25/08/2024
*اربعین اور عراقی عوام کا عشق*
*مسلمانوں کا سب سے بڑا اجتماع*
*عشق حسین ع ایک عجیب معجزہ ہے.*
آج 20 صفر روزِ اربعین حسینی ع (چالیسواں شہدائے کربلا) کا دن ہے. ویسے تو ہمشیرہ امام حسین ع دختر علی ع جناب زینب سلام اللہ علیہا نے سب سے پہلے اپنے بھائی اور دیگر شہدائے کربلا کی یاد میں اربعین اور اس مَشی (یعنی کربلا کی جانب پیدل واک)کا آغاز کیا جو اس وقت سے آج تک مسلسل تمام عاشقانِ اہل بیت رسول انجام دیتے آرہے ہیں البتہ صدام ملعون کے واصل جہنم ہونے کے بعد گزشتہ کئی سالوں سے اس سنتِ زینب س اور نواسہ رسول ص کے عشق سے سرشار سفر میں ایک زبردست اضافہ دیکھنے کو ملا ہے.
یہ دنیا کا ایک ایسا منفرد اجتماع ہے کہ جس کی تعداد کروڑوں میں ہونے کے باوجود بہت سی نا قابل فہم چیزیں اس میں دکھائی دیتی ہیں جیسا کہ
١- یہ دنیا کی سب سے بڑی اور لمبی پیدل واک ہے جس میں ہر سال اڑھائی سے تین کروڑ لوگ حصہ لیتے ہیں
٢- اس اجتماع میں دنیا بھر سے زائرین شرکت کرتے ہیں
٣- ویسے تو پوری دنیا سے لوگ اس میں شامل ہوتے ہیں لیکن اس کی خاصیت نجف سے کربلا 80 کلومیٹر سے زائد کی اجتماعی واک ہے
٤- اس پوری واک میں ایران و عراق کے تمام رستوں میں زائرین کیلیے دنیا بھر کی تمام سہولیات عام عوام کی جانب سے فری میں دستیاب ہوتی ہیں
٥- نجف سے کربلا تک 80 کلومیٹر پہ محیط دنیا کا سب سے بڑا فری دسترخوان لگایا جاتا ہے جو کہ دنیا بھر کی تمام تر انواع و اقسام کے کھانوں سے مزین ہوتا ہے
٦- اس دنیا میں موجود کوئی بھی ایسی سہولت نہیں ہے جو اس 80 کلومیٹر کی واک میں زائرین کیلئے موجود نا ہو
٧- جہاں بھی زائرین تھک جائیں ان کے آرام کیلہے فری کھانا رہائش اور خدمت گزار لوگ موجود ہوتے ہیں جو آپ کی منتیں کرتے ہیں کہ خدارا ہمیں اپنی خدمت کرنے دیں
٨- نو مولود بچوں سے لیکر نحیف و لاغر بزرگوں تک ہر طبقے کے لوگ موجود ہونے کے باوجود یہ اجتماع دنیا کا پرامن ترین اور منظم ترین اجتماع ہے جس میں کبھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا (خدا کرے ہو بھی نا)
٩- یہ عالم اسلام کا سب سے بڑا اجتماع ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے تمام مزاہب کے لوگوں کا بھی سب سے بڑا اجتماع ہے اس میں بلا تفریق رنگ و نسل مذہب و مسلک دنیا کے ہر کونے سے لوگ شرکت کرتے ہیں اور ان معجزات عشقِ حسین ع کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کے ششدر رہ جاتے ہیں
١٠- اس اجتماع کے تمام تر انتظامات اور اس میں خرچ ہونے والے تمام تر معاملات عام افراد دیکھتے ہیں جبکہ حکومت کو بھی زر مبادلہ کی صورت میں بے پناہ فائدہ ہوتا ہے
١١- یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ عراق ایک نہایت غریب ملک ہے جو کہ 1980 سے مسلسل حالت جنگ میں ہونے کے ساتھ ساتھ داعش جیسی لعنت سے بھی نبرد آزما رہا ہے اس غربت کے باوجود یہ عشق حسین ع ہی ہے جو اہل عراق کو دنیا کی سب سے مہمان نواز قوم بناتا ہے
١٢- جہاں دیگر ممالک میں اجتماعات کے دنوں میں اشیائے ضروریہ کہ چیزوں میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے چاہے مذہبی اجتماع ہو یا دیگر اجتماعات وہیں عراق میں ہونے والے اس اجتماع پہ لوگ اپنے گھروں کو زائرین کیلیے خالی کر دیتے ہیں، اپنے سال بھر کی کمائی کرتے ہی ان ایام میں خدمت زائرین امام حسین علیہ السلام کیلئے ہیں.
ہر سال کی طرح اس سال بھی 2.5 کروڑ سے زائد عاشقان امام ع اس اجتماع میں شرکت کر رہے ہیں.
*یہ معجزاتِ عشق حسین ع کے سوا اور کیا ہے بھلا ؟*
WhatsApp Group Invite