13/05/2026
" درخت ایک دوسرے کے پھل نہیں چراتے، درخت ایک دوسرے کی چھاؤں نہیں جلاتے، درخت ایک دوسرے پر حملہ نہیں کرتے، درخت ایک دوسرے کو گالیاں نہیں بکتے، اگر کسی ایک درخت پہ زیادہ پھل لگ گئے ہیں تو ساتھ والے درخت اس سے جلتے نہیں ہیں۔
اگر کسی طرف کم پھل لگ گیا ہے تو ساتھ والے درخت اس کا مذاق نہیں اڑاتے مقابلہ نہیں کرتے
درخت جب کشتی بن جاتے ہیں تو لوگوں کو تیرنا سکھاتے ہیں
درخت جب دروازہ بن جاتے ہیں تو لوگوں کے راز رکھنا سکھاتا ہے
درخت جب کرسی بن جاتا ہے تو اپنے اوپر تنے اور اسمان کو کبھی نہیں بھولتے
اور درخت جب میز بن جاتے ہیں تو ایک شاعر کو سکھاتے ہیں کہ کچھ بھی ہو جائے تم نے لکڑہارا نہیں بننا
سو ہم بھی محبت میں درختوں کی طرح ہیں جہاں لگ جائیں وہاں عمروں کھڑے رہتے ہیں
اے میری شاخ شاخ کے مقروض جا شجر بددعا نہیں دیتے اپنا جیون بھی درختوں جیسا بنائیے بہت شکریہ