21/03/2026
چاند رات آئی مگر اس کے آنگن میں کوئی خوشی نہ اتری، صرف خاموشی کا بسیرا تھا۔
پہلی عید تھی اس کی ماں کے بغیر، نئے کپڑوں کی خوشبو بھی آنسوؤں میں بھیگ گئی۔
لوگ گلے مل رہے تھے، مگر وہ دروازے کی اوٹ سے دنیا کو تنہا دیکھتا رہا۔
عیدی کے چند سکے ہاتھ میں تھے، مگر دل میں خالی پن گونج رہا تھا۔
عید کی خوشیاں اس کے لیے بس ایک یاد بن گئیں، جو ہر سال اسے مزید اداس کر دیتی ہے۔