28/03/2025
سمجھ کے رستہ ادھر سے گزرنے والوں نے
کہیں کا چھوڑا نہ دل سے اترنے والوں نے
بنے بنائے ہوئے راستوں پہ چلتے ہوئے
خدا بنائے خدائی سے ڈرنے والوں نے
ہزار چھید کئے جھولیوں میں اپنوں کی
تمہارے نام پہ خیرات کرنے والوں نے
طویل عمر کی ڈھیروں دعائیں بھیجی ہیں
مرے چراغ کو پانی سے بھرنے والوں نے
ہماری آنکھ میں اک بوند بھی نہیں چھوڑی
مثال ابر فلک پر ابھرنے والوں نے
یہ کس طرح کے عجب واہموں میں ڈال دیا
شراب و شہد کی تصدیق کرنے والوں نے
زبان بندی پہ مجبور ہو گئی دنیا
وہ کھیل کھیلا ہے حیرت سے مرنے والوں نے
چراغ راہ کو غارت گری سکھائی ہے
ہوائے شہر پہ الزام دھرنے والوں نے