر مؤثر نگرانی اور عملی نفاذ کو یقینی بنانا ہے، جب تک بازاروں میں مجسٹریٹس خود نکل کر کارروائی نہیں کریں گے، تب تک ناجائز منافع خوری کا یہ جن قابو میں نہیں آئے گا۔

آئیں مل کر آواز اٹھائیں تاکہ چترال کے غریب اور سفید پوش عوام کو اس بے لگام مہنگائی اور ناجائز منافع خوری سے تحفظ مل سکے اور چترال کا امن و سکون برقرار رہے۔

Deputy Commissioner Lower Chitral
SP Resham Jehangir

Address

Chitral Ayun Muldeh
Chitral
17210

Telephone

+923449700938

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Irshad Ayun posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Irshad Ayun:

Share