26/07/2026
"دشتِ لیلیٰ سے بڈگوئی ٹاپ تک—ایک یادگار رات۔" کبھی کبھی سفر صرف منزل تک پہنچنے کا نام نہیں ہوتا، بلکہ راستے میں ملنے والے لوگ اور لمحے انسان کے دل پر ہمیشہ کے لیے نقش چھوڑ جاتے ہیں۔ میں نے اپنا سفر دشتِ لیلیٰ سے شروع کیا۔ ارادہ یہی تھا کہ بڈگوئی ٹاپ پہنچ کر نیچے کی طرف روانہ ہو جاؤں، لیکن قدرت نے شاید میرے لیے کچھ اور ہی لکھ رکھا تھا۔ جیسے ہی بڈگوئی ٹاپ پہنچا، وہاں کی دلکش وادیاں، ٹھنڈی ہوا اور سرسبز پہاڑوں نے مجھے اپنے سحر میں جکڑ لیا۔ اسی دوران ایک پشتون ہوٹل پر روکا، جسکے مالک نے جس خلوص، محبت اور مہمان نوازی سے میرا استقبال کیا، وہ آج بھی میرے دل میں زندہ ہے۔ ایک انجانے ہونے کے باوجود بھی ایسا لگا جیسے اپنے ہی لوگوں کے درمیان بیٹھا ہوں۔ اسی محبت نے میرا ارادہ بدل دیا اور میں نے وہیں رات گزارنے کا فیصلہ کیا۔ رات ڈھلی تو موسم نے ایک اور حسین رنگ دکھایا۔ موسلا دھار بارش، ٹھنڈی ہوائیں، بادلوں کی گرج، اور چاروں طرف پھیلی خاموشی۔ ان سرسبز پہاڑوں کے درمیان وہ لمحے ایسے تھے جنہیں الفاظ میں مکمل بیان کرنا آسان نہیں۔ فطرت اپنی پوری شان کے ساتھ میرے سامنے تھی اور میں ہر لمحہ اپنے رب کی قدرت پر حیران ہوتا رہا۔ کچھ سفر تصویروں میں قید ہو جاتے ہیں اور کچھ دل میں ہمیشہ کے لیے بس جاتے ہیں۔ بڈگوئی ٹاپ کی یہ رات میرے لیے انہی یادگار لمحوں میں سے ایک ہے جسے میں شاید کبھی فراموش نہ کر سکوں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے ایسے خوبصورت مناظر، مخلص لوگوں اور یادگار لمحوں سے نوازا۔