15/03/2026
عزمِ جواں سے کامیابی کے آسمان تک
عظمت اور فیضان کی داستانِ ہمت
تحریر ساجد
"پہاڑی سلسلے چاروں یہاں ملتے ہیں آپس میں
مثالِ گوہرِ نایاب کہ ہم پتھر میں رہتے ہیں"
مرحوم جمشید خان دوکھی کا یہ خوبصورت شعر گلگت بلتستان کی عظمت کا عکاس ہے۔ جتنا یہ دھرتی بے مثال ہے، یہاں کے لوگ بھی اتنے ہی لاجواب ہیں۔ زندگی کے ہر شعبے میں یہاں کے سپوت اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔
آج ہم آپ کی ملاقات ضلع غذر کی تحصیل یاسین کے دو ایسے ہی ہونہار نوجوانوں سے کرواتے ہیں جنہوں نے نامساعد حالات میں اپنی پہچان بنائی: عظمت اور فیضان علی۔ عظمت کا تعلق سلطان آباد سے ہے جبکہ فیضان سندھی (یاسین) کے رہائشی ہیں۔ دونوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقوں سے حاصل کی۔
مشکل آغاز اور سماجی رکاوٹیں
ان نوجوانوں کا نام اس وقت منظرِ عام پر آیا جب گلگت بلتستان اور چترال میں سرمائی کھیلوں (آئس ہاکی اور آئس اسکیٹنگ) کا آغاز ہوا۔ ہنزہ سے شروع ہونے والا یہ کھیل دیکھتے ہی دیکھتے پورے خطے میں مقبول ہو گیا اور غیر ملکی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ اسی لہر کو دیکھتے ہوئے تحصیل یاسین کے چند متحرک نوجوانوں نے، جن میں عظمت اور فیضان پیش پیش تھے، اپنی مدد آپ کے تحت دریا کے کنارے اور برفیلے تالابوں پر اس کھیل کی مشق شروع کی۔
شروع میں انہیں عوامی شعور کی کمی کی وجہ سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا، حتیٰ کہ ساتھی کھلاڑیوں کے والدین بھی اس سرگرمی کے خلاف تھے۔ لیکن جن کے ارادے بلند ہوں، وہ تنقید سے نہیں گھبراتے۔
سنو کیپ ایڈونچر کلب کا قیام
ہمت نہ ہارتے ہوئے ان نوجوانوں نے تحصیل یاسین میں "سنو کیپ ایڈونچرز کلب" کی بنیاد رکھی۔ شاہ رحیم، رانا عمران اور مراد جیسے ساتھیوں کی مدد سے اس کلب نے جڑ پکڑی۔ مقامی اداروں اور بااثر شخصیات کے تعاون سے یہ کارواں بڑھتا گیا اور یاسین میں پہلی بار ونٹر فیسٹیول کا کامیاب انعقاد ممکن ہوا۔ اس ایونٹ نے نہ صرف مقامی ٹیلنٹ کو ابھارا بلکہ سیاحت اور مقامی کاروبار کو بھی فروغ دیا۔
قومی ٹیم تک رسائی: ایک خواب کی تعبیر
محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ یاسین کے ان میدانوں سے نکلنے والے کئی نوجوان مختلف ڈیپارٹمنٹس اور یونیورسٹیوں تک پہنچے، لیکن عظمت اور فیضان کی منزل کچھ اور تھی۔ وہ مسلسل بڑے پلیٹ فارمز کی تلاش میں رہے۔ بالآخر ان کی برسوں کی محنت رنگ لائی اور انہیں پاکستان نیشنل بال اینڈ ڈیک ہاکی ٹیم (National Ball & Deck Hockey Team) میں ملک کی نمائندگی کے لیے منتخب کر لیا گیا۔
گلگت بلتستان کے دور افتادہ پہاڑوں سے نکل کر قومی ٹیم کا حصہ بننا کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ محض ایک کامیابی نہیں بلکہ ان تمام نوجوانوں کے لیے ایک سبق ہے جو وسائل کی کمی کا رونا روتے ہیں۔ اگر شوق، لگن اور سچا جذبہ ہو تو راستے خود بخود بن جاتے ہیں۔
مبارکباد
میں عظمت، فیضان اور ان کے اہل خانہ کو اس عظیم کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ دونوں کو پاکستان، گلگت بلتستان اور بالخصوص تحصیل یاسین کا نام روشن کرنے کی مزید توفیق عطا فرمائے۔ آمین!