Azeem Sagar Cinematic

Azeem Sagar Cinematic Professional Cameraman & Videographer based in Multan
📸 Weddings | Events | YouTube Shoots | Editing Available
📞 Contact via WhatsApp for bookings & inquiries

Cinematography
Fashion Photography
Wedding photography
Indian Album
Indoor outdorShots
Modeling Shots
Helicam

01/05/2026

30/04/2026

🐤🐤🐤❤❤❤

29/04/2026
27/04/2026
30/05/2025

"ابلیس اتھرا تھا مگر سادہ تھا
کمبخت کو سجدہ ٹالنے کا بہانا بھی نہ سوجا
کہ وضو نہیں ہے، کپڑے پلید ہیں...
سیدھا کہ دیا: 'دل پلید ہے'"

روحانی قتل ...خودکشی، عشق، فنا، قتل یا پھر ترک تعلق—کچھ بھی کر سکتا ہے جذبات میں آیا ہوا شخص۔ یہ الفاظ صرف ایک شعر نہیں ...
30/05/2025

روحانی قتل ...

خودکشی، عشق، فنا، قتل یا پھر ترک تعلق—کچھ بھی کر سکتا ہے جذبات میں آیا ہوا شخص۔ یہ الفاظ صرف ایک شعر نہیں بلکہ انسانی فطرت کا عکاس ہیں۔ ایک لمحہ، ایک جذبہ، ایک غلط فہمی یا ایک ٹوٹا خواب کسی بھی انسان کو اس حد تک لے جا سکتا ہے کہ وہ اپنے وجود سے بیزار ہو جائے یا کسی اور کا وجود ختم کر دے۔

عشق، جو دنیا کا سب سے حسین جذبہ ہے، وہی اگر شدت اختیار کر لے تو تباہی کا پیش خیمہ بھی بن سکتا ہے۔ اسی طرح ترک تعلق بھی وقتی سکون کا سبب بن کر دل کی ویرانی کا آغاز کر سکتا ہے۔ اور قتل؟ یہ محض ایک ناپاک عمل نہیں بلکہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسانیت اپنی حدود سے باہر نکل جاتی ہے۔

کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ جذبات کو اس قدر قابو پانے دینے کا سبب کیا ہوتا ہے؟ تنہائی؟ نارسائی؟ یا محبت میں حد سے زیادہ توقعات؟ حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں جب جذبات کا طوفان آتا ہے، تو انسان اپنے عقل و شعور کو کہیں پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ وہ لمحہ جب دل اور دماغ کی جنگ شروع ہوتی ہے، اور اکثر دل جیت جاتا ہے۔

مگر سوال یہ ہے: کیا جذبات پر قابو نہیں پایا جا سکتا؟ کیا عقل کی حکمرانی ممکن نہیں؟ یقیناً ممکن ہے، مگر اس کے لیے ہمیں اپنے اندر ایک مضبوط اور متوازن شخصیت پیدا کرنی ہوگی۔ جذبات کی شدت میں بہنے کے بجائے ہمیں اپنے دل کو سمجھانا ہوگا کہ ہر فیصلہ وقتی نہیں ہوتا۔ عشق کو فنا میں بدلنے سے بہتر ہے کہ اسے نرمی، صبر اور وقت کے سپرد کر دیا جائے۔

زندگی کے اس سفر میں ہمیں سیکھنا ہے کہ ترک تعلق بھی محبت کا ایک حصہ ہے، خودکشی بزدلی نہیں بلکہ بے بسی کا اظہار ہے، اور قتل صرف جسمانی نہیں بلکہ روحانی بھی ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنے جذبات کو سنبھالنا سیکھ جائیں تو شاید زندگی کے طوفان ہمیں کمزور کرنے کے بجائے ہمیں مضبوط کر دیں۔
عظیم ساگر جی.

کہانی تین لفظوں کی.. دسمبر کی ایک سرد صبح تھی، ہلکی ہلکی بارش رخصت ہو رہی تھی اور دھوپ مدھم سا چمک رہی تھی۔ یونیورسٹی کی...
28/05/2025

کہانی تین لفظوں کی..

دسمبر کی ایک سرد صبح تھی، ہلکی ہلکی بارش رخصت ہو رہی تھی اور دھوپ مدھم سا چمک رہی تھی۔ یونیورسٹی کی کینٹین کے پرانے لکڑی کے بینچ پر میں اور وہ بیٹھے تھے۔ چائے کی خوشبو اور ماحول کی خاموشی میں اس نے اچانک کہا،
"عظیم، تم بہت اچھا لکھتے ہو، تمہارے الفاظ میں ایک الگ ہی گہرائی ہے۔ آج مجھے کوئی ایسی دکھ بھری کہانی سناؤ جو میں نے کبھی نہ سنی ہو، نہ پڑھی ہو۔ ایسی کہانی کہ سن کر میرا دل تڑپ اٹھے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ وہ کہانی صرف تین لفظوں پر مشتمل ہو۔"

میں ہنس پڑا، اور کہا،
"میں تمہیں ایسی کئی کہانیاں سنا سکتا ہوں جو صرف تین لفظوں پر مشتمل ہوں، مگر جب انہیں تم سمجھو گی، سنو گی اور محسوس کرو گی، تو تم تڑپ جاو گی۔"

پھر میں نے کہا:
"باپ کے بغیر گھر۔"
وہ خاموش ہو گئی۔
پھر دوسری کہانی میں میں نے کہا:
"پتوں کے بغیر درخت۔"
وہ نظریں نیچی کر گئی۔
تیسری:
"ٹرین کے بغیر اسٹیشن۔"
چوتھی:
"روح کے بغیر جسم۔"

آخر میں میں نے کہا،
"اور سب سے دردناک، سرخ کفن میں دلہن۔"

اس کے صبر نے مزید اس کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا اور اس نے میرے منہ پر ہاتھ دیا، آنکھوں سے بے ساختہ آنسو بہنے لگے۔ پھر اس نے مجھے قسم دی کہ تم قلم اٹھانا بند کر دو، تم لکھنا بند کر دو۔
تب میں نے اس کی قسم کی پاسداری کی، اور پھر سالوں تک قلم اٹھانے کی ہمت نہ ہوئی۔

لیکن اب وقت نے مجھے اس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں مجھے اپنی قسم توڑنی ہے۔ میں پھر سے لکھنا چاہتا ہوں،
اپنے درد کو پھر سے لفظوں کا قیدی بنانا چاہتا ہوں،
اپنی چیخوں کو شاعری کا کفن پہنانا چاہتا ہوں۔

میں چاہتا ہوں کہ اس کی بے وفائی پر ایک ایسی غزل کہوں،
جسے لوگ سن کر محبت سے توبہ کر لیں۔۔

عظیم ساگر جی

میں خود کو چھوڑنے کے لیے ریلوے اسٹیشن پر گیا تو آخری گاڑی جا چکی تھی. میرے پاس کوئی سامان نہیں تھا میں نے خود کو بینچ پر...
21/05/2025

میں خود کو چھوڑنے کے لیے ریلوے اسٹیشن پر گیا
تو آخری گاڑی جا چکی تھی.
میرے پاس کوئی سامان نہیں تھا
میں نے خود کو بینچ پر بٹھایا اور
پانی پینے کے بہانے اسٹیشن سے باہر نکل آیا
اور پھر کبھی مڑ کر نہیں گیا
کوئی نہیں جانتا کہ پھر اس کے بعد
میں کہی گیا یا وہی بیٹھا اپنے آنے کا انتظار کرتا رہا.

عظیم_ساگر_جی....

"ادھوری چاہت"ماہین ایک عام مگر باوقار لڑکی تھی، جس کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے تھا۔ اُس کی دنیا کتابوں، خوابوں اور ایک س...
21/05/2025

"ادھوری چاہت"

ماہین ایک عام مگر باوقار لڑکی تھی، جس کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے تھا۔ اُس کی دنیا کتابوں، خوابوں اور ایک سادہ سی زندگی میں سمٹی ہوئی تھی کالج کے بعد جب وہ یونیورسٹی آئی تو یہ اس سادہ لوح روح کے لئے الگ ہی دنیا تھی جو دن بدن اسے حیرت زدہ کر رہی تھی.
یونیورسٹی میں اُس کی ملاقات اذلان سے ہوئی—ایک امیر، خوداعتماد اور نہایت خوبصورت لڑکا۔ اذلان کی آنکھوں میں غرور تھا، لیکن رویے میں ایک کشش تھی جو ماہین کو بے اختیار اپنی طرف کھینچنے لگی۔
ماہین اس میں دلچسپی لینے لگی اور اکثر اسے دیکھتے رہتی

شروع میں تو یہ صرف خاموشی میں لپٹی دلچسپی تھی۔ ماہین ہر لیکچر میں اُس کی طرف دیکھتی، لیکن کبھی کچھ کہنے کی ہمت نہ کر پائی۔ دن گزرتے گئے اور اُس کی خاموش محبت ایک شدید جذبے میں بدلنے لگی۔

اذلان کو شاید کچھ اندازہ تھا، مگر وہ ہمیشہ فاصلہ رکھتا اور ماہین سے کم ہی گفتگو کرتا
اُس کی زندگی میں سب کچھ تھا—دولت، شہرت، اور ہر وہ سہولت جس کا کوئی خواب دیکھے۔ لیکن شاید اُسے کبھی کسی سچی محبت کی طلب ہی نہ تھی۔

ایک دن ماہین نے ہمت کی۔ اُس نے اذلان کو کینٹین کے کونے میں جا کر روک لیا۔ "مجھے تم سے کچھ کہنا ہے..." اُس کی آواز لرز رہی تھی۔ اور لہجہ محبت سے بھرا تھا
اس نے ازلان کا ہاتھ تھاما
اذلان نے نظریں ملائیں، کچھ لمحے خاموشی رہی۔

"میں تم سے محبت کرتی ہوں..." ماہین نے کہا، اور آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔

اذلان نے آہستہ سے جواب دیا، "ماہین، تم بہت اچھی ہو۔ لیکن میری زندگی اور خواب... یہ سب تمہارے خوابوں سے بہت مختلف ہیں۔ میرے گھر والے کبھی اس رشتے کو قبول نہیں کریں گے۔"

ماہین نے بس سر ہلا دیا۔ وہ جانتی تھی، شاید دل سے، کہ اُن کی دنیا کبھی ایک نہیں ہو سکتی۔ ماہین ایک ادھوری محبت
کا بوج لئے وہاں سے چل پڑی

وقت گزرتا رہا، اذلان اپنی دنیا میں کھو گیا، اور ماہین نے اپنی خاموش محبت کو اپنے دل میں دفنا دیا۔ وہ جانتی تھی کہ کچھ کہانیاں صرف دل میں لکھی جاتی ہیں، اور یہ وہ کہانیاں ہیں جن کو کبھی نہیں بھلایا
جا سکتا...

یہ کہانیاں ہمارے ساتھ ہی دفن ہوتی ہیں..

22/11/2022

میں نے آج تک تمہارے میسج ڈلیٹ نہیں کیے کیونکہ جب جب میں خود کو کمزور اور اکیلا محسوس کرتا ہوں تب تب میں تمہارے میسج پڑھتا ہوں جب بھی تم سے بات کرنے کا دل چاہتا ہے تب میں تمہارے میسج پڑھتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ عظیم کتنا عزیز تھا تمہیں تم دن بھر کے سارے کام مجھے بتاتی تھی تو ایسا لگتا تھا میں دن بھر تمہارے ساتھ ہی تھا پھر یہ میسج پڑھتے پڑھتے آخر میں تمہاری مجبوریوں کی آڑھ میں بدلتے رنگ مجھے بہت تکلیف دیتے ہیں مگر میں پھر بھی تمہارے میسج پڑھتا ہوں میں آج بھی تمہیں یاد کرتا ہوں۔

عظیم ساگر جی.

Address

Multan

Telephone

+923057587216

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Azeem Sagar Cinematic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Azeem Sagar Cinematic:

Share

Category