22/08/2024
"یہ الجھے ہوئے غیر واضح تصورات" (misconceptions) کا دور،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ علم کے نام پر جہالت کا زمانہ، یہ جذباتی مذہبیت کے ایام، یہ تخلیق کی بجائے توجیہات کے شب و روز، یہ تعصبات سے بھرے نفرت کے ماہ و سال، یہ جانتے بوجھتے ناقدری کا دور، یہ سیاسی عیّاری و مکاری کا زمانہ، جس میں میرا قائد روشن آفتاب کی صورت جلوہ گر ہے لیکن نابینائی کی دبیز چادر نے آنکھوں کو محرومِ ضیاء کر دیا ہے۔ میرا قائد علمِ توجیہی (interpretational knowledge) کا قائل نہیں بلکہ علمِ تخلیقی (creational knowledge) کا پیامبر ہے، اس لیے توجیہات کے پروردہ عالم کہلانے والوں کو اس کی ہر تخلیق سے چِڑ ہے۔
اس لیے وہ تو بیانیے تخلیق کرتا ہے اور اس کے بیانیوں (Narratives) کو تسلیم کرنا مجبوری بن جاتی ہے، مگر تعصب اس کی ذات کو تسلیم کرنے کے آڑے آ جاتا ہے۔
لیکن آئیے پہلے سمجھیں کہ بیانیہ (Narrative) کیا ہوتا ہے؟
اکثر کہانیاں ایک بیانیے کو ثابت کرنے کے لیے بنائی جاتی ہیں۔ جیسے "لالچ بری بلا ہے" ایک بیانیہ ہے جس کو ثابت کرنے کے لیے لالچی کتے کی کہانی تراشی گئی ہے۔ "اتفاق میں برکت ہے" بھی ایک بیانیہ ہے اور اس کے لیے بھی ایک کہانی ہے۔ اللہ تعالیٰ خود قرآنِ مجید میں انبیاء، اولیاء، کفار کے قصّے بیان فرما کر اس سے اپنے بیانیے ثابت فرماتا ہے۔ بیانیے کا قدیم ترین طریقہ بذریعہ قصہ گوئی ہے۔ انسانی ذہن کچھ بیانیوں کو بنیادی حقائق مان کر غور و فکر کا آغاز کرتا ہے اس لیے بیانیہ سوچ کی بنیاد ہوا کرتا ہے۔
بعض اوقات مخصوص حالات کے حل کے لیے کوئی ایک بیانیہ سامنے آتا ہے، کچھ دیر وہ چلتا بھی ہے، کچھ لوگ اس پر عمل پیرا بھی ہو جاتے ہیں اور کچھ دیر بعد پتہ چلتا ہے کہ یہ بیانیہ درست نہ تھا اور اس کو پانے کی آرزو میں وقت اور محنت برباد کر لی۔ پھر متبادل بیانیہ سامنے آتا ہے، حتی کہ بیانیے پر بیانیے آتے رہتے ہیں اور ناکام ہوتے رہتے ہیں، جب تک کوئی ایسا بیانیہ سامنے نہ آ جائے جو ان حالات کا اصل حل ہو۔
اب آئیے اپنے موجودہ دور کی طرف۔ پاکستان بن گیا لیکن اسلام کا قلعہ نہ بن سکا۔ پاکستان کیسا ہونا چاہیے، اس پر کس کا حق ہے، سنی کا، وہابی کا یا شیعہ کا؟ یہاں مذہبی حکومت ہونی چاہیے یا سیکولر یا نیم مذہبی نیم سیکولر؟ نظامِ معیشت سودی ہو یا غیر سودی؟ مذہب کا عمل دخل حکومت میں کتنا ہونا چاہیے؟ تعلیمی نظام کیا ہونا چاہیے، مدارس والا عربی فارسی یا کالج یونیورسٹیز والا انگریزی و ماڈرن؟ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کس حد تک جائز ہے، تصویر و ٹیلی ویژن جائز ہے یا ناجائز؟ لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کیسا ہے؟ جہاد کا حق صرف حکومت کو حاصل ہے یا مذہبی گروہوں کو بھی؟ خود کش دھماکے جائز ہیں یا ناجائز؟ معاشرے میں خواتین کا کردار کیا ہے؟ گھر کے اندر برقعہ میں بند یا مادر پدر آزاد یا کچھ اور؟ سیاسی نظام کونسا ہونا چاہیے، جمہوری، آمرانہ یا کچھ درمیانہ؟ میڈیا پالیسی کیا ہونی چاہیے؟ سائنس اور اسلام متصادم ہیں یا پہلو بہ پہلو؟ عشق و محبتِ رسول شخصیت پرستی ہے یا دین کی بنیاد؟ تصوف ایک افیون ہے یا اصلِ زندگی؟ صرف پرانی تفاسیر و شروحاتِ حدیث سے رجوع اور ان کی توجیہات و تراجم کافی ہیں یا قرآن و سنت پر غور کرکے نیا تخلیقی علم بھی ضروری ہے؟ فقہ اسلامی کا نفاذ ہونا چاہیے یا جدید قانون کا؟ کیا فقہ اسلامی موجودہ دور کے قوانین کا بہترین متبادل بن سکے گی یا نہیں؟ اسلامی نظام کے نفاذ کا خواب مستقبل قریب میں پورا ہونے کی کوئی توقع ہے یا نہیں؟
غرض سوالات ہی سوالات، التباسات ہی التباسات۔ اس پر بیانیے ہی بیانیے، اور بیانیے ایک ایک کر کے ناکام ہوتے رہے۔
نظامِ تعلیم کا مسئلہ سامنے تھا۔ ایک طرف مذہبی تعلیم کے مدارس، دوسری طرف ماڈرن تعلیمی ادارے، دونوں ہی الگ الگ دنیاؤں کے باسی، بالکل علیحدہ، درمیان میں ایک وسیع خلیج۔ ایک طرف زکوٰۃ، فطرانہ، صدقات اور چندے مانگ مانگ کر مذہبی تعلیمی ادارے تو دوسری طرف مہنگی تعلیم اور لوگوں کی اکثریت پھر بھی مہنگی تعلیم کی طرف۔ دونوں کے اپنے اپنے بیانیے اور کوئی درمیانی راستہ نہیں۔
میرے قائد نے پہلی بار بیانیہ دیا کہ دینی و عصری تعلیم دونوں ضروری ہیں، دونوں ساتھ ساتھ چلنی چاہئیں، دینی تعلیم بھی پیسہ خرچ کر کے حاصل کرنی چاہیے۔ اس نہج پر منہاج القرآن عملی صورت میں قائم کر دیا جو اب ترقی کرتے کرتے میرے قائد کی زندگی میں ہی چارٹرڈ یونیورسٹی کا درجہ حاصل کر چکا ہے (یاد رہے کہ سرسیّد کی وفات کے بعد جا کر علیگڑھ کالج کو یونیورسٹی کا درجہ ملا)۔ یہ ایک نئے دور کا آغاز تھا۔ مذہبی اداروں کو بھی ہوش آ گئی، مدارس میں کمپیوٹر، سائنس اور انگریزی پڑھانے کے دور کا آغاز ہوا تو پرائیویٹ اسکولز و کالجز کو قرآنی تعلیم کا آغاز بھی کرنا پڑا۔
یہ سب میرے قائد کے ایک بیانیے (Narrative) کا نتیجہ تھا۔ پاکستان کے تعلیمی نظام میں تبدیلی آئی، پھر فتح اللہ گولن اور ترکی تک اس کے اثرات گئے اور اب سارا عالمِ اسلام ہی ایسے تعلیمی نظام کے حق میں ذہنی طور پر متفق ہو چکا ہے جس میں دینی و عصری دونوں تعلیمات یکجا ہوں اور ایسے اداروں کے قیام میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ ہوتا ہے ایک کامیاب بیانیہ اور اس کے اثرات۔ تعلیم میں انقلاب کی بنیاد تو رکھی جا چکی، اور بنیاد ایک "فکری بیانیہ"۔
بات بہت لمبی ہے لیکن اب ذرا میرے قائد کے بس چند بیانیے ملاحظہ فرما لیں اور اس کے نتائج پر خود غور کر لیں۔ یاد رہے کہ ان بیانیوں میں میرا قائد پہل کرنے والا ہے، باقی سب اس کے پیروکار ہیں۔
تصویر حرام نہیں ہے، جائز ہے۔ ٹی وی، کیبل، وی سی آر، ڈی وی ڈی سب کا بہتر مقاصد کے لیے استعمال جائز ہے (آج سے 35 سال پہلے کا بیانیہ)۔
اور پھر تصویر حرام کہنے والوں کو اپنے ٹی وی چینل بنانے پڑ گئے۔
یہ ہوتا ہے کامیاب بیانیہ۔ میرے قائد کی ذات کو کوئی مانے نہ مانے اس کا بیانیہ تو ماننا ہی پڑا۔
سنی، شیعہ، وہابی کسی پورے گروہ کو کافر کہنا جائز نہیں۔ تکفیریت خلاف اسلام ہے۔
یہ اس وقت کا بیانیہ ہے جب ہر طرف کافر کافر کی رٹ لگی ہوتی تھی۔
اور اب سب ہی اس بیانیہ کے قائل ہیں اور اتحاد امت کی مجبورا تائید کرنا ضروری ہو گیا ہے۔
میرے قائد نے تو عملًا شیعہ سنی اتحاد قائم بھی کر دیا اور ساری دنیا کے اہل تشیع کے دل میں سنی ہونے کے باوجود اپنے لیے عزت و محبت کے اثرات پیدا کر لیے۔
محبت و عشقِ رسول شخصیت پرستی نہیں بلکہ دین کی بنیاد ہے۔
پھر اس بیانیے پر فروغِ عشقِ رسول کی عملی کوششوں کا آغاز اور قرآن و حدیث سے دلائل کا انبار سامنے لایا گیا۔ ہوتے ہوتے یہ ہوا کہ عشق و محبت کو شخصیت پرستی قرار دینے والی جماعتِ اسلامی بھی میلاد النبی کے سالانہ پروگرام کرنے پر مجبور ہوگئی۔
محافلِ میلاد النبی کا ایسا جال بچھایا گیا کہ اب ہر ایک اسی نہج پر عمل پیرا ہے۔ ورنہ پہلے تو اہلسنت بھی جلوسِ میلاد اور ایک دو جلسہ کر لیا کرتے تھے۔
دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام امن کا داعی ہے۔ دہشت گردی خارجیت کی جدید شکل ہے اور خوارج خارج از اسلام ہیں۔
میرے قائد کے اس شہرہ آفاق بیانیے کی گونج سے اب بھی دنیا گونج رہی ہے۔ بالآخر دہشت گردوں کے سرپرست مسلم ممالک اور جماعتوں کو بھی انہیں خادجی قرار دینا پڑا اور میرے قائد کے فتوی کو شامل نصابات کرنا پڑا۔
اسلامی فلسفۂِ حیات میں معیشت کو ایک بنیادی حیثیت حاصل ہے، اور اسلامی معاشرہ ایک کامیاب اسلامی نظامِ معیشت کے بغیر قائم نہیں کیا جا سکتا۔ ایمان کے بعد سب سے اہم ترین چیز معیشت ہے۔
میرے قائد کا یہ بیانیہ تب سامنے آیا جب خمینی صاحب بھی یہ کہہ رہے تھے کہ "معیشت جانوروں کا چارہ ہے، اسلام کو اس سے کیا غرض"۔
تب میرے قائد نے پورا بلاسود نظام بینکاری و نظام معیشت دنیا کے سامنے آشکار کر دیا۔_
_ # # *سیاست اور دین میں دوری اسلام میں روا نہیں، لیکن سیاست سے مراد صرف الیکشنز لڑنا بھی نہیں ہوتا بلکہ کرپٹ اور غیر اسلامی نظام کو تبدیل کرنے کی ہر کوشش سیاست ہے۔*
_میرے قائد نے یہ بیانیہ بھی سچ کر دکھایا اور الیکشنز لڑے بغیر بھی سیاست کا ایک اہم رول حاصل کرلیا، جہاں پر کئی بار ساری سیاسی قیادت کو جا جا کر حاضری دینا بھی پڑ گئی۔_
_ # # *جب احادیث نبوی پر ریسرچ کو بنیاد بنا کر عالم عرب کے عقائد کو اصل اسلامی روح سے دور کردیا گیا اور اس غلط فکر کے اثرات سے ساری اسلامی دنیا متاثر ہو گئی تو اہل سنت نے فقط تقریروں کے ذریعہ اس طوفان کے آگے بند باندھنا چاہا، لیکن وہ بند بہت کمزور ثابت ہوا۔ ڈیڑھ صدیاں بیت گئیں لیکن مؤثر جواب نہ بن پایا۔ بالآخر یہ بیڑہ بھی میرے قائد نے اٹھایا اور چالیس ہزار احادیث پر مشتمل منفرد ذخیرہ احادیث پیش کر دیا۔ ابھی اس کی گونج عالم عرب کے قلوب و اذہان کو حدیث کے متبادل بیانیے کی طرف مائل کر رہی ہے۔ جوں جوں وقت گزرے گا، اس کے اثرات میں مزید اضافہ ہوتا جائے گا۔ میرا قائد اب حجۃ المحدثین کے درجہ پر بھی فائز ہے۔_
_لیکن یار لوگ اب بھی کہہ لیتے ہیں کہ طاہر القادری بڑا جھوٹا آدمی ہے۔_
_ارے خدا کا خوف کرو، زبان کو کچھ تو لگام دو، اپنے گندے من کا کچھ تو علاج کرواؤ، کیا اللہ اور رسول نے آج تک کسی جھوٹے شخص کو حدیث شریف کی خدمت کے لیے چنا ہے؟ ساڑھے چودہ سو سال میں تو ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا، لیکن کیا اب اللہ کے پاس لوگوں کی کمی ہو گئی تھی کہ ایک جھوٹے سے حدیث کا اتنا عظیم کام لینا پڑا؟_
_العیاذ باللہ_
_ # # *میرے قائد نے چند سالوں میں نبی کریم ﷺ پر درودِ پاک پڑھنے کو ایک تحریک بنا دیا، منفرد ترین گوشہ درود قائم کیا، درود شریف کا ریکارڈ مرتب کیا، ماہانہ محفل صلوٰۃ علی النبی کا انعقاد شروع کیا، اور پورے ملک میں حلقاتِ درود کا جال بچھا دیا۔*
_اب اس کا اثر یہ ہے کہ ہر آستانے نے اس کا آغاز کر دیا ہے۔ درود پاک کے واٹس ایپ گروپ بن گئے ہیں اور ہر ایک بڑھ چڑھ کر صلوٰۃ علی النبی کی تحریک کو آگے بڑھا رہا ہے۔_
_میرا قائد آغاز کرتا ہے اور دنیا تقلید کرتی ہے۔ بیانیہ تسلیم کیا جاتا ہے، لیکن طاہر القادری کی ذات پھر بھی قابل قبول نہیں ہوتی۔_
_ # # *میرے قائد کے بیانیے بےشمار ابھی باقی ہیں۔ میرے قائد کے بیانیوں کی پہلے خوب مخالفت ہوتی ہے، پھر انہی بیانیوں کی روشنی میں لوگ راہیں تلاش کرتے ہیں۔*
_ابھی میرے قائد کا تازہ بیانیہ یہ ہے کہ *پاکستان کے رائج نظامِ الیکشن میں سو بار بھی الیکشنز کروا لیے جائیں تو کوئی فرق پڑنے والا نہیں۔*_
_اس بیانیے کی مخالفت کرنے کے بعد آہستہ آہستہ ذہن اسی نتیجے کی طرف مائل ہو رہے ہیں، اور بالآخر بیانیہ سچا تو میرے قائد کا ہی ہونا ہے۔ الیکشنز کے ذریعے تبدیلی کے خواہشمند اپنا زور لگا لیں۔_
_مخالفت جتنی مرضی کرتے رہیں، جذبات میں آ کر درست بیانیہ آخر درست بیانیہ ہوتا ہے۔_
_ # # *میرا قائد نہ صرف بیانیے تخلیق کرتا ہے بلکہ اس کے عام اعمال بھی قابل تقلید قرار پاتے ہیں۔*
_وہ اگر جالی والی ٹوپی خاص انداز میں پہنے تو وہ خاص طریقہ رواج بن جاتا ہے۔ اگر وہ سندھی ٹوپی استعمال کرنا شروع کردے تو اہلِ مذہب کی شناخت سندھی ٹوپی بن جاتی ہے۔ وہ اگر سندھی ٹوپی کا استعمال چھوڑ دے تو سندھی ٹوپی اہل علم کے سروں سے غائب ہو کر فرسودہ رواج قرار پاتی ہے۔ وہ اگر ترکی سٹائل کی گول مخصوص سفید و سرخ ٹوپی پہنے تو اہل علم کی پہچان وہ بن جاتی ہے۔ وہ جس طرح کا جبہ پہنے، وہ بھی رواج بن جاتا ہے۔_
_وہ خطاب کرے تو اس کے انداز کی نقل کی جاتی ہے۔ ہو بہو اسی کے قرآن و حدیث سے اخذ کردہ نتائج کو ہو بہو اسی کے انداز میں دہرا کر بھی لوگ اسی کے لہجے میں اسی کی مخالفت بھی کرتے ہیں۔_
_کیا قائد ہے کہ وہ کسی کو کافر نہ کہے، تو بھی اسے کافر کہا جاتا ہے۔ وہ کسی کی مخالفت میں لفظ تک بھی نہیں بولتا، لیکن اس کے خلاف کتابیں لکھی جاتی ہیں۔ وہ سیاست میں آکر گرج رہا ہو، تب بھی مخالفت ہوتی ہے، وہ چپ کرکے کینیڈا میں بیٹھ کر اپنی ریسرچ میں مصروف ہو تو بخشا پھر بھی نہیں جاتا۔ سنی مخالف ہیں کہ وہ سنی نہیں، وہابی مخالف ہیں کہ وہ وہابی کیوں نہیں، سیاستدان اسے مذہبی قائد سمجھتے ہیں اور مذہبی قائدین اسے سیاسی آدمی قرار دیتے ہیں۔_
_وجہ بس اتنی ہے کہ وہ ان بے وژن مذہبی رہنماؤں جیسا مذہبی رہنما نہیں اور ان کرپٹ سیاستدانوں جیسا سیاستدان نہیں۔ وہ عمیق نظر کا حامل ہے، کسی پرانے اعلیٰ عروج کے دور کی کوئی روح ہے جو موجودہ زوال سے زنگ آلود ذہنوں والے مذہبی و سیاسی لوگوں کے درمیان آ کر پھنس گئی ہے۔ لیکن اس کی للکار سے ہر ایک لرزہ براندام ہے۔ مذہبی رہنماؤں کی کوتاہ نظر اجارہ داریاں اس کی للکار سے خطرے میں ہیں اور سیاستدانوں کے بپا کردہ کرپشن سے لت پت نظام کے لیے بھی وہ صورِ اسرافیل بن کر سامنے آتا جا رہا ہے۔_
_ # # *اور میں اپنے قائد کی بات کیوں نہ کروں کہ میرے تو لہجے میں بھی وہی بولتا ہے،* میری تو عشقِ رسول کی دولت کو بھی سنبھالا اسی نے دیا ہے، مجھے تو دین و سائنس کو ایک لڑی میں پرونے کی مہمیز بھی اسی نے عطا کی ہے، مجھے تو اپنے خیالات کو ترتیب دینا بھی اسی نے سکھایا ہے۔ میں اس کی فکر بولتا ہوں، لوگ تعریف میری کرتے ہیں۔ میں اس کی کتابوں سے روشنی پاتا ہوں، تو لوگ منفرد مجھے قرار دیتے ہیں۔ میں اس کے اخذ کردہ نتائج کو ترتیب دیتا ہوں، تو لوگ عش عش کر کے مجھے بھی مفکر کہتے ہیں۔ میرے کانوں میں وہی رس گھولتا ہے کہ میرے تو لہجے میں بھی وہی بولتا ہے۔ تو میں ناشکرا کیسے بنوں، سنی ہوتے ہوئے بھی وسیلے کا منکر کیسے بنوں کہ اس کا انکار تو خود اپنی ذات کے انکار کے مترادف ہے۔_
_اس شائستہ سلسبیل سے دھلی زبان کے سامنے لوگوں نے سرِ عام گالی گلوچ بکنے والوں کو قائد بنا لیا، اس علم کے اعلیٰ پیکر کے سامنے لوگوں نے آدھے گھنٹے کا صحیح انٹرویو تک نہ دے سکنے والوں کو سروں پر بٹھا لیا۔ اس زمین پر موجود سب سے بڑے محدث کو چھوڑ کر لوگوں نے حدیث کی ایک کتاب تک ترتیب نہ دینے والوں کو دلوں میں بٹھا لیا۔ اس صالحیت کے پیکر کے سامنے کہ جو انتالیس سال سے مغرب کے وضو سے فجر پڑھ رہا ہے، لوگوں نے ایسے ویسوں کو قائد بنا کر رقص و سرود کے جلسے برپا کر لیے۔_
_لیکن کوئی بات نہیں۔ ہوتا ہے، ایسا ہوتا آیا ہے۔_
_قوموں نے من و سلوی کے ہوتے ہوئے بھی پیاز اور ساگ کی محبت دل میں بسا لی تھی۔ لیکن پھر اللہ کا ارشاد ہوا:_
_أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنَىٰ بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ_
_“کیا تم بہترین چیز کے بدلے ادنی چیز مانگتے ہو؟”_
_وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّهِ_
_"اور (اس طرزِ عمل پر بطورِ سزا) ان پر خواری اور ناداری مقرر کر دی گئی اور وہ خدا کے غضب کی طرف پلٹ گئے۔ؔ
سید ہارون بخاری صاحب