Fai Visions

Fai Visions 𝗧𝗵𝗲 𝘄𝗮𝘆 "𝗜" 𝘀𝗲𝗲 𝘁𝗵𝗲 𝘄𝗼𝗿𝗹𝗱.
𝑯𝒂𝒍𝒇 𝒇𝒊𝒓𝒆 | 𝑯𝒂𝒍𝒇 𝒇𝒍𝒐𝒘𝒆𝒓

آزاد فکر سے ہوں عزلت میں دن گزاروں دنیا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا ہو
03/10/2023

آزاد فکر سے ہوں عزلت میں دن گزاروں
دنیا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا ہو

عن أبي سعيد الْخُدْرِي -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: 《مَنْ رَضِيَ بالله رَبًّا، وبالإسلام دِيْنً...
13/08/2023

عن أبي سعيد الْخُدْرِي -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: 《مَنْ رَضِيَ بالله رَبًّا، وبالإسلام دِيْنًا، وبمحمد رسولًا، وجَبَتْ له الجنة》
وہ اللہ سے ہر حال میں راضی تھے، اللہ بھی ان سے راضی ہوا۔۔۔

انسان اگر اپنے حال سے راضی نا ہو تو کیا صرف شکوے اور شکایات کرنے سے حال درست ہوجائے گا؟
مقصد بھول جائے تو کیا منزل پالے گا؟
نہیں نا؟

ہم نے بھی یہی کیا ہے۔۔ پاکستان کو اسلام کے نام پہ آزاد کروا کے آج ہمیں اس کی آزادی کے نام پر چھٹی چاہیئے! ہماری نظر میں ملک کو سبز رنگ میں نہلا دینا آزادی منانا ہے۔۔

ہم کہتے ہیں فلاں اور فلاں نے ملک کا استعمال کیا ہے۔۔کھا لیا ہے اس کو۔۔۔ ہم اس کی آزادی کے نام پر کیا کررہے ہیں؟ %14 پر سیل لگا کر اور اشیاء خرید کر وطن سے محبت کا ثبوت دے رہے ہیں؟ ہم بھی تو 14 کے ہندسے کا استعمال ہی کررہے ہیں؟ کیوں؟ کیونکہ ہمیں بھی تو کمائی کرنی ہے نا۔۔ غرض ہر کوئی اپنی اپنی حیثیت کے مطابق کرپٹ ہے۔ اپنا جائزہ سب نے خود لینا ہے!

مزید کی دوڑ میں ہم نے میسر پر شکر کرنا چھوڑ دیا ہے!

ہمارے تمام تر جملے، طعنے، باتیں، خبریں صرف شکایات کے اردگرد گھومتی ہیں إلا ماشاءاللہ۔۔۔ حالانکہ اللہ نے تو بولا ہے لئن شکرتم لأزیدنکم۔

ہم کہتے ہیں دشمن ہم پر مسلط ہے۔۔ کیا ہم احد کا وہ میدان بھول گئے جس میں ہماری تاریخ نے یہ سبق دیا تھا جب تم اللہ یا اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرو گے تو دشمن تم پر غالب آجائے گا!

ہمیں لگتا ہے بہترین مستقبل تو باہر کے ممالک میں ہے.. ہم یہ کیوں بھول گئے کہ زندگی کی اس دوڑ میں ہم آئے تو کسی اور مستقبل کی تیاری کیلئے ہیں!

مجھے بہت سے احباب بولیں گے کہ دنیا میں رہنا بھی ضروری ہے۔اس سے انکار نہیں ہے!۔۔ لیکن یہ حدیث یاد رکھنا بھی تو ضروری ہے کن فی الدنيا کأنك غریب أو عابر السبیل۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پیٹ پر پتھر باندھ لیا کرتے تھے لیکن ہاتھ نہیں پھیلاتے تھے۔۔ پھر بھی زندہ تھے! کیونکہ ایمان زندہ تھا، توکل زندہ تھا، ان کو پتہ تھا الرزاق اللہ تعالی ہے۔۔ اس نے جو مقدر میں لکھا ہے وہ مل کر رہے گا۔۔

باتیں طویل ہیں۔۔ عمل قلیل ہے۔۔ بس یہی کہنا تھا جو مل گیا ہے اس پر راضی رہیں۔۔ اس رب سے راضی رہیں جو دے کر بھی آزماتا ہے اور لے کر بھی۔۔ اس ملک نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے اور سرد و گرم ہوا زندگی کا حصہ ہے۔۔۔ اپنی کمی دیکھیں گے تو دوسروں کی دیکھنے کا وقت کم ملے گا۔
اپنے آپ کی انفرادی تربیت کریں۔۔ کیونکہ معاشرہ افراد ہی سے بنتا ہے۔۔

- فائقہ اظہر

ہے يہ فردوس نظر اہل ہنر کي تعميرفاش ہے چشم تماشا پہ نہاں خانہ
10/07/2023

ہے يہ فردوس نظر اہل ہنر کي تعمير
فاش ہے چشم تماشا پہ نہاں خانہ

Happiness is within you...Choose to be grateful for the little things that enlighten your day. Appreciate all those peop...
06/06/2023

Happiness is within you...
Choose to be grateful for the little things that enlighten your day. Appreciate all those people who try to make you feel better. All those moments that cheer you up. In the mess of feelings, focus on what is important, what brings peace to your soul, and let all the rest go.

یہ تمنا ہے کہ آزاد تمنا ہی رہوں ✨️
26/05/2023

یہ تمنا ہے کہ آزاد تمنا ہی رہوں ✨️

11/05/2023

" لوگوں کی بجائے اللہ تعالٰی سے اپنی امیدیں اور تعلق استوار کریں"

سخت کشمکش کا دور ہو تو پر فتن لوگوں اور حالات سے اعراض کرنا چاہیئے وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ اور اللہ تعالٰی کے فیصلوں کا صبر کے ساتھ انتظار کرنا چاہیئے وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا أَصَابَكَ مومن کا طرز عمل عام لوگوں سے مختلف ہوتا ہے. اللہ تعالٰی کی مدد کی امید رکھنے والے بے صبرے نہیں ہوتے واعلَمْ أنَّ النَّصرَ في الصَّبرِ.

دنیا میں کسی فیصلے کا دن ہو یا قیامت کا دن، اس وقت اور دن تک ہر کوئی اپنا اپنا عمل سمیٹ رہا ہے، اور پھر اس دن سب ہلچل اور بدامنی ختم ہوجائے گی، ہر کوئی اپنے کیے عمل کا ہی بدلہ پائے گا۔

وَكُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ ۖ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كِتَابًا يَلْقَاهُ مَنشُورًا
اور ہر شخص (کے عمل) کا انجام ہم نے اس کے اپنے گلے سے چمٹا دیا ہے، اور قیامت کے دن ہم (اسکا) اعمال نامہ ایک تحریر کی شکل میں نکال کر اس کے سامنے کر دیں گے جسے وہ کھلا ہوا دیکھے گا.
اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَىٰ بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا
(کہا جائے گا کہ) لو پڑھ لو اپنا اعمال نامہ! آج تم خود اپنا حساب لینے کے لیے کافی ہو.
مَّنِ اهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ ۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۗ
جو شخص سیدھی راہ پر چلتا ہے، تو وہ خود اپنے فائدے کے لیے چلتا ہے، اور جو گمراہی کا راستہ اختیار کرتا ہے، وہ اپنے ہی نقصان کے لیے اختیار کرتا ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا..
[الاسراء 13-15]

اللہ تعالٰی پر کامل یقین رکھنے والا تو ہر اس منفی ری ایکشن سے خود کو بچاتا ہے جو اللہ کا ناپسندیدہ ہو بھلا وہ بول کر ہو یا عملی اقدام ۔۔ مشکلات اور آزمائشیں سب پر آتی ہیں، بچانے والا(اللہ) بچاتا ہے اور بچتا صرف وہی ہے جو اسکی مرضی کے مطابق چلنے والا ہوتا ہے!

مَّن كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَّدْحُورًا
جو شخص دنیا کے فوری فائدے ہی چاہتا ہے تو ہم جس کے لیے چاہتے ہیں ، جتنا چاہتے ہیں ، اسے یہیں پر جلدی دے دیتے ہیں، پھر اس کے لیے ہم نے جہنم رکھ چھوڑی ہے جس میں وہ ذلیل و خوار ہو کر داخل ہوگا۔
وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا
اور جو شخص آخرت (کا فائدہ) چاہے، اور اس کے لیے ویسی ہی کوشش کرے جیسی اس کے لیے کرنی چاہیئے جبکہ وہ مومن بھی ہو، تو ایسے لوگوں کی کوشش کی پوری قدر دانی کی جائے گی۔
[الاسراء 18-19]

اگر ہم اس زندگی کو امتحان سمجھ لیں تو ہمارا نقطہ نظر اور زاویہ زندگی بدل سکتا ہے۔ آزمائشیں تو سب سے زیادہ انبیاء پر آئی تھیں ہمیں مشکل حالات میں ان کی سیرت پر عمل کرنا چاہیئے، آخر کیا چیز ان کو ایسے حالات میں بھی صابر رکھتی تھی؟ "ایمان و یقین کی قوت"

خِرد نے کہہ بھی دیا ’لااِلہ‘ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
عجب نہیں کہ پریشاں ہے گفتگو میری
فروغِ صبح پریشاں نہیں تو کچھ بھی نہیں

آپ ﷺ اور ان کے اصحاب کرام رضی اللہ عنہم کو سرزمین مکہ سے نکال کر مدینہ بھیجنے والا اللہ تھا اور پھر مکہ کو بھی پر امن کردیا گیا لیکن صبر سالوں پر محیط تھا، ابراہیم علیہ السلام کیلئے آگ کو گلزار کس نے کیا تھا؟ یوسف علیہ السلام کو جیل سے کس نے نکالا تھا؟ لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب آنے سے پہلے ان کو اور ان کے اہل کو بستی سے کس نے نکالا؟ موسی علیہ السلام کو فرعون کے چنگل سے نجات کس نے دی؟ اسی طرح اور بہت سی اقوام اور انبیاء کی نجات کے واقعات سے اسلامی تاریخ بھری پڑی ہے، پھر ہم میں وہی جذبہ ایمان، یقین، شکر اور صبر کیوں پیدا نہیں ہوتا؟ یہاں پر یہ سوال دوسروں سے زیادہ ہمیں تنہائی میں بیٹھ کر خود سے کرنا چاہیئے! ہم اتنے مجبور و مایوس کیوں ہیں؟ اپنا ذاتی محاسبہ کرنا ہے کہ میں اس دنیا میں کرنے کیا آیا ہوں اور کر کیا رہا ہوں؟

اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ
املاک بھی اولاد بھی جاگیر بھی فتنہ
ناحق کے لئے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ہی کیا نعرۂ تکبیر بھی فتنہ

ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہماری زبان، الفاظ، قلم، قدم اور عمل کس کیلئے ہے؟ کیا ہم اللہ تعالٰی کی خاطر اور دین کی خاطر جنگیں کررہے ہیں یا کسی شخصیت کی خاطر؟ یہ سوال صرف خود سے پوچھنا ہے کہ میں کس کیلئے کررہا ہوں؟ مسلمان کا جواب ہوگا کہ اللہ کیلئے ۔۔اچھا؟ تو پھر اس پر یقین کیوں نہیں؟ پھر اس سے دعا کیوں نہیں؟ پھر اس کے احکام پر عمل کیوں نہیں؟ پھر ایک مسلمان ہی کیوں دوسرے مسلمان کی جان، مال اور عزت کی حرمت کا پاس نہیں کررہا جس کی حرمت اللہ تعالٰی کے نزدیک کعبہ سے بھی زیادہ ہے؟ پھر ایک عورت کیوں اپنی عزت کسی شخصیت کی خاطر خراب کررہی ہے؟ جبکہ اللہ نے تو اسکو پردہ کرنے کا حکم دیا ہے؟ کسی مسلمان کے گھر پر حملہ کرکے اس کے گھر کے ہی سامان کو مال غنیمت سمجھ کر لوٹا جارہا ہے! بحثیت قوم یہ طرز عمل ہے تو حکمران بھی ویسے ہی مسلط ہوں گے نا، ناموافق حالات میں جہاد کرنا چاہیئے، ضرور کریں لیکن اس دین کے نام پر نہیں جس پر ہم عمل کرنا ہی گوارا نہیں کرتے!

زندگی، آمد برائے بندگی
زندگی بے بندگی، شرمندگی

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اللہ کے احکام کی حفاظت کرو، وہ تمہاری حفاظت فرمائے گا، تو اللہ کے حقوق کا خیال رکھو اسے تم اپنے سامنے پاؤ گے، جب تم کوئی چیز مانگو تو صرف اللہ سے مانگو، جب تو مدد چاہو تو صرف اللہ سے مدد طلب کرو، اور یہ بات جان لو کہ اگر ساری امت بھی جمع ہو کر تمہیں کچھ نفع پہنچانا چاہے تو وہ تمہیں اس سے زیادہ کچھ بھی نفع نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ تمہیں کچھ نقصان پہنچانے کے لیے جمع ہو جائے تو اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، قلم اٹھا لیے گئے اور (تقدیر کے) صحیفے خشک ہو گئے ہیں."
[سنن الترمذی: 2516]

وَمَن يُسْلِمْ وَجْهَهُ إِلَى اللَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ ۗ وَإِلَى اللَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ.
جو اپنا چہرہ اللہ کے سپرد کردے اور وہ محسن(احسان کے درجے پر عمل کرنیوالا) ہو تو بیشک اس نے مضبوط کڑا(سہارا) تھام لیا اور سب کاموں کا انجام الله ہی کی طرف ہے۔
[لقمان 22]

تو کبھی اس شہر سے ہو کر گزر راستوں کے جال میں الجھا ہوں میں
03/05/2023

تو کبھی اس شہر سے ہو کر گزر
راستوں کے جال میں الجھا ہوں میں

Invest your intellect in universe.
21/01/2023

Invest your intellect in universe.

اک طرف دل کا یہ اصرار کہ خلوت خلوتاک طرف حسرت تسکین نظر کھینچتی ہے
03/11/2022

اک طرف دل کا یہ اصرار کہ خلوت خلوت
اک طرف حسرت تسکین نظر کھینچتی ہے

خدا کرے میری ارض پاک پر اترےوہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہویہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوںیہاں خزاں کو گزرنے کی ب...
14/08/2022

خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو

یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو

گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں
کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو

خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو

ہر ایک خود ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال
کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو

خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

(احمد ندیم قاسمی )

فنا ہوتے ہوئے ہے یہ تسلی دِیا تھا، بن کے سورج میں جلا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اتباف ابرک
13/08/2022

فنا ہوتے ہوئے ہے یہ تسلی
دِیا تھا، بن کے سورج میں جلا ہوں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اتباف ابرک

ایک منزل ہے جو امکان سے باہر ہے کہیںاک مسافت ہے کہ بس گرد ِ سفر کھینچتی ہےعرفان ستار
04/08/2022

ایک منزل ہے جو امکان سے باہر ہے کہیں
اک مسافت ہے کہ بس گرد ِ سفر کھینچتی ہے

عرفان ستار

Address

IIUI
Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fai Visions posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Fai Visions:

Share

Category