Voice of Nastikot kanda

Voice of Nastikot kanda Media/News/Nature exploring&food

01/03/2026

🎦 اے پروردگار! ہمیں شہداء سے ملا دے اور شہادت کو ہمارا مقدر بنا دے
وہ علی ع کی طرح جیا اور حسین ع کی طرح شہید ہوگیا

22/01/2026
ِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ضلعی انتظامیہ سے انتہائی سخت اور واضح مطالبہ کرتے ہیں کہاہلِ بیتِ اطہار علیہم...
08/12/2025

ِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ضلعی انتظامیہ سے انتہائی سخت اور واضح مطالبہ کرتے ہیں کہ
اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی شان میں کی گئی گستاخی کی اصل اور غیر تدوین شدہ ویڈیو سامنے آ چکی ہے، جس میں ملزم کی شناخت بھی مکمل طور پر واضح ہے۔

لہٰذا:
• اس سنگین جرم کے مرتکب شخص جس کا نام محمد رسول سکنہ کرم قوم منگل کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے
• ویڈیو کو بطور بنیادی ثبوت کیس کا حصہ بنایا جائے
• اور تعزیراتِ پاکستان کی متعلقہ دفعات کے تحت قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دلائی جائے، تاکہ آئندہ کوئی بھی شخص ایسے ناپاک اور اشتعال انگیز فعل کی جسارت نہ کرے۔

ہم ریاست سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس حساس معاملے میں تاخیر، مصلحت یا رعایت کسی صورت روا نہ رکھی جائے

سانحہ بگن بازار (21 نومبر 2024)21 نومبر 2024 کو بگن بازار میں ایک نہایت المناک، دل دہلا دینے اور انسانیت سوز سانحہ پیش آ...
21/11/2025

سانحہ بگن بازار (21 نومبر 2024)21 نومبر 2024 کو بگن بازار میں ایک نہایت المناک، دل دہلا دینے اور انسانیت سوز سانحہ پیش آیا، جب اہلِ تشیع کے سو سے زائد بے گناہ افراد سرکاری کانوائے میں سفر کے دوران بگن کے مقامی دہشت گرد عناصر کے بزدلانہ حملے کا نشانہ بنے۔ اس بہیمانہ کارروائی میں معصوم بچے، خواتین، بزرگ، نوجوان، ڈاکٹر اور عام شہری شہید ہوئے۔

یہ سانحہ ریاستی رٹ، امن و امان اور عوامی تحفظ کے نظام پر گہرے سوالات چھوڑ گیا ہے۔ سرکاری سیکیورٹی کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں قیمتی جانوں کا ضیاع ناقابلِ قبول غفلت اور امن دشمن عناصر کی بے خوف سرگرمیوں کو ظاہر کرتا ہے۔

ہم حکومت کے طرزِ عمل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں کہ ایک سال مکمل ہونے کے باوجود آج تک ان سفاک قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا گیا اور وہ بدستور آزاد پھر رہے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے زخموں کو گہرا کر رہی ہے بلکہ معاشرے میں عدم تحفظ اور بے یقینی کی فضا کو بھی بڑھا رہی ہے۔

ہم پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ سانحے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار دہشت گرد عناصر کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے، تاکہ شہداء کے لواحقین کو انصاف مل سکے اور ایسے واقعات کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو۔

مالی کلی سے لے کر خرلاچی بارڈر تک جانے والی مرکزی سڑک اس وقت ایسی تباہی کا شکار ہے کہ عوام کا جینا واقعی مشکل ہو گیا ہے۔...
20/11/2025

مالی کلی سے لے کر خرلاچی بارڈر تک جانے والی مرکزی سڑک اس وقت ایسی تباہی کا شکار ہے کہ عوام کا جینا واقعی مشکل ہو گیا ہے۔ یہ صرف ایک خراب سڑک نہیں رہی — یہ پورے علاقے کے لیے مسلسل عذاب بن چکی ہے۔

اس روڈ کی وجہ سےگاڑیوں کے سسپینشن روزانہ کی بنیاد پر تباہ ہو رہے ہیں
گرد و غبار اور مٹی نے روڈ کے قریب رہنے والے لوگوں کا سانس لینا تک مشکل کر دیا ہے
بچے، خواتین اور بوڑھے مختلف سانس کی بیماریوں، الرجی، آنکھوں کی خرابی اور جلدی امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں
مریضوں اور ایمرجنسی کیسز کو وقت پر اسپتال پہنچانا مشکل ہو چکا ہے
تاجر، ڈرائیور اور عام عوام شدید معاشی نقصان میں مبتلا ہیں
سکول اور کالج کے طلباء روزانہ اذیت میں سفر کرتے ہیں

یہ صورتحال گزشتہ آٹھ سے دس سال سے جاری ہے، اور آج تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔
عوام نے ووٹ اس لیے نہیں دیے تھے کہ ان کی زندگی مزید مشکل بن جائے، بلکہ اس امید پر کہ ان کے مسائل حل کیے جائیں گے۔

ہم اپنے منتخب نمائندوں سے سخت الفاظ میں مطالبہ کرتے ہیں کہ:
مالی کلی تا خرلاچی بارڈر روڈ کی فوری اور مکمل تعمیر شروع کی جائے
اس منصوبے کو ترجیحات میں سب سے اوپر رکھا جائے
روڈ کے قریب رہنے والی آبادی کی صحت کے لیے اقدامات کیے جائیں
روڈ سے اٹھنے والی گرد روکنے کے لیے فوری عبوری انتظامات کیے جائیں

عوام کی یہ تکلیف مزید برداشت سے باہر ہو چکی ہے۔
اگر اس معاملے پر فوری توجہ نہ دی گئی تو لوگ اپنی آواز مزید بلند کرنے پر مجبور

واڑکیہ دی سہ نامہ دے لگ راتہ کمنٹ کہ واحہ  یو یو😁😁😁
06/11/2025

واڑکیہ دی سہ نامہ دے لگ راتہ کمنٹ کہ واحہ یو یو😁😁😁

29/09/2025

سفارش نے پاکستانی کرکٹ کو کہاں پہنچا دیا؟

کل کھیلے گئے ایشیا کپ فائنل میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی نے پوری قوم کو مایوسی اور شرمندگی میں مبتلا کر دیا۔ ابتدا میں کچھ بہتر آغاز کے بعد محض 32-33 رنز پر پوری ٹیم کا پویلین لوٹ جانا یہ سوال کھڑا کرتا ہے کہ آخر ہماری کرکٹ کس سمت جا رہی ہے؟ کیا یہ وہی ٹیم ہے جس سے شائقین امیدیں باندھ کر بیٹھے تھے؟

اصل حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا سب سے بڑا مسئلہ سفارش کلچر ہے۔ باصلاحیت کھلاڑی جو حقیقی معنوں میں ٹیم کا مستقبل سنوار سکتے ہیں، انہیں نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ دوسری جانب وہ کھلاڑی جن کے پاس مضبوط سفارش یا تعلقات ہیں، انہیں آسانی سے ٹیم میں جگہ مل جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ کھیل کا معیار دن بدن گرتا جا رہا ہے اور ہر بڑے ٹورنامنٹ میں ہمیں عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اگر یہی روش برقرار رہی تو پاکستان کرکٹ کبھی بھی دنیا کی بہترین ٹیموں کی صف میں واپس نہیں آ سکے گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سلیکشن کے نظام کو مکمل طور پر شفاف بنایا جائے، صرف اور صرف میرٹ پر فیصلے ہوں، تاکہ حقیقی ٹیلنٹ کو آگے آنے کا موقع ملے۔

قوم کا مطالبہ ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ بورڈ سفارش کے کینسر کا علاج کرے اور میرٹ کو بحال کرے، ورنہ کرکٹ کا یہ کھیل شائقین کے لیے خوشی نہیں بلکہ شرمندگی کا باعث بنتا رہے گا-

آج صدہ کے مقام پر بارہ ربیع الاول کی اجتماعی جلسے کے دوران نہایت نازیبہ زبان استعمال کیا گیا، جس میں ریلی کے شرکاء نے “ک...
06/09/2025

آج صدہ کے مقام پر بارہ ربیع الاول کی اجتماعی جلسے کے دوران نہایت نازیبہ زبان استعمال کیا گیا، جس میں ریلی کے شرکاء نے “کافر کافر شیعہ کافر” کے نعرے لگائے۔ اس عمل سے شیعہ برادری کو سخت اذیت اور تکلیف پہنچی ہے۔

یہ حرکات نہ صرف فرقہ واریت کو ہوا دیتی ہیں بلکہ علاقے کے امن و امان کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔ خدشہ ہے کہ اس کے نتیجے میں ردعمل سامنے آ سکتا ہے، جو حالات کو مزید خراب کرے گا۔

لہٰذا حکومتِ وقت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ ہے کہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور مستقبل میں اس قسم کے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جائے تاکہ امن، بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کو برقرار رکھا جا سکے

ضلع کرم (سابقہ کرم ایجنسی)ضلع کرم، جو ماضی میں کرم ایجنسی کے نام سے جانا جاتا تھا، قبائلی علاقہ جات کا ایک اہم اور تاریخ...
30/08/2025

ضلع کرم (سابقہ کرم ایجنسی)

ضلع کرم، جو ماضی میں کرم ایجنسی کے نام سے جانا جاتا تھا، قبائلی علاقہ جات کا ایک اہم اور تاریخی خطہ رہا ہے۔ اس خطے کے عوام اپنی مہمان نوازی، بہادری اور وطن سے محبت کے حوالے سے ایک نمایاں شناخت رکھتے ہیں۔ تاہم بدقسمتی سے اس علاقے کو ہمیشہ حکومتی سطح پر نظر انداز کیا گیا اور عوام کو اُن بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا جو ملک کے دیگر شہریوں کو حاصل ہیں۔

ماضی میں یہاں ایف سی آر (Frontier Crimes Regulation) کا کالا قانون نافذ تھا، جس کے تحت اجتماعی سزاؤں، ناانصافی اور جبر کے ذریعے عوام کو مشکلات کا سامنا رہا۔ آج اگرچہ کرم ایجنسی کو ضلع کا درجہ دیا جا چکا ہے، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ ایف سی آر کے سائے اور اس کے اثرات ابھی بھی یہاں موجود ہیں۔ یہ صورتحال عوام کے ساتھ سراسر زیادتی اور حکومتی ناانصافی کے مترادف ہے۔

یہ نہایت ضروری ہے کہ حکومتِ وقت فوری طور پر ایف سی آر کے کالے قانون کا مکمل خاتمہ کرے اور ضلع کرم کے عوام کو وہ تمام آئینی، قانونی اور انسانی حقوق فراہم کرے جو پاکستان کے ہر شہری کا بنیادی حق ہیں۔

ہماری یہ گزارش دراصل ایک محبت بھرا پیغام ہے کہ ضلع کرم کے عوام پاکستان سے والہانہ محبت کرتے ہیں، لہٰذا یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں بھی محبت، انصاف اور مساوی حقوق دے۔

Address

Parachinar
Parachinar
PARACHINAR

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Voice of Nastikot kanda posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category