Cherish Riders Tribe

Cherish Riders Tribe This page is promoting trend to Bike Riding with your family & life partner and search for non forma

دوستو آؤ کہ تجدیدِ وفا کا دن ہےساعتِ عہدِ محبت کو حِنا رنگ کریںخُونِ دِل غازہء رُخسارِ وطن ہو جائےاپنے اشکوں کو ستاروں س...
30/04/2026

دوستو آؤ کہ تجدیدِ وفا کا دن ہے
ساعتِ عہدِ محبت کو حِنا رنگ کریں
خُونِ دِل غازہء رُخسارِ وطن ہو جائے
اپنے اشکوں کو ستاروں سے ہم آہنگ کریں

عالمی یومِ ثقافتی ورثہ ہر سال 18 اپریل کو منایا جاتا ہے جس کا مقصد دنیا بھر میں تاریخی، ثقافتی اور تمدنی ورثے کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور ان کے تحفظ کے لیے شعور بیدار کرنا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قدیم عمارتیں، قلعے، مزارات، مندر، روایات، زبانیں اور ثقافتیں صرف ماضی کی یادگار نہیں بلکہ ہماری شناخت کا اہم حصہ ہیں۔
رواں برس عالمی یومِ ثقافتی ورثہ کے موقع پر گھنٹہ گھر ملتان میں والڈ سٹی اتھارٹی ملتان کے زیرِ اہتمام ایک پُروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کی نقابت کا اعزاز مجھے حاصل ہوا۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسول ﷺ سے ہوا جس کے بعد قومی ترانہ پیش کیا گیا۔
اس موقع پر ثقافتی جھومر، ڈاچی ڈانس اور گھریلو دستکاریوں کے حسین نمونے نمائش کے لیے رکھے گئے۔ ملتان کے معروف لوک فنکاروں نے اپنے فن کا شاندار مظاہرہ کیا جس نے تقریب کو چار چاند لگا دیے۔
اس پُروقار تقریب میں عامر شہزاد صدیقی (پی ٹی وی ملتان)، سئیں عارف ملغانی (معروف اینکر)، ڈاکٹر سید مزمل حسین (بانی وسیب ایکسپلورر) اور ملتان فورٹ کے انچارج صلاح الدین مزاری صاحب سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور فیمیلیز نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے ملتان کے 5 ہزار سالہ قدیم تاریخی و ثقافتی ورثے کے تحفظ، عظیم کوہِ سلیمان کے قدرتی مناظر اور اس خطے میں فروغِ سیاحت کی اہمیت پر زور دیا۔ آخر میں گھنٹہ گھر ملتان کی فضا "پاکستان زندہ باد" اور "یہ تو ہو گا" کے فلک شگاف نعروں سے گونج اُٹھی۔
عالمی یومِ ثقافتی ورثہ کی یہ تقریب نہ صرف ثقافت کا جشن تھی بلکہ والڈ سٹی اتھارٹی ملتان کی جانب سے نئی نسل کو اپنے ورثے سے جوڑنے کی ایک خوبصورت کاوش بھی تھی۔
آئیں، اپنی پہچان کو محفوظ بنائیں کیونکہ یہی ہمارا اصل ورثہ ہے۔
Wasaib Explorer Walled City Of Multan

کھولی ہیں ذوقِ دید نے آنکھیں تری اگرہر رہ گزر میں نقشِ کفِ پائے یار دیکھ  عالمی یومِ ورثہ کے موقع پر وسیب ایکسپلورر کی ج...
13/04/2026

کھولی ہیں ذوقِ دید نے آنکھیں تری اگر
ہر رہ گزر میں نقشِ کفِ پائے یار دیکھ

عالمی یومِ ورثہ کے موقع پر وسیب ایکسپلورر کی جانب سے ٹرین رائیڈ کا اہتمام کیا گیا۔ دِلوں کو جوڑتی شٹل ٹرین کا یہ سفر جذبات، تاریخ، محبت اور وسیب سے جڑنے کی ایک دلفریب داستان ثابت ہوا۔
اتوار کی صبح 5:30 بجے یہ کاروانِ سیاحت فخرِ وسیب ڈاکٹر سید مزمل حسین کی قیادت میں ملتان چھاؤنی سے روانہ ہوا۔ دو بوگیوں کا یہ سفر دو دہائیوں بعد ریل گاڑی پر میرا پہلا سفر بنا۔ یہ شٹل ٹرین درحقیقت وسیب کی دھڑکن ہے جہاں دوستی، مسکراہٹیں اور یادگار لمحات ہمارے ساتھ محوِ سفر رہے۔
طلوعِ آفتاب کی پُر کیف ساعتوں میں ریل گاڑی پر شیر شاہ پل عبور کرنے کا وہ حسین لمحہ!
ہوا، منظر اور ڈیڑھ صدی سے قائم اس شاہکار کا احساس۔۔۔سب کچھ دل میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا.!
مظفرگڑھ، لعل پیر، محمود کوٹ، سنانواں، کوٹ ادو غرض ہر اسٹیشن ایک نئی کہانی سناتا رہا۔
مشتاق انصاری صاحب اور نئے وسیبی مسافر کاشف صاحب کی طرف سے پیش کیا گیا لذیذ ناشتہ، بُدھ اسٹیشن پر گرما گرم چائے اور احباب کا اپنا پَن۔۔۔یہی تو وسیب کا اصل حُسن ہے!
پھر جب صابر پیا صاحب کا مترنم کلام گونجا تو وسیبی ٹرین میں ایک محفل سی سج گئی۔
تونسہ بیراج پر دریائے سندھ کا حسین منظر، گندم کے سنہری کھیت اور دور سے عظیم کوہِ سلیمان کی جھلک۔۔۔ان سب رنگوں نے مل کر ایک ایسی تصویر بنائی جو لفظوں سے زیادہ احساسات میں جھلکتی ہے۔
سفر کے اختتامی لمحات میں ملی نغموں نے کاروانِ سیاحت کے ساتھ دیگر مسافروں کے بھی دل موہ لیے۔ "دل دل پاکستان، سوہنی دھرتی…" ٹرین کا ہر ڈبہ حب الوطنی کے خوبصورت احساس سے گونج اٹھا۔
ڈیرہ غازی خان پہنچنے پر میزبانوں کی جانب سے پرتپاک استقبال، مقبرہ غازی خان میرانی پر تاریخ کی جھلک، گروپ فوٹوز، اعزازی اسناد اور وسیب کے تاریخی ورثہ اور ثقافت کے انمٹ نقوش۔۔۔یہ سفر ہمیں سکھا گیا کہ
"سیاحت صرف مقامات کھوجنے کا نام نہیں بلکہ یہ دلوں کو جوڑنے کا حقیقی جذبہ ہے!"

تُم جس خواب میں آنکھیں کھولو، اُس کا روپ اَمر۔۔تُم جس رَنگ کا کپڑا پہنو، وہ موسم کا رَنگ۔۔تُم جس پُھول کو ہَنس کر دیکھو،...
11/04/2026

تُم جس خواب میں آنکھیں کھولو، اُس کا روپ اَمر۔۔
تُم جس رَنگ کا کپڑا پہنو، وہ موسم کا رَنگ۔۔
تُم جس پُھول کو ہَنس کر دیکھو، کبھی نہ وہ مُرجھائے۔۔
تُم جس حَرف پہ اُنگلی رَکھ دو، وہ روشن ہو جائے۔۔

سرزمینِ وسیب کو ہمیشہ ایسی شخصیات کی ضرورت رہی ہے جو نہ صرف اس مٹی سے محبت کریں بلکہ اس کی پہچان کو دنیا بھر میں اجاگر کرنے کے جذبے سے سرشار ہوں۔
10 اپریل ایسی ہی ایک درخشاں شخصیت کا یومِ پیدائش ہے۔ بانی وسیب ایکسپلورر ڈاکٹر سید مزمل حسین صاحب جنوبی پنجاب اور عظیم کوہِ سلیمان کی سیاحت کا استعارہ ہیں۔ آپ نے کوہِ سلیمان کی فلک بوس چوٹیوں، پُر اسرار وادیوں، ثقافتی رنگوں اور تاریخی ورثے کو جس خوبصورتی سے دنیا کے سامنے پیش کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔
ڈاکٹر صاحب کی کاوشوں سے نہ صرف اس خطے کی سیاحت کو نئی جہت ملی بلکہ وسیب ایکسپلورر ایک تحریک بن کر ابھرا جہاں سے وسیب کی خوشبو ملک کے طول و عرض میں پھیل گئی۔ فخرِ وسیب ڈاکٹر سید مزمل حسین نے اس خطے میں سیفٹی گیجٹس کے ساتھ سکوٹری سیاحت کو فروغ دیا اور فلاحی سرگرمیوں، شجر کاری مہمات اور سماجی خدمت کے میدان میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر صاحب کی شخصیت سے متاثر ہو کر ملک اور بیرونِ ملک سے بے شمار افراد اس کاروانِ سیاحت کا حصہ بنے اور وسیبی ورثے کو اس کی حقیقی شناخت ملی۔
تاریخ، روایات اور محبتوں کے سنگم پیراں غائب ریلوے اسٹیشن پر فخرِ وسیب ڈاکٹر سید مزمل حسین صاحب کی سالگرہ کے حوالے سے سادہ مگر پُروقار تقریب منعقد کی گئی۔ یہ ریلوے اسٹیشن 1904 سے آج تک اپنی تاریخی حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ غروبِ آفتاب کے حسین منظر میں کیک کٹنگ کی تقریب نے ایک یادگار لمحہ تخلیق کیا۔ ریلوے اسٹیشن پر کھیلتے کودتے بچوں کو بھی اس خوشی میں شامل کیا گیا جن کی مسکراہٹوں نے تقریب کو اور بھی دلفریب بنا دیا۔
سالگرہ کا کیک Cherished Treats کی جانب سے تیار کیا گیا جو ایک ایسا برینڈ ہے جہاں محبت، معیار اور ذائقہ ایک ساتھ ملتے ہیں۔
چاکلیٹس، کیکس، کپ کیکس اور لذیذ بریانی کے ذریعے یہ برینڈ ہر تقریب کو یادگار بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر سید مزمل حسین صاحب نے تمام شرکاء کو چائے کے ساتھ یادگار لمحات سے لطف اندوز ہونے کا موقع دیا۔ اسی میٹ اپ میں ہیریٹیج ڈے کے حوالے سے ٹرین رائیڈ کے پروگرام کو بھی حتمی شکل دی گئی جو وسیب کی تاریخ سے جڑنے کا ایک اور خوبصورت قدم ہے۔
ہم دل کی گہرائیوں سے دعاگو ہیں کہ اللّٰہ مہربان ڈاکٹر صاحب اور ان کے اہل و عیال پر ہمیشہ شفیق و مہربان رہے اور انہیں اسی جوش و جذبے سے وسیب کی خدمت کا حوصلہ اور توانائی عطا کرتا رہے۔ آمین
Wasaib Explorer

قلعہ دراوڑ_ ریت کے سمندر میں کھڑی صدیوں پرانی اک داستاںچولستان کے بے کنار صحرا میں جب قلعہ دراوڑ کی پہلی جھلک نظر آئے تو...
16/03/2026

قلعہ دراوڑ_ ریت کے سمندر میں کھڑی صدیوں پرانی اک داستاں
چولستان کے بے کنار صحرا میں جب قلعہ دراوڑ کی پہلی جھلک نظر آئے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ریت کے سمندر میں صدیوں پرانا کوئی عظیم بحری جہاز لنگر انداز ہے۔
14 فروری کے رومانوی دن جب میں نے ملتان سے چولستان بائیک رائیڈ کا آغاز کیا تو میرے سامنے صرف رستہ نہیں تھا، درحقیقت وہ وقت کے صدیوں پرانے سفر کی شروعات تھی۔
بہاولپور اور ڈیرہ نواب صاحب کے تاریخی ورثہ کی سیر کے بعد جیسے جیسے شہر کی ہلچل کم ہوئی تو زمین کا رنگ بدلتا محسوس ہونے لگا۔ سڑک کے اردگرد ریت کے ٹیلے شروع ہوئے اور ہوا میں صحرا کی وہ مخصوص خاموشی شامل ہو گئی جو صرف چولستان کا خاصہ ہے۔
یہ روہی رنگ رنگیلڑی محض ایک صحرا نہیں بلکہ ہزاروں برس قدیم تہذیبوں کی گواہ ہے جہاں کبھی دریائے ہاکڑہ اپنی پُرزور موجوں کے ساتھ رواں دواں تھا۔ اس کے کناروں پر بستیاں آباد تھیں، قلعے تعمیر ہوئے اور زندگی اپنے عروج پر تھی۔
آج دریا تو خشک ہو چکا ہے مگر اس کے کناروں پر بکھرے کھنڈرات اور قلعوں کی قطاریں اب بھی اس گزرے زمانے کی داستان سناتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس قدیم دریا کے اطراف چار ہزار سال قبل مسیح سے لے کر اسلامی دور تک تہذیب و تمدن کے آثار ملتے ہیں۔
اسی تاریخی سرزمین کے قلب میں ریت کے ٹیلوں کے بیچوں بیچ ایک عظیم الشان قلعہ موجود ہے۔ قلعہ دراوڑ کی بلند فصیلیں، چالیس مضبوط برج اور مٹیالے رنگ کی دیواریں گویا صحرا کے سینے پر تاریخ کی مہر ثبت کر رہی ہوں۔
روایات کے مطابق اس قلعے کی بنیادیں تاریخِ اسلام سے بھی بہت پہلے رکھی گئیں۔ اس کا قدیم نام دیوراول تھا جو وقت کے ساتھ بدل کر دراوڑ ہو گیا۔
1733ء میں ریاست بہاولپور کے بانی نواب صادق محمد خان اول نے اسے دوبارہ تعمیر کروایا اور یوں یہ قلعہ صحرائے چولستان کا ایک عظیم محافظ بن کر ابھرا۔
قلعے کے اندر کنواں، رہائشی عمارتیں اور فوجی دستوں کے لیے مختص جگہوں کے آثار آج بھی ماضی کی جھلک دکھاتی ہیں۔ قلعے کے باہر سفید سنگ مرمر سے بنی ایک دلکش مسجد اور بہاولپور کے نوابوں کا شاہی قبرستان بھی موجود ہے۔ یہ جگہیں اس تاریخی ورثے کی اہمیت میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔ قلعہ دراوڑ محض ایک تاریخی عمارت نہیں بلکہ وقت کی ایک محفوظ یادگار محسوس ہوتی ہے۔
چولستان کی زندگی آسان نہیں۔ یہاں پانی نایاب ہے، بارش کم ہوتی ہے اور خانہ بدوش قبائل اپنی بکریوں، بھیڑوں اور اونٹوں کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے بنائے گئے تالاب جنہیں ٹوبہ کہا جاتا ہے یہاں کے لوگوں کے لیے زندگی کی علامت ہیں۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس سخت رہن سہن کے باوجود یہاں کے لوگ اپنی سرزمین سے بے حد محبت کرتے ہیں۔ اسی صحرا کی رومان بھری فضا کو صوفی شاعر خواجہ غلام فریدؒ نے اپنے کلام میں ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔
مقامی لوگ کہتے ہیں کہ چولستان کی سرابی فضا میں قلعہ دراوڑ کی دیواریں دن میں کئی بار رنگ بدلتی ہیں۔ شاید اسی لیے یہ قلعہ دیکھنے والوں کو ہر بار ایک نیا منظر دکھاتا ہے۔
میں دیر تک اس قلعے کے سامنے کھڑا رہا۔ ہوا ریت کو آہستہ آہستہ اڑا رہی تھی…
فصیلیں خاموشی سے صدیوں کی داستانیں سنا رہی تھیں…
صحرا کی وسعتوں میں کھڑا قلعہ دراوڑ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ وقت گزر جاتا ہے مگر تاریخ اپنی فصیلیں کبھی نہیں گراتی۔


زمینِ چمن گل کِھلاتی ہے کیا کیا بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسےشجاع آباد (فصیلوں میں آباد اک زندہ تاریخ)ملتان تا چولستان با...
04/03/2026

زمینِ چمن گل کِھلاتی ہے کیا کیا
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
شجاع آباد (فصیلوں میں آباد اک زندہ تاریخ)
ملتان تا چولستان بائیک رائیڈ کے اس تاریخی سفر میں جلالپور پیر والا کے بعد میرا اگلا پڑاؤ شجاع آباد تھا۔ ایک ایسا شہر جس کی بنیاد 18ویں صدی کے وسط میں رکھی گئی اور جسے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت فصیل بند کیا گیا۔
تاریخی ریکارڈ کے مطابق اس شہر کو تقریباً 1750ء کے قریب مغل دور کے گورنر نواب شجاع خان نے آباد کیا اور اپنے نام سے منسوب کیا۔ یہ محض ایک آبادی نہیں تھی بلکہ ایک دفاعی شہر تھا جس کے چاروں اطراف میں بلند فصیل، مضبوط اینٹوں کی دیواریں، گول برج اور متعدد دروازے تھے۔ یہ سب مغلیہ شہری دفاعی منصوبہ بندی کی واضح مثال ہیں۔
جب آپ والڈ سٹی کے قدیم دروازے کے نیچے سے گزریں تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے وقت کی دہلیز پار کر رہے ہوں۔ دروازے کے اوپر جھکتی اینٹیں، محرابی ساخت اور بازاروں میں روزمرہ کے معمولات زندگی کہ جیسے ماضی اور حال ایک ہی تصویر میں سانس لے رہے ہوں۔
آگے فصیل کے ساتھ چلتے ہوئے اس کی موٹائی اور برج نما ساخت صاف بتا رہی تھی کہ یہ شہر کبھی محض رہائش گاہ نہیں بلکہ ایک محفوظ قلعہ بند مرکز تھا۔ برطانوی دور کے ریکارڈ کے مطابق 18ویں اور 19ویں صدی میں شجاع آباد ملتان کے بعد ایک اہم انتظامی اور تجارتی مرکز سمجھا جاتا تھا۔
والڈ سٹی کے اندر موجود تاریخی مسجد کے دروازے پر قرآنی آیات کی خطاطی، محرابی ساخت، باریک نقاشی اور بالکونی کی خوبصورتی کٹائی مغلیہ طرزِ تعمیر کی جھلک پیش کرتی ہے۔ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے ریکارڈ میں جنوبی پنجاب کی مساجد میں اسی طرز کی خطاطی اور آرائشی عناصر کو نوابی و مغلیہ دور سے منسوب کیا گیا ہے۔
شہر کی تنگ گلیوں میں شانِ بے نیازی سے کھڑی بلند و بالا کوٹھی جسے مقامی لوگ “شیش محل” کہتے ہیں۔ تقسیمِ ہند سے پہلے کی یہ یادگار عمارت اپنی بلندی اور ساخت کے باعث اندرونِ شہر میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ اس کوٹھی کے ایک کمرے کی چھت شیشے کی بنائی گئی تھی جو اب بھی اسی طرح موجود ہے۔ ایسا طرزِ تعمیر جو برصغیر میں امراء کی رہائش گاہوں میں روشنی اور جمالیاتی حسن کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ ایسا فنِ تعمیر جو آج کے دور میں خواب لگتا ہے۔
تصور کریں… روشنی جب اس شیشے سے چھن کر اندر آتی ہوگی تو کمرہ ستاروں کی طرح جگمگاتا ہوگا۔ یہ عمارت اب بھی شجاع آباد کی بلند و بالا عمارتوں میں سے ایک ہے۔
ان تنگ قدیمی گلیوں میں چلتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ شجاع آباد صرف ایک تحصیل نہیں بلکہ یہ مغل عہد کی شہری منصوبہ بندی، دفاعی حکمتِ عملی اور ثقافتی ذوق کا زندہ ثبوت ہے۔
بانی شہر نواب شجاع خان سدوزئی کا مقبرہ محکمہ آثارِ قدیمہ کی عدم توجہی اور حکومتی بے حسی کے باعث شدید شکست و ریخت کا شکار ہے۔ اگر متعلقہ اداروں اور مقامی انتظامیہ نے اس تاریخی ورثہ کی جلد از جلد بحالی کے اقدامات نہ کیے تو یہ مقبرہ مکمل طور پر منہدم ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔
شہر کی فصیل کے کچھ حصے ٹوٹ چکے ہیں، دروازوں کی شان ماند پڑ چکی ہے مگر تاریخ اب بھی باقی ہے ان اینٹوں میں، محرابوں میں اور ان راستوں میں جہاں آج بھی زندگی ویسے ہی رواں ہے جیسے صدیوں پہلے تھی۔ یہ شہر جنوبی پنجاب کی وہ تہذیبی جھلک ہےجو ابھی مکمل طور پر محفوظ کیے جانے کی منتظر ہے۔

علی الصبح، چولستان کی ٹھنڈی ریت اور دھند میں لپٹا افق۔۔۔انجن کی مدھم آواز کے ساتھ سانسوں میں چولستان کی خوشبو لیے  واپسی...
27/02/2026

علی الصبح، چولستان کی ٹھنڈی ریت اور دھند میں لپٹا افق۔۔۔
انجن کی مدھم آواز کے ساتھ سانسوں میں چولستان کی خوشبو لیے واپسی کا سفر شروع ہوا تو احمد پور شرقیہ پہنچ کر میں نے جامپور رائیڈرز سے رخصت چاہی اور دیرینہ دوست مسعود اقبال صاحب کے دولت کدے کا رخ کیا۔ مسعود اقبال بھائی سینئر بائیکر ہونے کے ساتھ ایک باوقار، خوش مزاج اور دلکش شخصیت کے مالک ہیں۔ چولستان کی سنہری دھند سے نکل کر جب ان تک پہنچا تو گویا سفر کی تھکان لمحوں میں اتر گئی۔ پُرتکلف ناشتہ، گرم چائے اور محفلِ یاراں خوب جمی۔ یہ صرف ایک ملاقات نہیں تھی بلکہ بائیکرز کی وہ محبت تھی جو سڑکوں سے زیادہ دلوں کو جوڑتی ہے۔
احمد پور شرقیہ سے یادوں کی بارات لیے جلالپور پیروالا کی روحانی فضاؤں میں پہنچ کر محترم ظفر شاہ بخاری سے رابطہ کیا۔ حالیہ سیلاب کے دنوں میں ان کی فلاحی سرگرمیاں اس خطے میں امید کی علامت بن چکی ہیں۔
شہر میں داخل ہونے پر پُرتپاک استقبال نے دل جیت لیا۔ چائے اور جلالپور کے مشہور سوہن حلوے کی مٹھاس سے لطف اندوز ہونے کے بعد جلالپور کا تاریخی ورثہ دیکھنے کا موقع ملا۔
حضرت سید سلطان احمد قتال بخاری (آسمانِ تصوف کا درخشندہ ستارہ)
سلسلہ سہروردیہ کے عظیم بزرگ جن کا نسب 11ویں پشت میں جلال الدین بخاری سرخ پوش اور 28ویں پشت میں حضرت علی سے جا ملتا ہے۔
949ھ میں اوچ شریف میں پیدا ہوئے۔ 21 برس کی عمر میں تلاشِ حق میں نکلے اور کہروڑپکا میں حضرت پیر علی سرورؒ سے بیعت کی۔ حج بیت اللہ، روضۂ رسول ﷺ، کربلا اور نجف کی زیارات سے مشرف ہوئے۔
990ھ میں دریائے ستلج اور چناب کے سنگم پر اک بیابان میں قیام کیا۔ وہی مقام جہاں بعد ازاں ایک شہر آباد ہوا تو اپنے جدِ امجد کے نام پر “جلالپور” کہا گیا اور پھر یہی جلالپور پیروالا کہلایا۔
آپ کی تبلیغ اور حسنِ اخلاق سے ہزاروں افراد حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ 1041ھ میں وصال فرمایا اور یہیں آسودۂ خاک ہوئے۔
روایت ہے کہ شاہجہان نے اس دربار کی تعمیر کا حکم دیا۔ 1108ھ سے 1158ھ تک پچاس برس میں یہ عظیم الشان مزار مکمل ہوا۔ رنگ برنگی اینٹوں، کاشی کاری اور لکڑی کے نفیس کام سے مزین یہ مقبرہ آج بھی فنِ تعمیر کی نادر مثال ہے۔
قدیم شاہی مسجد جلالپور پیروالا (عظمتِ رفتہ کا استعارہ)
پانچ سو سال سے زیادہ قدیم یہ مسجد جس کے بارے میں مشہور ہے کہ اس کا سنگِ بنیاد شہنشاہ شاہجہان نے رکھا۔
مسجد کے احاطے میں ایک صدیوں پرانا درخت آج بھی ماضی کی گواہی دیتا ہے۔ اس کی دیکھ بھال ابتدا سے قاضی خاندان کے سپرد رہی۔ یہ جلالپور کی پہلی مسجد ہونے کا اعزاز بھی رکھتی ہے۔ گارے، مٹی اور چونے سے بنی یہ مسجد مسلم آرکیٹیکچر کا شاہکار ہے۔
چولستان کی ریت سے شروع ہونے والا یہ سفر دوستی کی مٹھاس، خدمتِ خلق کی خوشبو اور اولیاء اللہ کی سرزمین کی روحانیت میں ڈھلتا محسوس ہوا۔ سفر کا اصل حسن راستے نہیں، راستوں میں ملنے والے لوگ ہوتے ہیں۔
ظفر شاہ صاحب اور ان کی ٹیم کا تہہ دل سے شکریہ کہ آپ جیسے لوگ ہی معاشرے کا اصل سرمایہ ہیں۔
جنوبی پنجاب محض جغرافیہ نہیں بلکہ یہ تاریخ، تصوف، تہذیب اور انسان دوستی کا زندہ استعارہ ہے۔

صادق گڑھ پیلس (ایک کھوئی ہوئی سلطنت کی بازگشت)ملتان سے چولستان میری بائیک رائیڈ جاری تھی۔انجن کی آواز، ٹریفک کا شور، سرد...
20/02/2026

صادق گڑھ پیلس (ایک کھوئی ہوئی سلطنت کی بازگشت)
ملتان سے چولستان میری بائیک رائیڈ جاری تھی۔
انجن کی آواز، ٹریفک کا شور، سرد ہوا اور دل میں سالانہ جیپ ریلی کا جوش
بہاولپور کے تاریخی نور محل کا وزٹ کرنے کے بعد ریاست بہاولپور کا ہیڈکوارٹر ڈیرہ نواب صاحب اب زیادہ مسافت پر نہیں تھا۔ احمد پور شرقیہ سے قلعہ دراوڑ کی سمت جاتی شاہراہ سے ایک سڑک الگ ہوئی۔ سنسان اور خاموش کہ جیسے کسی راز کی محافظ ہو۔ یہی راستہ لے جاتا ہے صادق گڑھ پیلس تک
صادق گڑھ پیلس اپنے دامن میں عظمتِ رفتہ کی کئی کہانیاں سموئے ہوئے ہے۔
پیلس کی طرف جانے والی سڑک کا منظر عجیب ہے ایک طرف ایک نالہ بہتا ہے تو دوسری جانب آسیب زدہ درختوں کی قطار۔ یہ آسیب اس وقت مزید گہرا ہو جاتا ہے جب آپ ایک دیو ہیکل دروازے سے صادق گڑھ پیلس میں داخل ہوتے ہیں۔
پہلی نظر میں دل عش عش کر اٹھتا ہے۔ اس کی خوبصورتی وائیٹ ہاؤس سے کسی طور بھی کم نہیں لیکن جیسے ہی اس محل کے اندر داخل ہوتے ہیں دل سے ایک سرد آہ نکلتی ہے۔ ان در و دیوار پر چھایا آسیب دراصل وہ قومی بے حسی ہے جس نے اس شاندار محل کو کھنڈر میں بدل دیا ہے۔
ڈیرہ نواب صاحب کبھی عباسی فرماں رواؤں کا پایہ تخت تھا جن کا عہدِ حکومت اڑھائی سو سال پر محیط ہے۔ جن میں سے 50 سال ریاست کی تشکیل میں صرف ہوئے اور جب یہ ریاست بن گئی تو انہوں نے نئی بستیاں بھی بنائیں اور اپنے لیے محلات بھی بنائے۔ ڈیرہ نواب صاحب میں موجود صادق گڑھ پیلس دراصل ایک وسیع کمپلیکس ہے جس میں تین رہائشی محلات اس کے عین عقب میں واقع ہیں جنہیں مبارک محل، راحت محل اور صادق محل کہتے ہیں۔ یہ تینوں رہائشی حصے اندرونی سرنگوں کے ذریعے بھی ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور پھر یہ سرنگیں باہر کھیتوں کی طرف بھی کھلتی ہیں۔
مرکزی دروازے کے سامنے اور محل کے درمیان ایک بارہ دری ہے جس کے اطراف میں کبھی رنگ برنگے پھولوں سے مزین لان ہوا کرتے ہوں گے جہاں تتلیاں طواف کرتی رہتی ہوں گی مگر اب وہاں جڑی بوٹیوں کی حکمرانی ہے۔ محل کے برآمدے سے سفید سنگ مرمر کی سیڑھیاں پہلی بالکونی کی طرف لے جاتی ہیں۔ آگے سفید سنگ مر مر کا بنا ہوا انتہائی خوبصورت فوارہ ہے اور اس کے آگے مرکزی دربار ہے۔ جس کی شان و شوکت کا اندازہ یہاں پر نصب ایک بہت بڑے شیشے سے بھی کیا جا سکتا ہے جس کو نواب صاحب نے خصوصی طور پر انگلینڈ سے منگوایا تھا۔ کہتے ہیں کہ جب یہ آئینہ بحری جہاز سے کراچی کی بندرگاہ پر اتارا گیا تو اسے ریلوے کے ذریعے بہاولپور لایا گیا جس کے لیے کئی پلیٹ فارم چوڑے کرنے پڑ گئے۔ اس شیشے کے آگے شاہی چبوترہ ہے جہاں نواب صاحب اپنے مشیران کے ساتھ بیٹھ کر امورِ ریاست سرانجام دیا کرتے تھے مگر اب اس چبوترے میں استعمال ہونے والی لکڑیاں بھی اکھڑ رہی ہیں اور اس پر موجود ایرانی قالین گل سڑ چکا ہے۔ اس ہال نما شاہی دربار کی چھت پر کی گئی کندہ کاری اور اس میں کھلنے والی بالکونیوں کی شان و شوکت کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ قدیم روم اور ہندوستانی طرز تعمیر کو اس میں یکجا کر دیا گیا ہے۔
صادق گڑھ پیلس کا سنگ بنیاد نواب صادق خان عباسی چہارم نے 1882 میں رکھا تھا اور دس سال کے عرصے میں 15 لاکھ روپے سے اس کی تکمیل ہوئی تھی۔ 15 ہزار مزدوروں اور کاریگروں نے یہاں کام کیا تھا جن کی نگرانی اطالوی ماہرین تعمیرات نے کی تھی ۔ 24 مربعوں پر محیط یہ محل جمال و جلال کا شاہکار ہے۔ اس کی 50 فٹ اونچی فصیلیں ایک کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہیں جس کے ہر کونے پر فوجی بیرک بھی موجود ہے جہاں پر پہرہ دار تیر کمانیں سنبھالے کھڑے ہوتے ہوں گے۔ محل کے وسط میں ایک شاندار گنبد ہے۔ چاروں طرف بر آمدے ہیں برجیوں کے نچلے حصے میں تہہ خانے ہیں۔ جہاں ریاست کا خزانہ رکھا جاتا تھا۔ اس خزانے میں استعمال ہونے والی بھاری لوہے کے سیف آج بھی اس انداز سے کھلے ہوئے ہیں جیسے کسی نادر شاہی حملے کا شکار ہوئے ہوں۔ ایک جگہ پر دیوار کو توڑا گیا ہے اور اس کے درمیان سے ایک سوراخ کہیں آگے کی جانب موجود خزانے کا پتہ دیتا ہے جسے تلاش کر کے نکال لیا گیا ہو گا۔
مرکزی ایوان کے اندر دربار ہال اور اس سے متصل دونوں جانب وسیع ڈائننگ ہال ہیں۔ نواب آف بہاولپور کے نواسے پرنس قمر الزمان عباسی نے اپنی کتاب میں اس کی منظر کشی ان الفاظ میں کی ہے،
"خواب گاہ سے لے کرڈرائنگ روم، ڈریسنگ روم، غسل خانے اور دفتر کے کمرے تمام شاہی لوازمات سے خود کفیل ہیں۔ ہر کمرے کی چھت، فرش اور درو دیوار سے نفاست اور خوبصورتی جھلکتی ہے۔ سامانِ آرائش اور فرنیچر بڑے اعلیٰ درجے کا ہے، کمروں میں قدِ آدم آئینے اور بلوری فانوس لگے ہوئے ہیں۔ کرسیوں، میزوں اور گلدانوں پر ایک ہی طرح کا رنگ ہے۔ آرٹ کے بہترین نمونے، نوادرات اور قیمتی پردے اس قصرِ عالی شان کے وقار میں اضافہ کرتے ہیں۔ محل میں ایک چڑیا گھر بھی ہے جس میں انواع و اقسام کے پرندے اور جانور ہیں۔ محل کے اندر کئی جانوروں کو حنوط کر کے رکھا گیا ہے۔"
محل میں سینما گھر کی عمارت بھی ہے جو اب گر چکی ہے۔ مسجد اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ کھڑی ہے مگر یہاں اذان دینے والا کوئی نہیں ہے۔ یہاں بجلی پیدا کرنے کے لیے ایک پاور ہاؤس بھی تھا جس کی آسمان کو چھوتی چمنی سے آج بھی ماضی کی روشنیاں جھلکتی ہیں۔ محل کے ساتھ درجن بھر گاڑیوں کو پارک کرنے کا ایک گیراج بھی ہے جہاں دو چار رولز رائس آج بھی گرد سے اٹی پڑی ہیں۔ ان گاڑیوں کی مرمت کے لیے ورکشاپ بھی موجود ہے۔
محل کی دوسری منزل پر ایک شاندار لائبریری بھی تھی جس میں نادر و نایاب کتابوں کا ذخیرہ تھا اور اس لائبریری کے ساتھ ہی خواجہ غلام فرید کا کمرہ بھی ہے۔
ایک روایت کے مطابق نواب صادق خان اپنی دوسری بیگم گامن گدوھکن کو دلہن بنا کر اسی محل میں لائے۔ نواب صاحب نے اس خاتون کو بہاولنگر کی کسی جیل یا قید خانے میں دیکھا اور اس پر فریفتہ ہو گئے۔ سیمابی طبیعت پر عاشق مزاجی در آئی۔ فوراً اسے رہا کروایا اور اس سے شادی کا فیصلہ کر لیا۔ اس بیگم سے نہایت عشق تھا اس کے مزاج کے مطابق پیراہن زیب تن کرتے۔ عشق و محبت کی بارش برستی رہی مگر کوئی پھول نہ کھل سکا۔ جس شانِ خسروانہ سے بیگم کے برقِ جمال کی تجلی ان برسوں میں گرتی رہی پھر کبھی نصیب نہ ہو سکی کیونکہ شادی کے قلیل بندھن میں ہی بیگم کا انتقال ہو گیا تھا۔
صادق گڑھ پیلس جہاں وقت کے کئی راجے مہاراجے، برطانوی شاہی خاندان کے افراد، وائسرائے اور اہم سیاسی افراد آئے وہ عہدِ رفتہ کی ایک ایسی داستان لیے ہوئے ہے جو لالچ، خون کی سفیدی اور عیاری و مکاری سے عبارت ہے۔ وہ محل جس کے مکین عدل و انصاف کے پیامبر تھے ان کے ساتھ ناانصافیوں کی تمام حدیں پار کر کے اس محل کو کھنڈر بنا دیا گیا۔
اس شاندار محل کی تباہی کا آغاز تو اسی وقت ہو گیا تھا جب ریاست بہالپور کے نواب سر صادق خان عباسی 1966 میں لندن میں انتقال کر گئے تو اس کے ساتھ ہی محل کی ملکیت پر تنازع کھڑا ہو گیا۔ نواب صاحب کے دس بیٹے، دس بیٹیاں اور تین بیوائیں تھیں جو جائیداد کی تقسیم کے لیے متحرک ہو گئے۔ لیفٹیننٹ جنرل ایس ایم عباسی جو کہ ضیا دور میں گورنر سندھ تھے اور بہاولپور کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے انہوں نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے 1984 میں محل کو سیل کروا دیا جو 2005 تک 21 سال سیل رہا۔
اس دوران اس محل کے ساتھ کیا بیتی؟
محل عدالتِ عظمیٰ کے حکم پر بند تھا کیونکہ وارثان میں مقدمہ بازی چل رہی تھی۔ چنانچہ محل کا جائزہ لینے والے کمیشن کی رپورٹ کے مطابق محل میں حنوط شدہ چیتے کی آنکھیں تک نکال لی گئی تھیں شاید آنکھوں کی جگہ قیمتی پتھر لگے ہوئے تھے۔ محل کی دیوار پر ایک بڑی سی تصویر لگی ہوئی تھی جس میں برطانوی فوجیوں کا جتھہ دشمن پر حملہ کر رہا تھا۔ یہ تصویر دنیا کے مشہور مصور ٹامس جان بیکر کی بنائی ہوئی تھی۔ ایک تصویر بکنگھم پیلس اور دوسری صادق گڑھ پیلس میں آویزاں کی گئی تھی۔ اس کی قیمت اس وقت دو تین ملین پاؤنڈ ہو گی۔
بعد میں معلوم ہوا کہ وہ بھی چوری کر لی گئی ہے۔ یہاں سے تمام نوادرات غائب کر دیے گئے۔ کرسٹل کی بنی ہوئی کرسیاں اور فانوس جو ہالینڈ سے بن کر آئے تھے انہیں بھی محل سے چوری کر لیا گیا۔ محل کے تہہ خانہ میں ایک اسلحہ خانہ تھا جس میں دنیا کی قیمتی ترین بندوقوں کا ذخیرہ تھا۔ بیلجئم اور انگلستان کے بنے ہوئے قیمتی پستول بھی تھے جو سینکڑوں کی تعداد میں تھے۔ جن کی قیمت 20 ہزار پاؤنڈ سے تین لاکھ پاؤنڈ تک ہوتی ہے اور جن پر سونے کی کشیدہ کاری کی گئی تھی۔
محل کے گیراج میں دنیا کی قیمتی ترین گاڑی رولز رائس کا ایک جم غفیر موجود تھا۔ ان کے بارے میں روایت ہے کہ نواب صاحب رولز رائس بنانے والی فیکٹری گئے وہاں تین گاڑیاں موجود تھیں۔ نواب صاحب نے قیمت پوچھی تو سیلز مین نے ہتک آمیز نظروں سے جواب دیا کہ تمہاری سوچ اور جیب سے بہت زیادہ ہے۔ جس پر نواب صاحب نے مینیجر کو بلایا اور کہا کہ اس سال جتنی رولز رائس گاڑیاں بنیں وہ بہاولپور پہنچا دی جائیں۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ قائداعظم جس گاڑی پر بیٹھ کر لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے گورنر جنرل کا حلف لینے گئے تھے وہ بھی نواب آف بہاولپور نے دی تھی۔
اب اس محل میں کوئی قیمتی چیز نہیں بچی۔ محل میں زیادہ تر چوریاں اسی 21 سال کے عرصے میں ہوئیں جب یہ محل سیل رہا۔ یہ قیمتی اشیا یا تو بیرون ملک سمگل ہو گئیں یا پھر کچھ طاقتور طبقے کے ڈرائینگ رومز کی زینت بن گئیں۔
اب اس محل کا مستقبل کیا ہے؟ کیا یہ قیمتی ورثہ قصہ پارینہ بن جائے گا یا پھر اس کی بحالی کی کوئی صورت نکل سکتی ہے؟
چولستان کی گرد اڑتی رہی اور تاریخ خاموش کھڑی مجھے دیکھتی رہی۔
"یہ محل ویران نہیں دراصل ہم ویران ہو چکے ہیں۔"

ملتان تا چولستان (ایک سولو بائیکر اور تاریخی ورثے کی چمک)چولستان جیپ ریلی 2026 میں شرکت کے لیے میں ملتان سے اپنی بائیک پ...
17/02/2026

ملتان تا چولستان (ایک سولو بائیکر اور تاریخی ورثے کی چمک)
چولستان جیپ ریلی 2026 میں شرکت کے لیے میں ملتان سے اپنی بائیک پر روانہ ہوا تو دل میں صحرا کی پکار تھی بائیک پر کیمپنگ کا سامان اور سامنے قومی شاہراہ۔ میرا پہلا پڑاؤ تھا بہاولپور جسے نوابوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ دن کی دھوپ میں شہر کی فضا میں ایک عجب ٹھہراؤ تھا کہ جیسے وقت یہاں آہستہ چلتا ہو۔
چائے کے بعد میرا رخ ہوا ایک ایسے محل کی جانب جو اس خطے کی شان ہے۔ نور محل جِسے پاکستان کا تاج محل بھی کہا جاتا ہے۔
یہ محل 1872ء میں ریاست بہاولپور کے نواب امیر صادق محمد خان چہارم نے اپنی ملکہ کے لیے تعمیر کروایا۔ کہتے ہیں کہ یہ شاہانہ رہائش گاہ کے طور پر بنایا گیا تھا مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ محل کی بالائی کھڑکیوں سے ملک شاہ قبرستان نظر آتا تھا جسے منحوس شگون سمجھ کر شاہی خاندان نے یہاں صرف ایک رات ہی قیام کیا۔ یوں یہ محل رہائش گاہ کے بجائے ریاستی تقاریب اور مہمانوں کی میزبانی کا مرکز بن گیا۔
جب میں اس عظیم الشان ورثے کے سامنے کھڑا تھا تو اس کی یورپی طرزِ تعمیر مجھے برصغیر کی زمین پر ایک اطالوی خواب محسوس ہوئی۔ ہموار محرابیں، کرنتھیائی ستون، نیم گول گنبد اور مکمل توازن پر مبنی نقشہ کہ جیسے روم کا کوئی خواب بہاولپور میں تراشا گیا ہو۔ نور محل کا رقبہ تقریباً 4140 مربع میٹر ہے اور وسیع دربار ہال کی بیرل نما چھت رنگین نقوش سے مزین ہے۔ جس میں آٹھ کونوں والے اسلامی شمسی ڈیزائن جڑے ہوئے ہیں۔ چاروں کونوں پر مینار نما ٹاورز اور سامنے آٹھ پہلو گنبد جو بعد میں تعمیر ہونے والے صادق گڑھ پیلس کے طرز کی جھلک پیش کرتا ہے۔
دربار ہال کی بلند چھت، قدیم فانوس، نوابی فرنیچر، شاہی ہتھیار، پرانی تصاویر، نادر نوادرات اور آرٹ گیلری یہ سب ماضی کی کہانیاں سناتے ہیں اور دیواروں پر آویزاں پورٹریٹس میں ریاستی وقار جھلکتا ہے۔
نور محل کے سبزہ زار میں "انڈس کوئین" کا یادگار مجسمہ بھی موجود ہے جو اس خطے کی تہذیبی شناخت اور دریائے سندھ کی عظمت کی علامت ہے۔ یہ صرف ایک محل نہیں بلکہ جنوبی پنجاب کی ثقافت، سیاست اور جمالیات کا آئینہ ہے۔
مجھے سب سے زیادہ حیرت اس کے قدرتی کولنگ سسٹم پر ہوئی۔ اُس دور میں بجلی نہیں تھی، مگر شمال-جنوب رخ پر بنائی گئی سرنگوں اور پانی کے حوضوں کے ذریعے ہوا کو ٹھنڈا کر کے کمروں تک پہنچایا جاتا تھا۔ موٹی دیواریں گرمی اور سردی کے اثرات کو متوازن رکھتی تھیں۔ یہ فنِ تعمیر کی وہ ذہانت ہے جو آج کے جدید ڈیزائن کو بھی شرمندہ کر دے۔
قیامِ پاکستان کے بعد یہ محل محکمہ اوقاف کے زیر انتظام آیا اور بعد ازاں پاک فوج کے حوالے کیا گیا۔ آج یہ بحال شدہ حالت میں ایک میوزیم اور آفیسرز کلب کے طور پر محفوظ ہے۔ خوش نصیبی کہ یہ صادق گڑھ پیلس کی طرح ویرانی کا شکار نہیں ہوا۔
جب میں نور محل کے زینے سے نیچے اترا تو سورج کی تپش بڑھ چکی تھی جبکہ میری بائیک باہر پارکنگ ایریا میں کھڑی تھی اور عظیم چولستانی صحرا اب بھی میرا منتظر تھا مگر اس سے پہلے میں تاریخ کے ایک روشن باب سے گزر چکا تھا۔ چولستان کی سنہری ریت کو چُھو لینے سے پہلے میں نوابوں کی روشنی سے ہو کر آیا تھا۔
نور محل صرف ایک عمارت نہیں بلکہ یہ ریاستی وقار، نوابی ذوق، یورپی اثرات اور برصغیر کی سیاسی تاریخ کا سنگم ہے۔
چولستان کے صحرا کی طرف بڑھتے ہوئے یہ روشن محل میرے سفر کی پہلی یادگار بن گیا جہاں تاریخ نے صحرا سے پہلے دل کو فتح کیا۔

حضرت مولانا حامد علی خان نقشبندی مجددیؒ — (علم و عمل اور روحانیت کا روشن مینار)ملتان فورٹ کے قرب میں واقع حضرت حامد علی ...
06/02/2026

حضرت مولانا حامد علی خان نقشبندی مجددیؒ — (علم و عمل اور روحانیت کا روشن مینار)
ملتان فورٹ کے قرب میں واقع حضرت حامد علی خان نقشبندی مجددیؒ کا مزارِ اقدس ایک روحانی مقام ہی نہیں بلکہ ایسا تجربہ ہے جہاں نظر، دل اور احساس تینوں یکجا ہو جاتے ہیں۔
حضرت حامد علی خانؒ نے ہندوستان سے ہجرت کے بعد ملتان کو اپنی دعوت اور خدمت کا مرکز بنایا۔ آپ سلسلۂ نقشبندیہ مجددیہ کے وہ بزرگ تھے جنہوں نے تبلیغِ اسلام، اصلاحِ نفس اور دینی تربیت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ ایک مرتبہ ممبر قومی اسمبلی منتخب ہونا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ آپ تیلیغِ دین کے ساتھ معاشرے کی نبض سے بھی واقف تھے۔
آپ کا وصال 1980ء میں ہوا اور آپ کی نمازِ جنازہ حضرت علامہ احمد سعید کاظمیؒ نے پڑھائی— یہ اعزاز خود آپ کے عظیم مقام کی روشن دلیل ہے۔
مزار سے متصل مسجد اس روحانی احاطے کی سب سے دلکش اور باوقار پہچان ہے۔ اس کے گنبد پر پھیلی ہوئی خطاطی اور گلکاری یوں محسوس ہوتی ہے کہ جیسے آیاتِ قرآنی آسمان سے اتر کر رنگوں میں ڈھل گئی ہوں۔ مرکزی گنبد کے اندرونی نقش و نگار نہایت باریک اور متوازن ہیں۔ ہر دائرہ، ہر تحریر اور ہر رنگ ذکر میں ڈوبا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ یہ محض سجاوٹ نہیں بلکہ ایک خاموش عبادت ہے جو دیواروں پر ثبت ہے۔
مسجد کی محراب اپنی نفاست میں بے مثال ہے۔ سفید نقش دار محراب، کندہ کاری کے نازک ستون اور لکڑی کا نفیس منبر— یہ سب مل کر عبادت کو جمالیاتی دلکشی عطا کرتے ہیں۔ یہاں پہنچ کر یوں لگتا ہے کہ جیسے وقت رک سا گیا ہو اور ہر سجدہ زیادہ بامعنی ہو گیا ہو۔
کشادہ صحن میں سنگِ مرمر کی ترتیب قلبی سکون کی علامت ہے جبکہ بلند مینار اور گنبد رنگوں کی ایسی ہم آہنگی پیش کرتے ہیں جو ملتان کی روایتی روح کو جدید نفاست سے جوڑتی ہے۔ نیلا، سبز، سفید اور سنہری رنگ—یہ امتزاج آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل کو قرار دیتا ہے۔
دربار کے حصے میں موجود باریک نقش و نگار اور رنگین ٹائل ورک اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہاں حسن کو عبادت سمجھ کر تراشا گیا ہے۔ ہر پھول، ہر بیل، ہر لکیر— خاموشی سے تصوف کی زبان بولتی ہے۔
اسی روحانی مرکز کے پہلو میں قائم مدرسہ خیرالمعاد حضرت مولانا حامد علی خان نقشبندی مجددیؒ کے فکری ورثے کا تسلسل ہے۔ یہ مدرسہ صرف دینی تعلیم و تربیت کا ادارہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی شناخت رکھنے والا علمی مرکز ہے جہاں علم، تربیت اور اعتدال ایک ساتھ سانس لیتے ہیں۔
اس پورے روحانی و تاریخی سفر کی رہنمائی ملتان کے معروف ٹورسٹ گائیڈ عامر بشیر صاحب نے کی جو بانکے میاں کے نام سے مشہور ہیں۔ ملتان کے دربار، گلیاں اور گمشدہ تاریخ ان کی آواز میں زندہ ہو اٹھتی ہے۔ ان کی رہنمائی نے اس ورثے کو صرف دکھایا نہیں بلکہ محسوس کروایا۔
یہ مزار، یہ مسجد اور مدرسہ— یہ سب مل کر اعلان کرتے ہیں کہ جب اخلاص، علم اور حسنِ تعمیر ایک جگہ جمع ہوں تو وہ مقام تاریخ نہیں بلکہ روحانی ورثہ بن جاتا ہے۔
Amir Bashir Wasaib Explorer

مقبرہ شیخ سادن شہیدؒ(تاریخ کا وہ باب جہاں کتابیں گُنگ مگر سنگ و خشت قوتِ گویائی کا مرکز ہیں)ہیڈ محمد والا سے چند کلومیٹر...
25/01/2026

مقبرہ شیخ سادن شہیدؒ
(تاریخ کا وہ باب جہاں کتابیں گُنگ مگر سنگ و خشت قوتِ گویائی کا مرکز ہیں)
ہیڈ محمد والا سے چند کلومیٹر کی مسافت پر یہ تاریخی مقبرہ موجود ہے جو مقامی روایات کے مطابق شیخ سادن شہیدؒ سے منسوب ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانیؒ کے کزن اور مخدوم عبدالرشید حقانیؒ کے بھائی تھے۔
آپ نے 1286ء میں جنگِ بیاص میں شہزادہ محمد خان (فرزندِ سلطان غیاث الدین بلبن) کے شانہ بشانہ منگولوں کے خلاف لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔
اس معرکے نے منگولوں کو اس خطے سے پسپا کر دیا اور یہی وہ فتح تھی جس کے بعد مسلمانوں کی گرفت ایک بار پھر مضبوط ہوئی۔
جیسے ہی اس مقبرے کی عمارت کو غور سے دیکھیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ خود اپنی کہانی سنانا چاہتی ہے۔ مقبرے کی مشرقی داخلی دیوار پر دائیں سے بائیں گولائی میں بسم اللّٰہ اور قرآنِ کریم کی سورہ فتح کی آیات کندہ کی ہوئی ہیں۔
یہی آیات غزنوی اور غوری دور کی عمارتوں میں ملتی ہیں۔ جہاں یہ آیات اللّٰہ کی راہ میں نکلنے، جہاد اور فتح کی علامت سمجھی جاتی تھیں۔
یہ دیوار دو واضح اشارے دیتی ہے:
اول، یہ عمارت غزنوی یا غوری دور سے تعلق رکھتی ہے۔
دوم، یہاں مدفون شخصیت ایک مجاہد تھی۔
مقبرے کے بند جھروکے نما طاق دل کو موہ لینے والے ہیں۔ کہیں خطِ کوفی میں اللّٰہ، کہیں الملک للّٰہ اور نیچے کی پٹی میں یا اللّٰہ کی مسلسل تکرار جن کے درمیان اینٹوں سے تراشے گئے بیل بوٹے اس دور کے معماروں کی غیر معمولی مہارت کا اعلان کرتے ہیں۔
مگر جیسے ہی جنوبی دیوار کی طرف بڑھتے ہیں طرزِ تعمیر یکسر بدل جاتا ہے۔
یہاں اللّہ کے اسمائے گرامی کی جگہ بیل بوٹوں نے لے لی ہے۔ یہ فرق ہمیں وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیبی سوچ اور ہندو و بدھ مت کے فنِ تعمیر کی علامتی سمتوں تک لے جاتا ہے، جہاں جنوب کو اختتام اور فنا کی سمت سمجھا جاتا تھا۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اس دور میں فنون کا ایسا امتزاج کوئی غیر معمولی بات نہیں تھا۔
ایک اور اشارہ اس مقبرے میں موجود ایک شکستہ عمارتی تحریر سے ملتا ہے جو کبیروالہ کے مقبرہ خالد ولید کی تحریر سے حیرت انگیز مشابہت رکھتی ہے۔ گویا دونوں عمارتیں ہم عصر ہوں۔
یہ قدیم مزار صرف ایک مقبرہ نہیں بلکہ جہاد، فنِ تعمیر اور گمشدہ تاریخ کی وہ گواہی ہے جہاں عہدِ رفتہ کی داستانیں آج بھی خاموش اینٹوں میں سانس لیتی ہیں۔


Address

Dera Ghazi Khan, Punjab
Dera Ghazi Khan
32200

Telephone

+923124761652

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Cherish Riders Tribe posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category