Israr Sami

Israr Sami
اَللّٰھُمَّ صَــّلِ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ
❤️

آج اتوار کا دن ہے، صبح افس کی چھٹی تھی،تو میں اپنے کیمپ سے باہر تھوڑی چہل قدمی کرنے کے لیے نکلا۔ کیمپ کے بالکل ساتھ ایک ...
12/05/2026

آج اتوار کا دن ہے، صبح افس کی چھٹی تھی،
تو میں اپنے کیمپ سے باہر تھوڑی چہل قدمی کرنے کے لیے نکلا۔ کیمپ کے بالکل ساتھ ایک پارک تھا، میں وہاں چلا گیا۔

وہاں جا کر میں نے دیکھا کہ کافی سارے چاول دسترخوان پر پڑے ہوئے تھے۔
یہ دیکھ کر مجھے دکھ بھی ہوا، لیکن پھر سوچا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی تقسیم ہے۔

آج ہم لوگ اپنی فیملی، بیوی بچوں کو چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں بڑی مشکل سے یہ رزق کما رہے ہیں،
لیکن جن لوگوں کو اپنے ہی ملک میں گھر بیٹھے میسر ہے، ان کے پاس اس کی قدر نہیں۔

دیکھا جائے تو کچھ لوگ اسی رزق کے لیے ترس رہے ہیں،
کچھ لوگ رزق نہ ہونے کی وجہ سے اپنی زندگیاں ختم کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں،
اور کچھ لوگ وہی نعمت سڑکوں پر پھینک دیتے ہیں۔

لیکن جیسے پانچ انگلیاں برابر نہیں ہوتیں، ویسے ہر انسان کی سوچ بھی ایک جیسی نہیں ہوتی۔
اللہ تعالیٰ ہر انسان کو رزق کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ 🤲 آمین

جیسے عوام کے اعمال ہونگے، ان پر حکمران ویسے ہی مسلط ہونگے"متعدد مرتبہ یہ حدیث میں نے ان گنت افراد کے منھہ سے سنی ہے۔ لیک...
11/05/2026

جیسے عوام کے اعمال ہونگے، ان پر حکمران ویسے ہی مسلط ہونگے"
متعدد مرتبہ یہ حدیث میں نے ان گنت افراد کے منھہ سے سنی ہے۔ لیکن اسکے ساتھ ہی یہ بات کہ یہ حدیث کس کتاب میں ہے۔ اس کا راوی کون ہے۔ ان گنت لوگوں سے دریافت کیا۔ ہر کسی کا جواب یہی ہوتا ہے کہ ہم نے یہی سنا ہے۔
کیا ہر سنی سنائ بات کو تحقیق کیے بناء آگے بڑھا دینا درست عمل ہے ؟

کیا گناہ صرف پاکستان میں ہی ہوتے ہیں۔ کیا امریکہ برطانیہ یورپ میں زیادہ تر ایسے بچے پیدا نہیں ہوتے جنکے برتھ سرٹیفکیٹ میں انکے باپ کے نام کا خانہ خالی رہتا ہے۔ کیا وہاں مادر پدر آزادی، خنزیر خوری، شراب نوشی، ننگا پن عام نہیں ہے۔ دبئ اور عرب ریاستوں کا حال آپکے سامنے یے۔ عرب امراء ایک ایک اداکارہ پر کروڑوں ریال داد و عیش پر لٹادیتے ہیں۔

تو سوال یہ ہے کہ انکے حکمران انکے لیے بہتر کیوں ہیں ؟
ہمارے ہاں سے لاکھوں افراد ان ملکوں میں کیوں شفٹ ہوگئے ہیں۔ اور ہر دوسرا جانے کو بیتاب کیوں ہے ؟ کوئ اس کا جواب دیگا ؟

تاہم ابھی چند دن قبل ایک اخبار جہاں میرے ہاتھہ لگا۔ اس میں ایک پیج، جس کا نام ہے"قرآن و سنت کی روشنی میں"
اس پیج کا مطالعہ کیا۔ اس پیج پر کئ لوگ دینی اعتبار سے مفتی حسام اللہ حنفی شریفی صاحب سے سوالات کے جوابات دریافت کرتے ہیں۔

ایک سوال اس پیج پر ایک صاحب نے مفتی صاحب سے پوچھا
"کیا حکمران جوابدہی سے آزاد ہے ؟"

مفتی صاحب نے جواب ارشاد فرمایا کہ
"حکمران سے جوابدہی اتنی سخت ہے ، کہ عام آدمی اسکو سوچ بھی نہیں سکتا۔
" رسولُ اللّٰهﷺ کی حدیث مبارکہ ہے کہ بروز قیامت میری امت کا سب سے بدترین شخص وہ حکمران ہوگا۔ جس کے غلط اقدامات کے سبب عوام حرام راستے اختیار کرنے پر مجبور ہوجائے"

جیسی عوام ویسے حکمران والی بات تو ہر کوئ بتادیتا ہے۔ لیکن یہ حدیث ہمارے مفتی مولوی بالخصوص درباری ملا عوام کو کیوں نہیں بتاتے ؟
اسلیے نہیں بتاتے کہ یہ بڑے بڑے مولوی عموما حکمرانوں کے نمک خوار ہوتے ہیں۔عوام اگر کسی کی طرز حکمرانی پر سوال کرے یہ تنقید کرے تو اسی کے منھہ پر جیسی عوام ویسے حکمران والی حدیث طمانچے کی ماردی جائے۔ تاکہ عوام ایل دودرے پر ہی لعنت ملامت کرتے رہیں۔ اور حکمران کھل کھیلتے رہیں۔

10 جون 2010…آج سے 16 سال پہلے ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔نسیم اختر نامی ایک نیک صفت ا...
11/05/2026

10 جون 2010…
آج سے 16 سال پہلے ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

نسیم اختر نامی ایک نیک صفت اور باکردار سرکاری اسکول ٹیچر اپنی سادہ زندگی گزار رہی تھیں۔
دن کے وقت وہ گورنمنٹ گرلز اسکول میں بچیوں کو تعلیم دیتی تھیں جبکہ شام کو اپنے گھر میں ایک چھوٹی اکیڈمی چلاتی تھیں۔
ان کا اس دنیا میں کوئی سہارا نہیں تھا… ان کی اصل دنیا صرف کتابیں اور ان کے شاگرد تھے۔

انہی شاگردوں میں جاوید، شان اور عابد نامی تین لڑکے بھی شامل تھے۔
ٹیچر انہیں اپنے بچوں کی طرح سمجھتی تھیں، مگر شاید انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ انہی میں سے ایک کے دل میں لالچ جنم لے چکا ہے۔

کہتے ہیں جب نسیم اختر اپنی پینشن گھر لے کر آئیں تو جاوید کی نیت بدل گئی۔
اس نے منصوبہ بنایا کہ کسی طرح یہ رقم اور زیورات حاصل کیے جائیں۔

10 جون 2010 کی رات تقریباً 10 بجے دروازے پر دستک ہوئی۔
“میڈم مجھے آپ سے ضروری کام تھا…”

ایک معصوم استاد نے اپنے شاگرد پر اعتبار کیا۔
انہوں نے دروازہ کھولا، اندر بٹھایا اور کہا:
“بیٹا بیٹھو، میں پانی لے کر آتی ہوں…”

لیکن شاید انہیں معلوم نہیں تھا کہ موت ان کے گھر میں داخل ہو چکی ہے۔

الزام ہے کہ جیسے ہی وہ کچن کی طرف گئیں، جاوید نے پیچھے سے حملہ کر دیا۔
چند لمحوں میں ایک بے گناہ استاد ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔
ملزمان گھر سے نقدی، زیورات اور قیمتی سامان لے کر فرار ہو گئے۔

کئی گھنٹے گزرنے کے بعد گھر سے بدبو پھیلنے لگی تو اہلِ علاقہ کو شک ہوا۔
جب دروازہ کھولا گیا تو ہر آنکھ اشکبار تھی۔
وہ خاتون جو دوسروں کے بچوں کو تعلیم دیتی تھی، اپنے ہی شاگردوں کے ہاتھوں دنیا سے جا چکی تھی۔

وقت گزرتا رہا…
کیس سرد پڑ گیا…
لوگ بھول گئے… مگر انصاف شاید ابھی زندہ تھا۔

پھر سال 2026 میں نئے DPO او عابد حسین خانوال آئے۔
انہوں نے پرانے کیسز دوبارہ کھولے، تفتیش شروع ہوئی اور بالآخر 16 سال بعد مرکزی ملزم جویید کو جہلم کے علاقے سے گرفتار کر لیا گیا۔
بعد ازاں شان اور عابد بھی قانون کی گرفت میں آ گئے۔

16 سال بعد سچ سامنے تو آ گیا…
لیکن ایک سوال آج بھی زندہ ہے:
کیا ایک استاد کا اپنے شاگرد پر اعتبار کرنا اس کی سب سے بڑی غلطی تھی؟

اللہ پاک مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
✍️ تحریر: کرائم رپورٹر مرتضیٰ بھٹی

معصوم لڑکی قسط نمبر 7یہ میرا آخری میسج ہوتا ہے فیصل کو لیکن فیصل اس بات پر بحث و مباحثہ جاری رکھتا ہے کہ تم بے وفا ہو تم...
11/05/2026

معصوم لڑکی
قسط نمبر 7
یہ میرا آخری میسج ہوتا ہے فیصل کو لیکن فیصل اس بات پر بحث و مباحثہ جاری رکھتا ہے کہ تم بے وفا ہو تم نے تو ساتھ جینے اور مرنے کی قسم کھائی تھی تم کیسے بھلا مجھے چھوڑ کر جا رہی ہو۔لیکن میں اسے آخر میں یہ کہتی ہوں کے ایسا کبھی نہیں ہو سکتا اگر تمہارے والد محترم زندہ ہوتے کیونکہ وہ ایک مسلمان تھے تو وہ اس بات کو سمجھ سکتے اور تمہارا رشتہ لے کے آتے تم اپنی والدہ کو بھیجو بھی صحیح تو ہمارا گھرانہ صرف ان کو پانی تک محدود قبول کرے گا اس سے زیادہ اور کچھ نہیں ہو سکتا۔ یہ سب کچھ کہہ کر میں اسے بلاک کر دیتی ہوں۔اور میں سب کچھ بولنا چاہتی تھی اپنی زندگی میں جو ہوا بس وہ ایک برا خواب تھا۔اور اپنی زندگی کو دوبارہ اچھے کاموں کی طرف راغب کرنا چاہتی تھی۔دو دنوں بعد فیصل کا دوسرے نمبر سے میسج آتا ہے عاصمہ تم نے اچھا نہیں کیا تم نے میری زندگی برباد کر دی۔میں تمہارے ساتھ زندگی جینا چاہتا تھا مہربانی فرما کر مجھے میسج کا جواب دو۔لیکن میں اس کو دوسرے نمبر سے بھی بلاک کر دیتی ہوں۔مزید میں اس سے کوئی رابطہ نہیں رکھنا چاہتی تھی۔ جیسے ہی جیسے وقت گزرتا گیامیرے نکاح کی تیاریاں جاری تھیں اور رخصتی سات ماہ بعد تھی۔لیکن ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے آج ہی شادی کا سماں ہو۔گھر میں ایک خوشی کا سماں تھا مقرر تاریخ میں میرا نکاح ہو چکا تھا۔اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ میری زندگی میں خوشیاں دوبارہ لوٹ کر آ رہی ہے۔نکاح کے بعد ایک دن میرے نمبر پر میسج آتا ہے۔اور موبائل چھوٹے بھائی کے پاس ہوتا ہے۔وہ پوچھتا ہے آپ کون ہو۔آگے سے جواب آتا ہے کہ میں انسان ہوں اور اپنی بیوی سے بات کر رہا ہوں۔چھوٹا بھائی میرے پاس موبائل لے کر آتا ہے اور کہتا ہے کہ آپی کسی کا میسج آیا ہے۔ میرے منگیتر احسن کا میرے نمبر پر میسج آتا ہے السلام علیکم کا۔میں اسے سلام کا جواب دیتی ہو اور کہتی ہو کہ موبائل چھوٹے بھائی کے پاس تھا ۔احسن 25سال کا نہایت تہذیب دار اور معزز گھرانے سے تعلق رکھنے والا لڑکا تھا۔گورا رنگ،بالوں کی زلفیں،اور براؤن دلکش آنکھیں،6 فٹ لمبا قد و قامت۔اخلاص کا نہایت میٹھا پن،اور نرم مزاج رکھنے والا تھا وہ اپنے بارے میں مجھے بتاتا ہے اور میرے بارے میں مجھ سے جاننا چاہتا تھا۔
لیکن مزید وہ بات بڑھاتا چلا جا رہا تھا۔کہ میں اس کو میسج کیا جواب دینا بند کر دیتی ہوں۔کچھ وقت بعد اس کا دوبارہ میسج آتا ہے کیا تم میرے ساتھ خوش نہیں ہوں کیا تم مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتی کیا میں تمہیں پسند نہیں ہوں۔میں نے کہا ایسی کوئی بات نہیں ہے لیکن میں کسی سے آج تک میسج پے بات نہیں کی۔لیکن اس نے کہا کہ اب تو ہمارا نکاح ہوچکا ہے اور اب تم میرے نصیب میں لکھ چکی ہوں اور شریعت کے مطابق تم میری بیوی بن گئی ہو۔ میں اس کو ٹھیک ہیں کا جواب دے کر بولتی ہو کے میں مصروف ہو گھر کے کام میں پھر بات کرتے ہیں۔دوسرے روز کا دوبارہ میسج آتا ہے میں اس سے دوبارہ سے مصروف ہو کا جواب دیتی ہو اسی طرح ایک ہفتہ مجھے میسج کرتا رہتا ہے اور اسے میں مصروف ہوں کا جواب دیتی رہتی رہی ۔اسی دوران اگلے ہفتے وہ میرے گھر آتا ہے ابو جان کو ملنے اور میری مصروفیات کو دیکھنے۔ اپنے ہمراہ ایک تحفہ ساتھ لے آتا ہے جیسے یہ گھر میں داخل ہوتا ہے تو اسے دوسرے کمرے میں بٹھا دیا جاتا ہے۔میں اس کے لئے ایک اچھی چائے اور کھانا پکاتی ہوں ۔جیسے ہی میں کمرے میں داخل ہوتی ہو پہلے سلام عرض کرتی ہوں۔اور چا ۓ پیش کرتی ہوں۔ اور امی جان مجھے وہیں پر بیٹھنے کا کہتی ہیں۔کچھ دیر بیٹھنے کے بعد امی جان وہاں سے اٹھ جاتی ہیں کھانے کا کا انتظام کرنے کے لیے اور ہم دونوں اکیلے بیٹھے ہوتے ہیں کہ وہ مجھ سے پوچھتا ہے کےآپ سے ایک شکایت عرض کر سکتا ہوں۔میری آنکھیں جھکی ہوئی اور دھڑکن تیز چلتی ہوئی۔جی فرمائیں میں بولتی ہوں۔ ایسی آپ کی کیا مصروفیات ہے جو آپ مجھ سے موبائل پر بات کرنے سے گریز کرتی ہے۔اگر آپ چاہیں تو میں آپ کے والدین سے اجازت لے سکتا ہوں۔آپ میرے نکاح میں شامل ہے اور شریعت آپ میری بیوی ہیں۔اگر مجھ سے یا میری ذات سے کوئی مسئلہ ہے تو آپ بتا سکتی ہیں۔ایسا کچھ نہیں ہے بس عادتا ایسا نہیں کرتی میں بولتی ہوں ۔لیکن مجھے فخر ہے کہ میں آپ کے نکاح میں ہوں اور میں بہت خوش ہوں۔ لیکن آئندہ خیال کروں گی اور آپ کو کبھی شکایت کا موقع نہیں دوں گی۔اتنے میں امی جان حاضر ہوتی ہے اور میں وہاں سے اٹھ جاتی ہو۔میں ان کے لیے کھانا پیش کرتی ہوں۔اور کھانے کے بعد وہ اجازت لیتے ہیں اور گھر روانہ ہو جاتے ہیں ۔جاتے ساتھ ہی مجھے میسج کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ امید کرتا ہوں آپ کو میرا تحفہ ضرور پسند آئے گا اور آج آپ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔میں ان کو جوابن شکریہ ادا کرتی ہوں۔اور کہتی ہو ماشاء اللہ سے آپ بھی بہت پیارے لگ رہے تھے۔اسی طرح وہ مجھے بہت دن اپنی طرف مائل کرتے رہے اور اور میں ہوتی چلی گئی لیکن اب مجھے کسی بھی چیز کا خوف و ہراس نہیں تھا اور اس چیز کا شکر ادا کر تی تھیں کہ میں کوئی برا کام نہیں کر رہی شریعت وہ میرے شوہر ہے اور ان سے میری بات کرنا میرا حق ہے۔بات کرتے کرتے میری جھجک ختم ہوتی جاتی رہی ۔اب مجھے ان پہ اور ان کو مجھ پہ یقین ہوتا چلا جا رہا تھا ۔وہ روزمرہ مجھ سے میری کیفیت اور مصروفیات کے بارے میں پوچھتے۔ایک بار وہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا میں سچ میں تمہیں پسند آیا ہوں۔میں کہتی ہوں جس میں کوئی شک والی بات نہیں آپ مجھے بہت پسند آئے ہیں اور آپ کے گھر والے بھی۔وہ مجھ سے میری تعلیم کے بارے میں پوچھتے ہے کہ اگے پڑھنے کا شوق ہے یا پھر بس۔نہیں بس اتنا علم بہت ہے۔احسن کہتے اگر پڑھنا چاہو تو میری طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے ۔اپ جاری رکھ سکتی ہو۔ لیکن وہ زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے وہ بس مڈل پاس تھے اور خاندانی کپڑے کا کاروبار سنبھال رہے تھے۔وہ کہنے لگے کہ میں شادی کے بعد بھی ایسا دیکھنا چاہتا ہوں جیسا کہ تم پہلے رہی ہو میں اور مزید سختی برقرار نہیں کرنے والا۔اور ان سختیوں میں مزید نرمی کے ساتھ پیش ہوگا۔میں جیسا چاہتا تھا اور خدا نے مجھے ویسا ہی دیا۔میں خوش ہوں تمہارے ساتھ اور امید ہے کہ تمہیں بھی خوش رکھوں گا اپنے ساتھ۔ہم اس اتوار کو ایک دعوت مقرر کر رہے ہیں جس میں مخصوص خاندان والوں کو اور آپ کے اہل خانہ کو بلایا ہے کیا آپ اس دعوت میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ آنا پسند کریں گی۔اگر آپ آئیں گی تو میرا دیا ہوا تحفہ تو ضرور پہن کر آئے گا دل خوش ہو گا۔اور میں امید کرتا ہوں کہ آپ ضرور آئیں گے اپنے سارے مصروف کام ترک کر کے۔اور اس طرح سے آپ کا تعارف ہمارے پورے خاندان میں کیا جائے گا۔

جاری ہے

ایک روز شوہر نے پرسکون ماحول میں اپنی بیوی سے کہا : بہت دن گزر گئے ہیں میں نے اپنے گھر والوں بہن بھائیوں اور ان کے بچوں ...
11/05/2026

ایک روز شوہر نے پرسکون ماحول میں اپنی بیوی سے کہا : بہت دن گزر گئے ہیں میں نے اپنے گھر والوں بہن بھائیوں اور ان کے بچوں سے ملاقات نہیں کی ہے۔ میں ان سب کو گھر پر جمع ہونے کی دعوت دے رہا ہوں اس لیے براہ مہربانی تم کل دوپہر اچھا سا کھانا تیار کر لینا۔

بیوی نے گول مول انداز سے کہا : ان شاء اللہ خیر کا معاملہ ہو گا۔

شوہر بولا : تو پھر میں اپنے گھر والوں کو دعوت دے دوں گا۔

اگلی صبح شوہر اپنے کام پر چلا گیا اور دوپہر ایک بجے گهر واپس آیا۔ اس نے بیوی سے پوچھا :

کیا تم نے کھانا تیار کر لیا ؟ میرے گھر والے ایک گھنٹے بعد آ جائیں گے !

بیوی نے کہا : نہیں میں نے ابھی نہیں پکایا کیوں کہ تمہارے گھر والے کوئی انجان لوگ تو ہیں نہیں لہذا جو کچھ گھر میں موجود ہے وہ ہی کھا لیں گے۔

شوہر بولا : اللہ تم کو ہدایت دے ... تم نے مجھے کل ہی کیوں نہ بتایا کہ کھانا نہیں تیار کرو گی ، وہ لوگ ایک گھنٹے بعد پہنچ جائیں گے پھر میں کیا کروں گا۔

بیوی نے کہا : ان کو فون کر کے معذرت کر لو ۔۔۔ اس میں ایسی کیا بات ہے وہ لوگ کوئی غیر تو نہیں آخر تمہارے گھر والے ہی تو ہیں۔

شوہر ناراض ہو کر غصے میں گھر سے نکل گیا۔

کچھ دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی۔ بیوی نے دروازہ کھولا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ اس کے اپنے گھر والے ، بہن بھائی اور ان کے بچے گھر میں داخل ہو رہے ہیں !

بیوی کے باپ نے پوچھا : تمہار شوہر کہاں ہے ؟

وہ بولی : کچھ دیر پہلے ہی باہر نکلے ہیں۔

باپ نے بیٹی سے کہا : تمہارے شوہر نے گزشتہ روز فون پر ہمیں آج دوپہر کے کھانے کی دعوت دی ۔۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ دعوت دے کر خود گھر سے چلا جائے !

یہ بات سُن کر بیوی پر تو گویا بجلی گر گئی۔ اس نے پریشانی کے عالم میں ہاتھ ملنے شروع کر دیے کیوں کہ گھر میں موجود کھانا اس کے اپنے گھر والوں کے لیے کسی طور لائق نہ تھا البتہ یقینا اس کے شوہر کے گھر والوں کے لائق تھا۔

اس نے اپنے شوہر کو فون کیا اور پوچھا : تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں کہ دوپہر کے کھانے پر میرے گھر والوں کو دعوت دی ہے۔

شوہر بولا : میرے گھر والے ہوں یا تمہارے گھر والے ۔۔۔ فرق کیا پڑتا ہے۔

بیوی نے کہا : میں منت کر رہی ہوں کہ باہر سے کھانے کے لیے کوئی تیار چیز لے کر آجاؤ ، گھر میں کچھ نہیں ہے۔

شوہر بولا : میں اس وقت گھر سے کافی دُور ہوں اور ویسے بھی یہ تمہارے گھر والے ہی تو ہیں کوئی غیر یا انجان تو نہیں۔ ان کو گھر میں موجود کھانا ہی کھلا دو جیسا کہ تم میرے گھر والوں کو کھلانا چاہتی تھیں.. "تا کہ یہ تمہارے لیے ایک سبق بن جائے جس کے ذریعے تم میرے گھر والوں کا احترام سیکھ لو" !.

لوگوں کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرو جیسا تم خود ان کی طرف سے اپنے ساتھ معاملہ پسند کرتے ہو.......
اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئے تو کمنٹس میں ضرور بتانا

میرا_سوداگر_میرا_دلدار۔season 2قسط نمبر 4رائٹر_ایمن_رضا  "خالہ یو آر دا بیسٹ"ماہرہ جوش سے کہتی ہوئی پھر عفاف کے گلے لگی ...
10/05/2026

میرا_سوداگر_میرا_دلدار
۔season 2
قسط نمبر 4
رائٹر_ایمن_رضا

"خالہ یو آر دا بیسٹ"
ماہرہ جوش سے کہتی ہوئی پھر عفاف کے گلے لگی دی۔ بدلے میں عفاف نے چٹاچٹ اسکے سرخ پھولے ہوئے گالوں کو چوما تھا جو کہ جوش کے مارے اور سرخ ہو گئے تھے۔۔۔۔
پتہ نہیں کیوں مگر یارم کو یہ منظر ایک آنکھ نہ بھایا تھا۔
اس کے دل میں چبھن ہوئی تھی اس منظر کو دیکھ کر۔ مگر وجہ اسے خود بھی سمجھ نہیں آئی تھی۔۔۔
وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ احساس کوئی اور نہیں بلکہ جلن کا ہے۔ اپنی ماں کو کسی اور کے اوپر پیار نشہ لٹاتے دیکھ اس کے دل میں چبھن ہوئی تھی۔۔۔۔
وہ جانا چاہ رہا تھا وہاں سے مگر اس کے قدم اٹھنے سے انکاری تھے۔۔
وہ آنکھوں میں عجیب سا احساس لئے عفاف اور ماہرہ کو دیکھ رہا تھا اور تب تک دیکھتا رہا جب تک عفاف ماہرہ کو لے کر وہاں سے چلی نہ گئی۔۔
گاڑی کے بیک مرر سے یارم کو اپنی طرف تکتا پاکر عفاف حیرت کا شکار ہوئی تھی۔۔۔
مگر اس کی آنکھوں میں جو تاثر تھا وہ دیکھ کر عفاف کو اس سے بھی زیادہ حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا۔۔
مگر یہ جھٹکا خوشی کا تھا بہت جلد اپنا بیٹا واپس پا لینے کا۔۔
کیونکہ اس جلن کے تاثر سے عفاف کو ایک امید ملی تھی کہ اس کا بیٹا اب بھی اسے واپس مل سکتا ہے۔۔۔
اور اس سوچ نے اس کا موڈ خوشگوار کر دیا تھا۔۔۔
*******
"آخر کون ہے یہ سٹون لیڈی اس نے دو سالوں میں اتنی ترقی کیسے کر لی کہ میرے مقابل آ پہنچی۔۔۔
جس کے برابر آنے سے بڑے بڑے بزنس ٹائیکون کا گھبراتے ہیں وہاں یہ ایک عورت ان سب مردوں پر بھاری پڑ رہی ہے"۔۔۔۔
آخر میں نے یہ سب نظرانداز کیسے کر دیا۔۔۔
سردار ادھر ادھر غصے سے اپنے کمرے میں ٹہلتے ہوئے اس عورت کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔۔
جس نے اس کے ہاتھوں سے جیت چھین لی تھی۔۔۔
اس سے یہ بات ہضم ہی نہیں ہو رہی تھی۔۔۔
پانچ منٹ بعد کریم دروازہ کھٹکھٹاتا وہ اندر آیا اور ہاتھ باندھ کر اس کے سامنے کھڑا ہو گیا۔۔۔
اپنے باس کو غصے سے اپنی طرف بڑھتے دیکھ اس کی ٹانگیں کانپنے لگی تھیں۔۔۔
" دو منٹ ہے تمہارے پاس بولنا شروع کرو اگر تمہاری باتوں میں ایک بھی بات میرے مطلب کی نہ ہوئی تو اپنے انجام کے ذمہ دار تم خود ہو گے"
سردار نے سرد لہجے میں کہا تو کریم کسی رٹو طوطے کی طرح بولنا شروع ہوا۔۔۔۔
" سر جانچ پڑتال کرنے کے بعد بھی کوئی نہیں جان پایا کہ یہ سٹون لیڈی کون ہے۔۔۔
چاہے نیوز پیپر ہو یا میڈیا کوئی بھی اس کے اصل نام سے واقف نہیں ہے۔۔۔
اس نے کسی بھی جگہ غلطی سے بھی اپنا اصل نام شو نہیں کروایا۔۔۔
مگر آپ کے کہے کے مطابق کسی بھی طرح اس کے کسی بندے کو ڈھونڈ کر۔۔۔
اس تک آپ کا پیغام پہنچا دیا گیا ہے کہ وہ آپ کے برابر آنے کی کوشش نہ کرے اور آگ سے نہ کھیلے"
" بہت خوب"
اس نے سنجیدگی سے ہنکارا بھرا...
"مگر سر"
کریم نے ہکلاتے ہوئے کہا..
" بولو کیا کہنا چاہتے ہو"
سردار نے اس کو جواز تلاشتے دیکھ کر کہا۔۔۔
" انہوں نے آپ کے پیغام کا جواب بھی بھجوایا ہے"
" میں سننا چاہتا ہوں ذرا مجھے بھی تو بتاؤ اس نے کیا کہا ہے"
سردار نے طنزیہ لہجے میں کہا...
"" انہوں نے کہا ہے کہ آگ سے کھیلنا میرا پسندیدہ اور پرانا مشغلہ ہے۔۔۔
تو پھر ڈرنا کیسا, اور وہ آپ کے راستے میں نہیں آرہیں بلکہ آپ ان کی منزل کے درمیان رکاوٹ بن کر کھڑے ہیں اور وہ آپ کو آپ کا مقام بتانے کا کل اچھے سے ارادہ رکھتی ہیں"
کریم نے حرف با حرف عفاف کا پیغام سردار تک پہنچا دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
مگر سردار کے چہرے کو غصے سے سرخ ہوتے دیکھ۔۔
اس نے اپنی جان بخشی کی دعا کی تھی۔۔
" نکل جاؤ یہاں سے"
اس نے ٹیبل کی تمام چیزیں زمین بوس کرتے زور سے چلا کر کہا...
تو وہ دم دبا کر بھاگا تھا ۔۔۔
"لڑکی تم نے اپنے لیے خود موت کو دعوت دیی ہے "
سردار نے ایک ایک لفظ چباتے ہوئے کہا۔۔۔
اس بات سے انجان کہ کل جب اس کا سامنا اس لڑکی سے ہوگا تو اس کی کیفیت کیسی ہوگی۔۔۔۔۔
****
یارم جب سے اسکول سے آیا تھا تب سے وہ ماہرہ اور عفاف کی ملاقات کو سوچ سوچ کر پریشان ہو رہا تھا۔۔۔
اس کے ذہن سے وہ منظر ہی نہیں نکل رہا تھا۔۔۔
جیسے عفاف ماہرہ کو پیار کر رہی تھی کیا اس سے بھی وہ ویسے ہی پیار کرتی ہوں گی اس کے دل میں سے آواز آئی۔۔۔
مگر دماغ میں نے فوراً نفی کی تھی۔۔۔
اس کی دادی نے اس کے ذہن میں اتنا زہر بھر دیا تھا کہ وہ چاہ کر بھی عفاف کے بارے میں کچھ اچھا نہیں سوچ پا رہا تھا۔۔۔۔
مگر خون کی کشش اسے بار بار عفاف کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر رہی تھی۔۔۔
جسے وہ سوچنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔
مگر جب دل کے ساتھ ساتھ روحیں بھی ملی ہوں تو دماغ لاکھ چاہے پھر بھی وہ دو دلوں کو دور نہیں کر سکتا۔۔۔
خاص کار جب بات ماں اور اولاد کی ہو۔۔۔
وہ کل عفاف سے بات کرنے کا سوچ چکا تھا وہ جانتا تھا کہ وہ ماہرہ کو لینے ضرور آئے گی۔۔۔ لیکن کل جو وہ عفاف کو کہنے والا تھا اس سے عفاف کو کتنا دکھ پہنچنے والا تھا۔۔
یہ وہ نہیں جانتا تھا۔۔۔
******
آج سردار کے ڈریم پروجیکٹ کی ڈیل سائن ہونے والی تھی اس لئے آج وہ کافی خوشگوار موڈ میں تھا۔۔۔
جیسے ہی کلائنٹس آئے ذیشان اور عالیان نے مل کر کافی اچھی طرح پریزنٹیشن دی تھی۔۔۔
جو کہ کلائنٹس کو پسند بھی آئی تھی۔۔۔
ان کے چہرے بتا رہے تھے کہ انہیں سردار کی کمپنی کی تیاری بہت پسند آئی تھی۔۔۔
جیسے ہی پروجیکٹر آف ہوا سردار نے ان کی رائے لی تھی۔۔۔
" آپ کیا کہتے ہیں مسٹر جارج کیسا لگا آپ کو ہمارا آئیڈیا"
" بہت اچھا بے شک یہ آئیڈیا لاجواب ہے"
انہوں نے خوش اخلاقی سے انگریزی میں کہا۔۔۔
"تو ہم یہ ڈیل فائنل سمجھیں" سردار نے پر اعتماد لہجے میں کہا تو کلائنٹس نے ایک دوسرے کو دیکھا...
"کیا ہوا کوئی پرابلم ہے"
سردار نے اچھنبے پوچھا۔۔۔
" مسٹر سردار بے شک آپ کا پروجیکٹ بہت عمدہ ہے۔۔۔
مگر آپ کی کمپنی میں آنے سے پہلے ہم پرل کمپنی گئے تھے۔۔۔ اس نے عفاف کی کمپنی کا حوالہ دیا۔۔
جسے سن کر سردار کی ماتھے پر سلوٹیں پڑی تھیں اور ان کی پریزنٹیشن آپ سے بھی کئی گنا اچھی تھی اس لیے ہم نے یہ پروجیکٹ ان کے نام کیا ہے۔۔۔
سردار کو اپنے کانوں پر یقین نہ آیا۔۔
کیا اس نے اپنا ڈریم پروجیکٹ کھو دیا تھا۔۔۔
جس پر اس نے اتنے سال محنت کی تھی وہ کل کی لڑکی اسے چھین کر کیسے لے جا سکتی تھی۔۔۔
آخر کیسے۔۔
غصے کے مارے اس کی رگیں پھولنے لگی تھیں اور چہرہ سرخ پڑ چکا تھا۔۔۔
شہریار اور ذیشان ایک دوسرے کو پریشانی سے دیکھنے لگے تھے۔۔۔
" اور وہ کچھ ہی دیر میں آتی ہوں گی آپ بھی ان سے مل لینا وہ دیکھیں آگئی وہ ۔۔۔
جارج نے پیچھے اشارہ کرتے ہوئے کہا تو سب اس کی طرف پلٹے تھے سوائے سردار کے۔۔۔
"ہیلو ایوری ون میں نے سوچا میرے تک پہنچنے میں میرا دشمن جتنی سر توڑ کوششیں اور محنت کر رہا ہے۔۔۔
آخر آج اس کے پاس جا کر اسے اس کی کاوشوں کا صلہ دیا جائے اپنی صورت میں۔۔۔
کیوں کہ سٹون لیڈی کسی کا ادھار نہیں رکھتی۔۔۔
خاص کر سودے بازی میں ۔۔۔کیوں سوداگر صاحب او سوری منہ سے پھسل گیا۔۔۔
میرا مطلب ہے سردار صاحب صحیح کہا نا میں نے"
عفاف نے شروع میں جان بوجھ کر اور آخر میں انجان بنتے طنزیہ لہجے میں سردار کو کہا۔۔۔
تو وہاں کھڑے چار شخص ایسے تھے جنکی سانس رکی تھی۔۔۔
بزنس حال میں ہیل کی ٹک ٹک ارتعاش پیدا کر رہی تھی۔۔۔
اس صنفِ نازک کی ماسک ہٹانے کی دیر تھی پھر جس کا چہرہ سامنے آیا تھا۔۔۔
اسے وہ لوگ سپنے میں بھی نہیں سوچ سکتے تھے۔۔۔
اور سردار وہ تو سوداگر لقب پر جیسے پتھر کا ہو گیا تھا گویا اب کبھی سانس نہیں لے پائے گا۔۔۔
******

معصوم لڑکی قسط نمبر 6ابھی ابو جان گھر ہی پہنچتے ہیں وہ بہت پریشان حال میں ہوتے ہیں اور بہت غصے میں ہوتے ہیں  کہ گھر میں ...
10/05/2026

معصوم لڑکی

قسط نمبر 6

ابھی ابو جان گھر ہی پہنچتے ہیں وہ بہت پریشان حال میں ہوتے ہیں اور بہت غصے میں ہوتے ہیں کہ گھر میں سب کو طلب فرماتے ہیں میں اور امی حاضر ہوتے ہیں امی نے کہا یا اللہ خیر ایسی کیا قیامت آگئی ۔جو آپ اتنے غصے میں گھر میں داخل ہوئے سب خیریت تو ہے۔ابو غصے میں پوچھتے ہیں ہمارے جانے کے پیچھے ساتھ والے چچا غفور نے ہمارے گھر سے ایک نوجوان لڑکا جو پینٹ شرٹ میں ملبوس تھا اسکو نکلتے دیکھا ارےنسیم بیگم پوچھ اپنی بیٹی سے ہماری غیر موجودگی میں ایسا کون سا شخص تھا کس کی جرات جو ہمارے گھر آیا۔یہ کیسی بات کر رہے ہیں امی نے کہا۔کوئی انجان لڑکا ہمارے گھر کیوں اور کیسے آئے گا کیا کرنے آئے گا آخر یہاں۔بس نسیم بیگم بس میں نے تم سے جواب طلب نہیں چاہا اپنی بیٹی سے پوچھو ذرا آخر کون آیا تھا یہاں ہماری غیر موجودگی میں جوآج پڑوسی غفور نے اتفاقا یہ الفاظ بیان کئے۔ابو جان کا یہ روپ دار غصہ سے مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا کہ جیسے قیامت ہی ٹوٹ پڑی ہو میرے آنکھیں نیچے جھکی ہوئی تھی اور ہاتھ کانپ رہے تھے میں بہت ہی تہذیب میں کھڑی تھی کیا اچانک میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے اور سر گھومنے لگتا ہے اور میں وہیں بے ہوش ہو جاتی ہو۔لیکن امی بھاگتے ہوئے پانی کا گلاس لاتی ہیں اور کہتی ہیں یہ کیسا طریقہ ہے باہر کی بیانی پر آپ بلا جواز گھر میں غصہ کر رہے ہیں کیا آپ کو ہماری بیٹی ایسی لگتی ہے مجھے امی بیڈ پر سیدھا کرتی ہیں۔اور آدھے گھنٹے بعد میں ہوش میں آتی ہوں مجھے بہت تیز بخار ہوتا ہے میرے سر میں درد ہوتا ہے امی میرے ماتھے پر پانی کا کپڑا رکھتی ہے۔بخار کم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ دوائی کھلاتی ہیں اور نیند میں سلا دیتی ہیں۔اگلی صبح جب جب ہوتی ہے اور صبح کے 10 بج رہے ہوتے ہیں تو اچانک سے وہ ساتھ والے پڑوسن دوبارہ آتی ہیں امی سے ملنے اور امی سے گفتگو کرتے دوران ان کو یاد آتا ہے کہ میں پرسوں آپ کے گھر آئی تھی عصر کے وقت لیکن آپ گھر پے نہیں تھی مجھے عاصمہ نے بتایا تھا۔لیکن آج وہ نظر نی آرہی کہا چلی گئی ماشاء اللہ آپ کی بیٹی میں بہت تہذیب ہے میں جب بھی آتی ہوں وہ مجھ سے پانی کا پوچھتی ہے اتفاق سے انہوں نے میری تعریف کرتے ہوئے کہا۔ان کے جانے کے بعد امی میرے کمرے میں آتی ہیں اور مجھے نیند سے اٹھاتی ہیں میری طبیعت کا پوچھتی ہیں۔میری طبیعت میں پہلے سے کچھ فرق ہوتا ہے۔اور مجھے کھانا کھانے کا کہتی ہےاور یہ بات ابو جان کو سمجھ آتی ہیں کہ اس دن کوئی نوجوان نہیں بلکہ ساتھ والے پڑوسن آئی تھی۔اگر ایسا کچھ ہوتا بھی تو ساتھ پڑوسن کو معلوم ہوتا۔اور ابو جان کو اس بات پر یقین آتا ہے کہ سچ میں یہ ایک غلط فہمی تھی اس دن میں رب کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اب کی بار بھی بچ گی لیکن یہ حقیقت آخر کب تک چھپی رہے گی۔آج کی رات مجھے فیصل کا میسج آتا ہے کیسی ہو طبیعت کیسی ہے۔لگتا ہے مجھے چھوڑنا چاہتی ہوں تین دن ہو گئے ہیں میسج ہی نہیں کیا تم نے تو۔میں اسے جواب دیتے ہوئے کہتی ہوں کہ میرے گھر والوں کو پتہ چل جائے گا ان کو شک ہوا ہے اور اگر ان کو حقیقت کا پتہ چلتا ہے تو وہ مجھے مار ڈالیں گے۔اور ہماری شادی تو ویسے ہی ناممکن ہے اور تیسرا راستہ گھر سے بھاگ کر شادی کرنے کا تو ایسی سوچ ہی نہیں ہے میرے دماغ میں۔اس بات کا کوئی حل بتاؤ کہ ہم دونوں شادی کرلے ۔ کیونکہ مجھے تم سے محبت ہے اور تم مجھ سے ہے اور جدائی ایک موت ہے۔فیصل نے کہا زندگی تو برباد ہو ہی گئی ہے۔اور تمہارے گھر والے میرا رشتہ قبول نہیں کریں گے۔گھر سے بھاگ کر شادی کرنے کے علاوہ اور کوئی حل نہیں ہے۔میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں اور تمہیں ساری زندگی خوش رکھوں گا۔"میری زندگی میں کوئی راستہ نہیں بچا تھا اور اگر میری شادی کسی دوسرے سے ہو بھی جاتی تو میری زندگی میں امانت کی خیانت کا داغ ہمیشہ مجھے میرے دل میں پتھر کی لکیر شامل رہتا ۔میں بھی یہی چاہتی تھی کہ میری شادی سے فیصل سے ہو۔ جو غلطی ہونی تھی ہو چکی تھی۔لیکن میری غلطی کسی دوسرے کی زندگی کو کبھی شرمندہ نہیں کرنا چاہتی تھی۔لیکن میرا دل یہ بھی چاہتا تھا کہ یہ سب ختم ہو جائے فیصل سے دور ہو جاؤ وہ میری زندگی سے دور چلا جائے۔اور میری زندگی پہلے جیسے ہو جائے۔لیکن میری بد قسمتی تھی یا پھر نصیب کا لکھا سمجھو۔ہوتا کچھ یوں ہے۔ہمارے خاندان میں ایک رشتہ دار والوں کی آمد ہوتی ہے کے میرے خاندان سے میرا ایک رشتہ آتا ہے جنکا تعلق ہم جیسے شریف اور تہذیب دار گھرانے سے ہوتا ہے اور لڑکے کا ایک کپڑے کا کاروبار ہوتا ہے۔میری عمر کو دیکھتے ہوئے اور میری پڑھائی کو مد نظر رکھتے ہوئے ابو جان رشتے کے لئے تھوڑا وقت لیتے ہیں۔ابو جان سوچتے ہیں کہ اگر رشتہ ہو جاتا ہے تو نکاح ہوجائے اور رخصتی ٹھیک سات ماہ بعد ہوجائے تاکہ بیٹی کی ڈگری بھی پوری ہوجائے گی اس باتوں کا امی سے مشورہ کر رہے ہوتے ہیں.امی بھی اس بات کو مان جاتی ہیں۔اور رشتے کے لئے ان کو قبول کا جواب دیتے ہیں۔لیکن مجھ سے میری مرضی کے بارے میں نہیں پوچھا جاتا۔مجھ سے بس یہی کہا جاتا ہے کہ ہم تمہارا ایک معزز گھرانے میں رشتہ کر رہے ہیں جو کہ ہمیں امید ہے کہ تم ساری زندگی خوش رہو گی ہمارے اس فیصلے پر۔جی میں بڑے احترام سے بولتے ہوے آپ کا فیصلہ سر آنکھوں پر انشاءاللہ آپ کا فیصلہ ہمیشہ کی طرح میرے لیے بہترین سے بہتر ہوگا۔ یہ سب بات میں فیصل کو بتاتی ہوں۔اور یہ بھی بولتی ہوں اس ماہ کی 22 تاریخ کو میرا نکاح ہے اور تم میرے لیے کچھ نہیں کر سکے تمہارے الفاظ صرف الفاظ ہی رہے۔میں کیا کرتا میں تو آج بھی تمہیں قبول کرنا چاہتا ہوں مجھے پتا ہے کہ میرا تعلق ایک مسلم اور غیر مسلم خاندان سے ہے لیکن میری نسبت تو مسلمان گھرانے سے ہے لیکن میں رشتہ بھیجتا تو بھیجتا کیسے تمہارے گھر کے آنگن میں غیروں کا اجازت ممنوع ہے بات یہ نہیں ہے کہ ہم غیر ہیں اور تمہاری گھر کی تہذیب ہمیں اندر داخل تک نہیں ہونے دے گی۔بات یہ بھی نہیں ہے ۔لیکن حقیقت یہ ہے تمہارے گھر کی تہذیب مجھے کبھی قبول نہیں کرے گی نسبت سے میں بھی مسلمان ہوں۔میرا مسیح مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔مانتا ہوں تربیت ایک مسیحا ہاتھوں میں ہوئی لیکن تمہارے گھر کو یہ بات میری کبھی سمجھ نہیں آئے گی۔مانتا ہوں کہ میں نے بھی غلطی کی ہے۔میں شرمندہ ہوں اپنی غلطی پی۔لیکن غلطی انسانوں سے ہی ہوتی ہے۔اگر میرا بس چلتا تو میں کبھی تم سے ملتا ہی نہ۔میری وجہ سے آج تم پریشان ہو۔لیکن میں نے فیصل نے کہا ہماری راہے اور منزل ایک دوسرے سے الگ ہے میں اپنی والدین کی عزت کا احترم کرتی ہوں۔اور مزید کوئی غلط فیصلہ نہیں کرنا چاہتی ہو۔اور آج کے بعد مہربانی کر کے مجھے میسج نہیں کرنا جو ہوا میں اسکو بھول جانا چاہتی ہوں کے ہم کبھی ملے ہی نہیں اور یہ ایک برا خواب تھا بس۔

جاری ہے

🚨 تلاشِ ورثا 🚨لاچی سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ شکر درہ روڈ پر ایک نامعلوم شخص کا ٹریفک حادثہ پیش آیا ہے۔ زخمی شخص کو ابتدا...
10/05/2026

🚨 تلاشِ ورثا 🚨

لاچی سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ شکر درہ روڈ پر ایک نامعلوم شخص کا ٹریفک حادثہ پیش آیا ہے۔ زخمی شخص کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ٹائپ ڈی ہسپتال سے کے ڈی اے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

تاحال زخمی شخص کی شناخت نہیں ہوسکی۔
جو حضرات اس شخص کو جانتے ہوں یا اس کے اہل خانہ تک اطلاع پہنچا سکتے ہوں، وہ درج ذیل نمبر پر فوری رابطہ کریں:

📞 0314-9102355

اللہ تعالیٰ زخمی شخص کو صحتِ کاملہ عطا فرمائے اور اہلِ خانہ کو جلد ملائے۔
براہِ کرم اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ ورثا تک اطلاع پہنچ سکے۔

⚠️ عبرت ناک انجام ⚠️اللہ اکبر 😢مانسہرہ سے دل دہلا دینے والی خبر...سوشل میڈیا کی جھوٹی محبت کے جال میں پھنس کر گھر سے نکل...
10/05/2026

⚠️ عبرت ناک انجام ⚠️

اللہ اکبر 😢
مانسہرہ سے دل دہلا دینے والی خبر...

سوشل میڈیا کی جھوٹی محبت کے جال میں پھنس کر گھر سے نکلنے والی ایک لڑکی اپنی ج ان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔
چند دن پہلے وہ گھر سے لاکھوں روپے نقدی اور زیورات لے کر نکلی تھی۔ والدین نے اغواء کا مقدمہ درج کروایا، ہر دروازہ کھٹکھٹایا، مگر افسوس... بیٹی زندہ واپس نہ آسکی۔ 💔

سفاک شخص نے پہلے دولت لوٹی، پھر معصوم زندگی چھین کر ل ا ش ویرانے میں پھینک دی۔
پولیس نے شک اور شواہد کی بنیاد پر ایک نوجوان کو گرفتار کر لیا ہے۔

یہ واقعہ ہر بیٹی، ہر بھائی اور ہر والدین کے لیے ایک دردناک سبق ہے۔
دنیا میں ماں باپ سے بڑھ کر کوئی خیر خواہ نہیں ہوتا۔
سوشل میڈیا کی چمکتی دنیا ہرگز حقیقت نہیں ہوتی، ایک غلط قدم پوری زندگی چھین سکتا ہے۔

اللہ پاک مرحومہ کی مغفرت فرمائے اور تمام بیٹیوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین 🤲

السلام علیکم! گندم فروخت کرنے والے حضرات سے درخواست ہے کہ بازار میں گندم فروخت کرنے کے بجائےگ سوشل میڈیا پر کل وزن اور ع...
10/05/2026

السلام علیکم!
گندم فروخت کرنے والے حضرات سے درخواست ہے کہ بازار میں گندم فروخت کرنے کے بجائےگ
سوشل میڈیا پر کل وزن اور عمومی قیمت کے ساتھ پوسٹ کریں تاکہ ضرورت مند کو اپنے علاقے میں گندم عام قیمت پر ملے اور علاقے کی فصل اپنے علاقے کے لوگوں کے کام آئے ۔۔ شکریہ
اگر پوسٹ پسند ایا ہو تو اگے شئر کرے

ضلع سانگھڑ کی تحصیل جھول میں دو معصوم بچیوں کو مبینہ طور پر چند روپے چوری کے الزام میں جس انداز سے موٹر سائیکل پر بٹھا ک...
10/05/2026

ضلع سانگھڑ کی تحصیل جھول میں دو معصوم بچیوں کو مبینہ طور پر چند روپے چوری کے الزام میں جس انداز سے موٹر سائیکل پر بٹھا کر تھانے لے جایا گیا، اُس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

بچیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔ اگر اُن سے کوئی غلطی ہوئی بھی تھی تو بڑوں کو چاہیے تھا کہ پیار، شفقت اور سمجھداری سے معاملہ حل کرتے، نہ کہ اس طرح کمسن بچیوں کی تذلیل کی جاتی۔ قانون بھی بچوں کے ساتھ انسانی ہمدردی، عزت اور محتاط رویہ اختیار کرنے کا درس دیتا ہے۔

غربت، مجبوری یا کم عمری کو جرم بنا کر معصوم بچوں کی عزتِ نفس مجروح کرنا کسی صورت درست نہیں۔ ایسے واقعات معاشرے کے اجتماعی رویّے پر سوالیہ نشان ہیں۔ بچوں کو خوف اور ذلت نہیں بلکہ تربیت، محبت اور تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے۔

عوامی حلقوں نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ کسی معصوم بچے یا بچی کے ساتھ ایسا رویہ اختیار نہ کیا جائے۔

آئی جی سندھ سے اپیل ہے کہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے اور بچوں کے حقوق، عزت اور تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

Address

Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Israr Sami posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Israr Sami:

Share

Category