30/05/2025
روحانی قتل ...
خودکشی، عشق، فنا، قتل یا پھر ترک تعلق—کچھ بھی کر سکتا ہے جذبات میں آیا ہوا شخص۔ یہ الفاظ صرف ایک شعر نہیں بلکہ انسانی فطرت کا عکاس ہیں۔ ایک لمحہ، ایک جذبہ، ایک غلط فہمی یا ایک ٹوٹا خواب کسی بھی انسان کو اس حد تک لے جا سکتا ہے کہ وہ اپنے وجود سے بیزار ہو جائے یا کسی اور کا وجود ختم کر دے۔
عشق، جو دنیا کا سب سے حسین جذبہ ہے، وہی اگر شدت اختیار کر لے تو تباہی کا پیش خیمہ بھی بن سکتا ہے۔ اسی طرح ترک تعلق بھی وقتی سکون کا سبب بن کر دل کی ویرانی کا آغاز کر سکتا ہے۔ اور قتل؟ یہ محض ایک ناپاک عمل نہیں بلکہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسانیت اپنی حدود سے باہر نکل جاتی ہے۔
کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ جذبات کو اس قدر قابو پانے دینے کا سبب کیا ہوتا ہے؟ تنہائی؟ نارسائی؟ یا محبت میں حد سے زیادہ توقعات؟ حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں جب جذبات کا طوفان آتا ہے، تو انسان اپنے عقل و شعور کو کہیں پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ وہ لمحہ جب دل اور دماغ کی جنگ شروع ہوتی ہے، اور اکثر دل جیت جاتا ہے۔
مگر سوال یہ ہے: کیا جذبات پر قابو نہیں پایا جا سکتا؟ کیا عقل کی حکمرانی ممکن نہیں؟ یقیناً ممکن ہے، مگر اس کے لیے ہمیں اپنے اندر ایک مضبوط اور متوازن شخصیت پیدا کرنی ہوگی۔ جذبات کی شدت میں بہنے کے بجائے ہمیں اپنے دل کو سمجھانا ہوگا کہ ہر فیصلہ وقتی نہیں ہوتا۔ عشق کو فنا میں بدلنے سے بہتر ہے کہ اسے نرمی، صبر اور وقت کے سپرد کر دیا جائے۔
زندگی کے اس سفر میں ہمیں سیکھنا ہے کہ ترک تعلق بھی محبت کا ایک حصہ ہے، خودکشی بزدلی نہیں بلکہ بے بسی کا اظہار ہے، اور قتل صرف جسمانی نہیں بلکہ روحانی بھی ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنے جذبات کو سنبھالنا سیکھ جائیں تو شاید زندگی کے طوفان ہمیں کمزور کرنے کے بجائے ہمیں مضبوط کر دیں۔
عظیم ساگر جی.