13/10/2023
The History of Jews Part-1
یہودیوں کی تاریخ (پہلا حصہ)
اسلام اور یہودیت میں بہت خاص اور گہرا رشتہ ہے وہ اسلیے کے دونوں کے جدِامجد یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی ہیں اور دونوں ہی مذاہب عقیدہ توحید پر ایمان بھی رکھتے ہیں اور قران یہودیوں کو اہل کتاب کا خطاب بھی دیتا ہے۔تورات کا تعارف:
یہودیت میں کئی فقہ شامل ہیں اور سب اسی بات پر متفق ہیں کہ دین کی بنیادبےشک موسی علیہ السلام نے رکھی ہو مگردین کا دارومدار تورات اور تلمود کے مطالعہ پر ہےنہ کہ کسی ایک شخص کی پیروی کرنے میں۔
تورات یہودیت میں سب سے مقدس کتاب مانی جاتی ہے اور یہ قدیم عبرانیزبان میں ہے اسکے پانچ حصے ہیں جنہیں موسی علیہ السلام کی پانچ کتابیں بھی کہا جاتا ہے
1- GENESIS پیدائیش
2- EXODUS خروج
3- LEVITICUS احبار
4- NUMBERS نمبرز
5- DEUTERONOMY استشنا
تورات کا پہلا چیپٹر تخلیقِ کائینات اور تخلیقِ آدم وحواسے شروع ہوتا ہے ہوا طوفانِ نوح اورپھیر حضرتِ ابرہیم علیہ السلام تک انکی شادی اور بیٹوں تک پہنچ جاتا ہے اور یہ بیان کرنے کا مقصد ہے کہ اسرائیل کے خدا نے ابراہیم سے ایک وعدہ یا معاہدہ کرا تھا کہ اگر تم میری عبادت اور پیروی کرو گے تو میں تمہاری نسل سے بڑی بڑی قومیں پیدا کروں گا۔
تورات کی ان پانچ کتابوں میںتقریبا 613 احکامات درج ہیں جو معاشرے، اخلاقیات، شرع اور قوانین سے تعلق رکھتے ہیں اور ان میں سے 10 احکامات بہت مشہور ہیں۔
تلمود کا تعارف:
عبرانی زبان میں تورات کے مطلب ہیں سبق کے اور جس زمانے میں بیت القدس پر روم کی حکومت تھی اور بنی اسرائیل کو صرف اپنے معبد تک آنےکی اجازت تھی اس زمانے کے علما اپنا زیادہ وقت شرعی اور فقہی غور و فکر میں گزارتے سن 586 قبل مسیح میں بابل حکمرانوں نے ہیکل کو تباہ کردیا اور موسوی امت بکھر گئی اور اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ سن 200 قبل مسیح اور سن 200 عیسوی کے درمیان ایک مصحف جمع ہوا جس میں یہودیوں کے سب نامور علماکی تفسیریں درج تھی اس کا نام مشناہ تھا جسکے معنی روایات جو دہرائی گئی اور موجودہ تلمود اسی سے اخذ کر کے بنایئ گئی ہے۔
بنی اسرائیل وجہ تسمیہ:
اسرائیل حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب تھا اور انکے بیٹے تھے حضرتِ یوسف علیہ السلام جو بعد میں مصر کے بادشاہ بنے اور بنی اسرائیل میں ہیداؤد علیہ السلام پیدا ہوئے، جب داؤد علیہ السلام نے جالوت کو شکست دی تو اس وقت فلسطین کے بادشاہ صول نے حسبِ وعدہ اپنی بیٹی کی شادی داؤد علیہ السلام سے کر دی اور پھر صولکے مرنے کے بعد داؤد علیہ السام فلسطین کے بادشاہ بنے اور داؤد علیہ السام کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام فلسطین کے بادشاہ بنے اللہ تعالی نے ہر قسم کے جانور اور جن حضرتِ سلیمان علیہ السلام کے تابع کرے تھے آپ نے 922 قبل مسیح سے لیکر 961 قبل مسیح تک جنوں کی مدد سے اسی جگہمسجد اقصی تعمیر کروائی جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر کروائی تھی۔
586 قبل مسیح اور Babylons کے ہاتھوں ہیکل کی پہلی تباہی:
پہلی مرتبہ 586 قبل مسیح میں بابل کے
لوگوں نے اپنی حکومت قائم کر کے ہیکل کی عبادت گاہ مسمار کر دی اور بنی اسرائیل کو وہاں سے نکالکر غلام بنا لیا۔ اس دوران اصل تورات بھی حملے میں ضایع ہو گئی اور انکے علما نے اپنے حافظے سے ریسرچ کر کے ایک کتاب بنائی جسکو تلمود کہا جاتا ہے اسکے
بھی دو ورژن ہیں اور موجودہ یہودیت اسی کے گرد گھومتی ہے۔ اسکے 100 سال بعد ایک بار پھر بنی اسرائیل کی واپسی فلسطین میں ہوئی اورانہوں نے پھر سے اپنی عبادت گاہ تعمیر کرائی مگر ٹھیک اس جگہ نہی جہاں سلیمان علیہ السلام نے تعمیر کروائی تھی اور333 قبل مسیح میں سکندر اعظم نے پھر سے بنی اسرائیل کو وہاں سے نکال کر اسکو یونان میں شامل کر لیا۔ کم و بیش 100 سال بعد 165 قبل مسیح میں بنی اسرائیل نے یہودی سلطنتکی بنیاد رکھی اور پھر 100 سال یہ اس حکومت کو چلا سکے اور پھر سے روم کے قبضے میں چلے گئے۔
بغاوت، ٹائٹس رومی اور دوسری مرتبہ ہیکل کی تباہی:
حضرت عیسہ علیہ السلام کے رفع سماوی کے 37 سال بعد 70 عیسوی میں یہودیوں نے رومیوں کے خلاف بغاوت کری جسے ٹائٹس رومی نے کچل دیا اورانکو فلسطین سے نکال کرے انکی عبادت گاہ کو گرا دیا ۔ ٹائٹس رومی کے حملے میں ایک دن میں 133،000 یہودی صرف یروشلم میں مارے گئے اور پھر سے ہیکل سلیمانی دوسری مرتبہ گرا دیا گیا اور یہ ہیکل آج کی تاریخ تک گرا ہوا ہے۔ جب ٹائٹس رومی نے انکو یروشلم سے نکالا تو یہپوری دنیا میں پھیل گئے 3 قبیلے مدینے میں آباد ہو گئے جس میں بنو قینقع، بنو نظیر، بنو قر یظہ اور کچھہ یورپ چلے گئے۔ سن 70 عیسوی سے لیکر 1917 تک کے دور کو یہود دور انتشار مانتے ہیں کے جس میں انکو انکے اصل وطن سے نکال دیا گیا۔
بازنطینی اور حضرت عمر کا معاہدہ: 636 عیسویمیں اپنے مزہبی پیشوا سے مشورہ کر کے باظنتینیوں نے فلسطین حضرت عمر کے حوالے کر دیا اور 639 عیسوی میں حضرت عمر نے اسی جگہ مسجد اقصی کی دوبارہ تعمیر کروائی جہاں حضرت سلیمان علیہ السلام نے کروائی تھی سن 636 عیسوی سے لیکر 1918 تک فلسطین پر مسلمانوں کی حکومت رہی اس میں کچھعرصے صلیبی جنگوں کے دوران مسلمانوں کے پاس سے اسکی حکومت گئی بھی ہے۔ فلحال یہ چیدہ چیدہ باتیں بتا کر تمہید باندھی انشااللہ بہت جلد مزید تفصیل آپکو ملے گی اور یہ بھی سمھج آئے گا کہ آخر ایسی کونسی وجہ ہے جو ہر بار انکو فلسطین سے نکالا جاتا ہے۔
انکے وہ کونسے کرتوت ہیں، انکیعیسایوں اور مسلمانوں سے کیا دشمنی ہے کیسے انہیوں نے سود کو رائیج کرا کیسے عیسایوں کو اپنا اعلی کار بنایا۔