06/04/2025
تحریر۔ ظہیرشیر عادل مدرس۔
بابوسر سرکاری ھیڈ کوارٹر قشط پنجم ۔۔۔
1۔۔۔باب سر 2۔۔۔بابوسر ۔۔۔3۔۔۔ست سری یا سات سر ۔۔۔
کیی زبانوں میں سر جھیل کو کہتے ہیں بشمول (شینا )
دنیا مانتی ھے البیرونی ایک محقق سیاح تاریخ دان اور سانس دان گزرا ھے ۔۔وہ اپنی کتاب الہند مین دو دریاون کا ذکر کرتے ہین ۔۔(1) مہوی جس کو سٹراول سٹین نے دریا کشن گنگا کہا ہے
(2) کنہری اس کو دریاے کنہار کا نام دیا ھے ۔۔۔اور ساتھ یہ بھی کہا ھے کہ یہ دونوں دریا بولورا یا شاملان کے پہاڑوں سے نکلتے ہیں ۔یہ دونوں نام کسی زمانے میں موجودہ گلگت بلتستان کیلے استعمال ہو رھے تھے ۔
دریاے کنہار بابوسر ٹاپ کے مشرق میں ایک جھیل سے نکلتا ہے جنوب مغرب کی طرف بہتا ہوا باب سر میں داخل ہوتا ھے جسے لولو سر کہتے ھین ۔یہ نام بھی شینا زبان کا ھے لولوسر لفظ کا دقیق تشریح ہے پر اس موقع پر ضرورت نہین ۔
لولو سر کو باب سر اس لیے کہا گیا ھے ۔اس جھیل کے مشرق مغرب اور جنوب کی طرف بے شمار چھوٹی اور بڑی وادیاں ھین جو سب کے سب جھیلون سے بھری پڑی ہیں اس وجہ سے اس جھیل لولوسر کو باب سر کہا گیا ھے ۔اس کا حدود بھی بابوسر کے ساتھ رہا ھے ۔برطانوی حکومت کے اختتام تک کار بیگار اور ڈاک وغیرہ کا کام جو ظلم و جبر پر عوام سے لیتے باب سر کا حدود بابوسر سے منسلک رہا ہے ۔۔
چونکہ یہ دریا یہ راستہ اور یہ نام زمانہ قدیم سے ہے ۔اس باب سر کا مطلب جھیلون کا دروازہ یا جھیلون کی دنیان ۔باب سر سے شمال کی طرف بابوسر ٹاپ ھے اور ٹاپ سے شمال کی جانب بابوسر ھیڈ کوارٹر واقع ھے ۔
(2)بابوسر۔۔۔۔۔بابوسر جب تباہ کن سیلاب سے بہ چکا تو اسکے تہ پہ موجودہ سر کاری ھیڈ کوارٹر تعمیر کیا گیا ۔جس سنہ 1984 ء تک ضلع دیمر کے تمام دفاتر 6 ماہ بابوسر میں سرکاری زمہ داریان سر انجام دیتے ۔بابوسر سر کیون کہا گیا ۔یہ مختلف اقوال ھین ۔اس جھیل کے کنارے کسی وقت کوی شہزادہ رہتا یا اس زمانے کا حکمران تھا یا بقول میرے بھانجہ روشن دین کے اس جگہ واقع قلعہ کا حاکم تھا اس کے نام کے نسبت سے اب تک اس علاقے کا نام بابوسر چلا ایا ھے ۔۔۔
(3)ست سری یا سات سر ۔۔یہ جھیل بابوسر سے شمال کی طرف بابوسر مرکز مین واقع تھا ۔جھیل کے نام کا تعریف اسطرح ہے کہ اس سے جنوب مغرب کی طرف مختلف ماقامات پہ اس کے ساتھ سات جھیلن تھین اس نسبت سے اسے سات سری کہا گیا تھا ۔۔
دنیاوی زندگی کی سفر مین بابوسر اور سات سری صف ہستی سے مٹ چکے البتہ باب سر لولو سر اپنے اصلی حالت مین تو نہین پر ایک حد تک خوبصورت اور اس علاقے کا بڑی جھیل کی حیثیت سے موجود ہے ۔۔البتہ چھکی اور رونی جو بابوسر کی تاریخ کا ایک حصہ ہین اگلی قشط میں انشا ءاللہ