22/01/2026
نعرہ "کل بھی بھٹو زندہ تھا، آج بھی بھٹو زندہ ہے" پاکستان میں اس لیے لگایا جاتا ہے کہ یہ ذوالفقار علی بھٹو کے نظریے، عوامی سیاست اور جدوجہد کے تسلسل کی علامت ہے۔
اس نعرے کے ذریعے یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ بھٹو کوئی ایک دور یا ایک شخصیت تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس کی سوچ ماضی میں بھی عوام کے دلوں میں زندہ تھی اور آج بھی زندہ ہے۔ وقت، حالات اور حکومتیں بدل گئیں، مگر عام آدمی کے حقوق، برابری، جمہوریت اور عوامی اختیار کی بات آج بھی وہی ہے جو بھٹو نے کی تھی۔
یہ نعرہ اس بات کا اظہار ہے کہ بھٹو کو جسمانی طور پر ختم کیا جا سکتا تھا، لیکن اس کے خیالات افکار، اس کی سیاست اور اس کی عوامی پہچان کو ختم نہیں کیا جا سکا۔ اسی لیے پیپلز پارٹی کے کارکن اور حامی یہ نعرہ لگا کر اپنی وابستگی، مزاحمت اور نظریاتی وفاداری ظاہر کرتے ہیں۔
مختصر یہ کہ یہ نعرہ نظریاتی بقا، عوامی طاقت اور سیاسی تسلسل کی علامت ہںے، اور اسی وجہ سے پاکستان میں آج بھی لگایا جاتا ہںے۔تم کتنے بھٹو مارو گے ہر گھر سے بھٹو نکلے گا۔جیوے بھٹو