02/08/2025
ایک دن چوہدری بختاور نے اخبار میں پڑھا:
> "سولر سسٹم لگاؤ، بجلی کا بل بھاگ جائے گا۔"
چوہدری نے فوراً اعلان کر دیا:
"میں گاؤں میں پہلا بندہ بنوں گا جو سولر سسٹم لگائے گا! اور پورے گاؤں کو بجلی مفت دوں گا!"
گاؤں والے حیران:
"بختاور نے آج کچھ زیادہ ہی دودھ پیا لگتا ہے۔"
چندو الیکٹریشن آیا، سر کھجاتے ہوئے بولا:
"چوہدری صاحب، آپ کو سولر لگانے کے لیے پہلے چھت صاف کروانی ہو گی، پھر پینل، پھر بیٹری، پھر انورٹر، پھر... میرا دماغ بھی لگے گا!"
چوہدری نے کہا:
"بس لگا دے، پیسے بعد میں لے لینا!"
چندو نے پینل لایا، دو تاریں جوڑیں، ایک بیٹری رکھی اور بولا:
"چوہدری صاحب، مبارک ہو، اب آپ کے پاس دن میں پنکھا اور رات کو مچھر دونوں چلیں گے۔"
چوہدری خوشی سے جھوم اٹھا، گاؤں میں اعلان کیا:
"میں اب سولر سسٹم والا بندہ ہوں، سورج کا یار!"
لیکن جیسے ہی آسمان پر بادل آئے، پنکھا بند!
چوہدری بھاگ کر چندو کے پاس آیا:
"اوے چندو! یہ کیا کیا؟ بجلی گئی!"
چندو بولا:
"چوہدری جی، سورج چھٹی پر ہے، میں کیا کروں؟"
ماسٹر کلیم نے فلسفہ جھاڑا:
"چوہدری صاحب، سورج پر بھی باری ہوتی ہے، کبھی آتا ہے، کبھی چھپتا ہے۔"
پپو نے قہقہہ مارا:
"چوہدری اب سولر کے سلطان نہیں، بادلوں کے غلام بن گئے!"
انجام:
چوہدری نے سولر پینل کو اتار کر مرغیوں کے ڈربے پر رکھ دیا اور اعلان کر دیا:
> "جب سورج کی تنخواہ پکی ہو گی، تب ہی لگاؤں گا