05/11/2024
لمحہ فکریہ
(سید شکیل نایاب)
وقت کے بے ضمیر بانہوں میں
چال ایسی چلی ہے اپنوں نے
بیٹیاں اور قوم کے بچے
علم و عرفاں کی روشنی کو اب
ظلمتوں کا نصاب کہتے ہیں
روشنی کو عذاب کہتے ہیں
اتنی فرصت نہیں کہ سوچیں ہم
عقل و دانش کہاں بھلا بیٹھے
رات دن اپنی زندگی کو ہم
ان ہواوں کے دوش پر رقصاں
کچھ صداؤں میں بانٹ لیتے ہیں
احمقوں کے دیار میں رہ کر
الجھنیں اتنی بڑھ گئیں اب تو
روز ہم بے وقوف بنتے ہیں
لفظ کی حرمتوں سے نا واقف
اندھی تقلید کرتے رہتے ہیں