29/05/2026
💥 پانچ گھنٹے کے سفر کے بعد جب میں بیٹے کے دروازے پر پہنچی تو اس نے گھڑی پر نظر ڈال کر کہا، "امی… آپ پندرہ منٹ پہلے آ گئی ہیں، ذرا باہر انتظار کر لیں۔" 🥹💔
لاہور سے کراچی تک کا لمبا سفر… عمر انہتر سال… مگر دل میں وہی بے چینی، جیسے کوئی ماں برسوں بعد اپنے بچے کو دیکھنے جا رہی ہو۔
دروازہ کھلا…
اور اس نے گھڑی پر نظر ڈال کر کہا، "امی… آپ پندرہ منٹ پہلے آ گئی ہیں، ذرا باہر انتظار کر لیں۔"
مجھے لگا وہ مذاق کر رہا ہے۔
میرا بیٹا، میرا عادل… جو بچپن میں میرے دوپٹے کو پکڑ کر سوتا تھا… آج مجھے دروازے پر روک رہا تھا؟
میں نے اسے تقریباً ایک سال سے نہیں دیکھا تھا۔ فون پر کبھی کبھار بات ہو جاتی تھی، وہ بھی جلدی میں۔ ہمیشہ یہی کہتا، "امی، بس کام بہت ہے۔"
مگر ایک مہینہ پہلے اسی نے کہا تھا، "امی، آپ کبھی بھی آ سکتی ہیں۔"
سو میں آ گئی۔
میں نے سب کچھ سوچ سمجھ کر کیا تھا۔ کئی ہفتے پہلے ٹرین کی ٹکٹ بک کروائی، تاریخ کنفرم کی، اپنے چھوٹے سے بیگ میں بچوں کے لیے چوڑیاں، مٹھائیاں اور کھلونے رکھے۔ میں صرف اپنے گھر والوں کو دیکھنا چاہتی تھی… بس اتنی سی خواہش تھی۔
میں نے مسکرا کر کہا، "پتا ہے بیٹا… رکشہ جلدی پہنچ گیا۔ بچوں کو دیکھنے کی جلدی تھی۔"
میں نے اپنی ہلکی سی سبز شلوار قمیض درست کی، جو خاص اسی دن کے لیے سلوائی تھی۔ میں چاہتی تھی کہ میں اس گھر میں اجنبی نہ لگوں… ماں لگوں۔ 🙂
مگر وہ نہیں مسکرایا۔
"صائمہ ابھی تیاری کر رہی ہے… گھر سیٹ نہیں ہے۔ بس پندرہ منٹ باہر انتظار کر لیں۔"
اور دروازہ بند ہو گیا۔
اندر سے آوازیں آ رہی تھیں… قہقہے، برتنوں کی کھنک، ہلکی سی موسیقی۔
میں برآمدے میں کھڑی رہی۔
انہتر سال کی عمر میں کوئی اتنا سفر یونہی نہیں کرتا۔ انسان خود کو سمجھاتا ہے… کہ سب ٹھیک ہے، وہ مصروف ہے، میں ہی تھوڑی جلدی آ گئی ہوں۔
پانچ منٹ…
دس منٹ…
پندرہ منٹ…
کوئی باہر نہیں آیا۔
ٹانگوں میں درد شروع ہوا تو میں اپنے سوٹ کیس پر بیٹھ گئی۔ اور وہیں مجھے ایک سچائی نے آ کر پکڑ لیا…
میں جلدی نہیں آئی تھی۔
میں متوقع ہی نہیں تھی۔
میں نے موبائل نکالا… عادل کا نمبر کھولا… پھر اسکرین بند کر دی۔
میں نے دوبارہ دروازہ نہیں کھٹکھٹایا۔
میں سیڑھیاں اتر کر باہر آ گئی، اپنا سوٹ کیس گھسیٹتے ہوئے۔ گلی کے کونے پر جا کر ایک رکشہ روکا۔
"بی بی کہاں جانا ہے؟" رکشہ والے نے پوچھا۔
میں نے آہستہ سے کہا، "کہیں بھی… جہاں سستا ہو۔"
اس رات میں ایک چھوٹے سے گیسٹ ہاؤس کے کمرے میں اکیلی بیٹھی تھی… وہی سبز کپڑے پہنے ہوئے، جو میں نے اپنے پوتے پوتیوں سے ملنے کے لیے چنے تھے۔
میں نے فون بند رکھا۔
اگلی صبح تک۔
جب آن کیا…
تو ستائیس مسڈ کالز تھیں۔ پھر پیغامات…
ایک پیغام ایسا تھا جس نے میرا دل مٹھی میں جکڑ لیا۔
"امی… آپ کہاں چلی گئیں؟ صائمہ کے رشتے دار آئے ہوئے تھے۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ آپ ان سے ملیں۔ وہ کہہ رہی تھی آپ کے سادہ رہن سہن کو دیکھ کر لوگ کیا کہیں گے۔ میں… میں کچھ کہہ نہ سکا۔ مگر اب وہ لوگ چلے گئے ہیں۔ پلیز واپس آ جائیں۔ بچے آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔"
میں کافی دیر تک اس پیغام کو دیکھتی رہی۔
پھر میری نظر اپنے ہاتھوں پر گئی… انہی ہاتھوں پر جنہوں نے عادل کو پہلی بار انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا تھا… انہی ہاتھوں پر جنہوں نے اس کے لیے اپنی خواہشیں قربان کی تھیں۔
میں نے آہستہ سے فون بند کر دیا۔
اس بار ہمیشہ کے لیے نہیں… مگر اس رشتے کے ایک حصے کے لیے ضرور۔
میں نے اپنا بیگ کھولا… بچوں کے لیے لائے ہوئے تحفے نکالے… اور گیسٹ ہاؤس کے مالک کی چھوٹی بیٹی کو دے دیے، جو دروازے کے پاس کھڑی مجھے حیرت سے دیکھ رہی تھی۔
"یہ تمہارے لیے ہیں،" میں نے کہا۔
وہ خوشی سے مسکرا دی۔
میں نے پہلی بار دل سے مسکرانے کی کوشش کی۔
اسی لمحے میں نے ایک فیصلہ کیا۔
میں واپس ضرور جاؤں گی… مگر اس دروازے پر نہیں جہاں مجھے پندرہ منٹ باہر کھڑا رکھا گیا۔
میں اپنے لیے جاؤں گی۔
اپنی عزت کے لیے۔
اور شاید پہلی بار… اپنی زندگی کے لیے۔
کیونکہ بعض رشتے خون سے نہیں… رویّے سے ختم ہوتے ہیں۔
اور اُس دن… میں نے ماں ہونا چھوڑا نہیں تھا…
میں نے صرف خود کو کھونا بند کر دیا تھا۔