Usman vibe

Usman vibe like follow

رُوس کا کُل رقبہ اِتنا بڑا ہے کہ اُس میں 2 امریکہ یا 2 چین یا 5 بھارت یا 21 پاکستان جتنے مُلک سما سکتے ہیں ۔ یہ سیارہ پل...
12/05/2026

رُوس کا کُل رقبہ اِتنا بڑا ہے کہ اُس میں 2 امریکہ یا 2 چین یا 5 بھارت یا 21 پاکستان جتنے مُلک سما سکتے ہیں ۔ یہ سیارہ پلوٹو کے سائز کا ہے. رُوس میں 11 الگ الگ ٹائم زُون استعمال ہوتے ہیں، اسکی سرحدیں 14 ممالک سے ملتی ہیں، یہاں ایک لاکھ سے بھی زیادہ دریا موجُود ہیں
دُنیا کی سب سے لمبی ریلوے لائن بھی رُوس میں ہی ہے۔ یہ 9200 کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔ اگر ایک طرف سے نان سٹاپ سفر شروع کیا جائے تو آخری سٹیشن تک پہنچتے پہنچتے 153 گھنٹے (6 دن سےبھی زیادہ) لگ جاتے ہیں، صرف ماسکو سے 90 لاکھ لوگ میٹرو ریلوے سے روزانہ سفر کرتے ہیں.
رُوس کی کل آبادی 15 کروڑ کے قریب ہے اور خواتین کی تعداد مردوں سے ایک کروڑ زیادہ ہے، شرح خواندگی تقریبا 100 فیصد ہے، دنیا میں سب سے زیادہ قُدرتی گیس کے ذخائر یہاں پائے جاتے ہیں، یورپ اپنی 40 فیصد گیس رُوس سے حاصل کرتا ہے
رُوس کے پاس 8400 ایٹمی ہتھیار ہیں جبکہ پاکستان کے پاس 165 ہتھیار بتائے جاتے ہیں، روس نے 2017 میں 66 ارب ڈالرز دفاع کا بجٹ رکھا تھا.
رُوس پر کسی مُلک کا قبضہ کرنا تقریبا نامُمکن ہے۔ اسکی وجہ وہاں کا سرد ترین موسم اور رقبہ ہے۔ بین الاقوامی دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق روس پر مکمل قبضہ کرنے کیلئے تقریبا سوا کروڑ فوج درکار ہے۔۔
رُوس کے بارے میں یہ بات بھی مشہُور رہی ہے کہ اس نے 15 کے قریب خُفیہ شہر آباد کئے ہوئے ہیں، ان شہروں کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہاں کون رہتا ہے، کیا ہوتا ہے؟

ایکسڑا نوٹ: رُوس کو مکمل طور پر ابھی تک کوئی بھی فتح نہیں کر سکا جدید ماہرین بھی کہتے ہیں کہ رُوس کو مُکمل طور پر فتح کرنا بہت مُشکل ہے اس کیلئے بہت بڑی Land Army چاہیے البتہ منگولوں کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے گھوڑوں پر سوار رُوس کا بڑا علاقہ فتح کر لیا تھا ۔

داڑ کے درد کا باکمال روحانی علاج. ایک بار آزما لینا انشاءاللہ شفا ملے گی.. تحریر پڑھو اور آزماؤ.درد ڈاڑھ درد کا آزمودہ ر...
09/05/2026

داڑ کے درد کا باکمال روحانی علاج. ایک بار آزما لینا انشاءاللہ شفا ملے گی.. تحریر پڑھو اور آزماؤ.
درد ڈاڑھ درد کا آزمودہ روحانی دم
جس مریض کی ڈاڑھ میں درد ہو تو اس کو کسی بھی کے درخت کے قریب کھڑا کرے یا اپنے گھر میں ہی کوئی لکڑی کا بڑا درمیانہ ٹکڑا مل جاے تو بہتر ہے اور ایک کیل لکڑی میں ٹھوک دے، پھر گیارہ مرتبہ درود شریف نماز والا پڑھے اور گیارہ مرتبہ الحمد شریف پڑھے اور سورہ ناس ایک بار پڑھ کر مریض کی گال پر یا داڑھ پر دم کرے اور مریض سے معلوم کرے کہ درد ہے یا نہیں اگر ہو تو صرف سورہ ناس پڑھ کر دم کرے اور معلوم کرے کہ اب درد ہے یا نہیں، اگر پھر بھی درد ہو تو پھر سورہ ناس پڑھ کر دم کرے اسی طرح سات بار کرے اور مریض کو کہا جاے کہ کسی بھی جانور پرندے کا گوشت ہمیشہ کے لیے چھوڑ دو تو مریض کہے کہ میں گھوڑے کا گوشت زندگی بھر نہیں کھاؤں گا اور پرندوں میں سے کوے کا گوشت نہیں کھاو گا پھر کیل کو ابھی طرح لکڑی میں ٹھوک دیا جاے پوست کردیا جاے جب تک وہ کیل لکڑی میں پوست رہے گا اس وقت تک ہرگز اس مریض کو داڈھ درد یا دانت درد نہیں ہوگا اور یہ دم میرا ہزاروں بار کا آزمودہ ہے البتہ پہلی بار دم کرنے سے ہی شفا مل جاتی ہیں اور دوبارہ زندگی میں اسے داڈھ درد نہیں ہوسکے گی جب تک وہی چھوڑا ہوا گوشت نہ کھا لیں یا کیل لکڑی سے بار نہ نکال لیا جاے باقی کیل ٹھوکے ہوے کو اکتالیس دن گزرے جاے تو پھر ہمیشہ کے لیے پختہ علاج ہوجاتا ہے اور بعد میں کوئی کیل لکڑی سے نکال بھی دے گا تو اثر برقرار ہی رہے گا اور مریض کو داڈھ درد دانت درد سے آرام رہے گا یہ دم کردینے سے ساری زندگی اس مریض کے دانت داڈھ وقت کے ساتھ ساتھ ریزہ ریزہ ہو کر گر جاے گے لیکن درد نہیں ہونگے حکم اللہ سے اجازت کے لئے کمنٹ میں سبحان اللہ لکھ دے اور اگے بھی اس پوسٹ کو شیئر کردے تاکہ کسی تڑپتے ہوئے درد میں مبتلا انسان کو آرام اور شفا مل سکے آپ کی وجہ سے اور یہ دم مریض خود بھی اپنے لیے کرسکتا ہے باقی تین دن دم کرنا چاہیے نہیں تو ایک بار ہی کافی ہوتا ہے
A Proven Spiritual Remedy for Severe Toothache and Jaw Pain
This spiritual practice (Dam) is a time-tested remedy for those suffering from debilitating tooth or jaw pain. It has been practiced and verified thousands of times, often providing instantaneous relief that lasts a lifetime.
The Procedure
1. PreparationHave the patient stand near a tree, or find a medium-to-large piece of wood. Hold a nail against the wood.
2. Invocations
Recite Durood-e-Ibrahim (the salutation used in prayer) 11 times
Recite Surah Al-Fatiha (Alhamdu Sharif) 11 times
Recite Surah An-Nas once.
3. The Healing Breath: Blow (Dam) upon the patient’s cheek or the specific area of the aching tooth.
4.The Ritual
Ask the patient if the pain persists. If it does, recite Surah An-Nas again and blow on the area.
Repeat this process up to 7 times until the pain subsides.
5. The Vow of Abstinence The patient must pledge to give up one type of animal meat and one type of bird meat forever. Usually, the patient declares: i will never eat horse meat or crow meat for the rest of my life.
6. Fixing the Cure Once the vow is made, drive the nail firmly into the wood until it is completely embedded.
The Lasting Effects
Permanent Relief As long as that nail remains embedded in the wood, the patient will never suffer from toothache again.
The 41-Day Rule If the nail remains undisturbed for 41 days the cure becomes permanent. Even if the nail is removed after this period, the protection remains.
A Life-Long Shield By the Will of Allah, the patient’s teeth may eventually crumble or wear away naturally with old age, but they will never experience pain again.
Caution The pain may return only if the patient breaks their vow by eating the forbidden meat or if the nail is pulled out prematurely.
Important Notes
Frequency While a single session is often sufficient for a permanent cure, it can be repeated for three days if necessary.
Self-Healing A person suffering from pain can also perform this ritual for themselves.
Permission To receive spiritual permission (ijaza) to practice this, please write SubhanAllah in the comments.
Share this post Please share this knowledge. You might be the means of bringing relief and healing to someone suffering in silence.

02/05/2026

لکھنے کے لیے الفاظ ختم ہو گئے ہیں کیا لکھیں
ان لوگوں نے غریب عوام کا جینا حرام کر دیا اللہ حساب لے گا ان سے غریب کی تذلیل کرنے کا
انشاءاللہ وہ وقت دور نہیں جب یہ اپنے کیے کی سزا بھگتیں گے
میرا اللہ بڑا بے نیاز ہے وہ ایک نہ ایک دن سنے گا غریبوں کی

Awaaz lagao

بورے والا ۔ کارپٹ سڑک کاٹ کر پائپ گذارنے پر شہری کا مکان سیل مقدمہ کے اندراج کے لیے تھانہ میں درخواست دائر تفصیلات کے مط...
01/05/2026

بورے والا ۔ کارپٹ سڑک کاٹ کر پائپ گذارنے پر شہری کا مکان سیل مقدمہ کے اندراج کے لیے تھانہ میں درخواست دائر تفصیلات کے مطابق محلے میں ایک شہری نے گھر کا پانی گذارنے کے لیے سڑک میں کٹ لگا کر پائپ ڈال دیا چیف آفیسر امتیاز جوئیہ نے فوری ایکشن لیتے ہوئے بغیر اجازت سڑک کو توڑنے اور نقصان پہنچانے پر مکان کو سیل کردیا اور مقدمہ کے اندراج کے لیے تھانہ میں درخواست دائر کر دی انہوں نے کہا کہ شہر میں کسی کو بھی سڑک کھودنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں شہری اگر اپنے گردونواح میں میں ایسی صورت حال دیکھیں تو فوراً میونسپل کمیٹی میں یا سوشل میڈیا پر نشاندھی کریں خلاف ورزی کرنے والے شہریوں کو بھاری جرمانہ ۔مکان سیل اور مقدمہ کا سامنا کرنے پڑے گا ۔ قومی املاک کو نقصان پہنچانا ایک قابل دست اندازی جرم ہے ۔ تمام شہری محتاط رہیں ۔

آپ کے خاندان کے سامنے آپ کی ایک خاتون کئی فٹ گہرے گڑھے میں موجود انسانی فضلے میں دھنس جائے ، اس کی چیخ وپکار سے ویرانہ گ...
27/04/2026

آپ کے خاندان کے سامنے آپ کی ایک خاتون کئی فٹ گہرے گڑھے میں موجود انسانی فضلے میں دھنس جائے ، اس کی چیخ وپکار سے ویرانہ گونج جائے تو آپ پہ کیا بیتے گی؟
آسٹریلیا کے ایک دور افتادہ کنزرویشن زون میں ایک خاتون کے ساتھ پیش آنے والا یہ واقعہ بظاہر ایک عام حادثہ تھا، مگر اس کی تفصیل اسے ایک غیر معمولی اور خوفناک ہے۔ خبر کے مطابق وہ اپنے خاندان کے ساتھ سفر پر تھیں جب راستے میں موجود ایک پِٹ ٹوائلٹ استعمال کرتے ہوئے وہ اچانک اس وقت زمین بوس ہو گئیں۔ بیت الخلا کا فرش ٹوٹ گیا اور وہ نیچے موجود گہرے گڑھے میں جا گریں، جہاں انسانی فضلہ جمع تھا۔ یہ گڑھا گٹر سے منسلک نہیں تھا بلکہ ایک کھلا اور غیر محفوظ ڈھانچہ تھا جو دیہی علاقوں میں عام پایا جاتا ہے۔ خاتون تقریباً تین گھنٹے تک اس گندے اور خطرناک ماحول میں پھنسے رہیں، جہاں بدبو، اندھیرا اور نفسیاتی خوف نے صورتحال کو مزید اذیت ناک بنا دیا۔ ان کے شوہر نے بعد میں مدد حاصل کی، اور ایک کاریگر نے رسی کی مدد سے انہیں باہر نکالا۔ حکام کے مطابق انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن خوش قسمتی سے کوئی سنگین جسمانی چوٹ نہیں آئی، تاہم واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس نوعیت کا خطرناک ڈھانچہ محفوظ کیوں نہیں تھا۔ عینی شاہد نے بتایا کہ اس سارے عمل میں تقریباً 45 منٹ لگے۔ گڑھے میں انسانی فضلے اور پیشاب کے علاوہ بچوں کے استعمال شدہ پیمپرز بھی پڑے ہوئے تھے۔ خاتون کو ہسپتال لے جایا گیا لیکن انھیں چوٹیں نہیں آئی ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ آسڑیلیا میں کسی ’پٹ ٹوائلٹ‘ میں ایسا واقعہ پیش آیا ہو۔جولائی 2024 میں فائر فائٹرز کو ریاست وکٹوریہ میں ایسے ہی ایک ٹوائلٹ میں پھنس جانے والے شخص کو نکالنے کے لیے ٹوائلٹ توڑنا پڑا تھا۔ اس سے قبل 2012 میں ایک 65 سالہ خاتون کو سینٹرل کوئینز لینڈ میں ایسے ہی ایک ٹوائلٹ میں گرنے کے بعد ایئر لفٹ کر کے ہسپتال پہنچانا پڑا تھا۔ دی کوریئر میل کے مطابق اس حادثے میں ان کی ٹانگ کی ہڈی فریکچر ہو گئی تھی۔ کئی دیگر ممالک میں بھی پٹ لیٹرین کے باعث جان لیوا حادثات ہو چکے ہیں۔

2014 میں ایسے ہی ایک ٹوائلٹ کے گرنے کے نتیجے میں جنوبی افریقہ میں ایک پانچ سالہ طالبعلم کی موت ہو گئی تھی۔ 2018 میں ایک اور طالبعلم کی موت کے بعد انکشاف ہوا تھا کہ جنوبی افریقہ میں تقریباً 4 ہزار 500 سکولوں میں اسی طرز کے ٹوائلٹس ہیں۔ اس ہی سال جنوبی افریقہ کی حکومت نے تمام سکولوں سے اس طرح کے ٹوائلٹس ختم کرنے کا اعلان کیا
Usman vibe

پاکستان وہ ملک ہے جس کے لیڈران کو سیدھی انگلی کی بجائے ٹیڑھی انگلی زیادہ پسند ہے ۔پاکستان ہر سال تقریباً 10 ارب ڈالرز کی...
26/04/2026

پاکستان وہ ملک ہے جس کے لیڈران کو سیدھی انگلی کی بجائے ٹیڑھی انگلی زیادہ پسند ہے ۔

پاکستان ہر سال تقریباً 10 ارب ڈالرز کی انڈین مصنوعات خریدتا ہے ، لیکن یہ مصنوعات ڈائریکٹ امپورٹ نہیں کی جاتی ،کیونکہ ہمارے سیاسی اختلافات ہیں جس کی بنا پہ 2019 سے بھارت کے ساتھ تجارت بند ہے۔

اب بھارتی تاجر مصنوعات کو پہلے سنگاپور اور دبئی میں بھیجتے ہیں ، وہاں انکی پیکجنگ ، لیبلنگ کی جاتی ہے ، اور اسکے بعد وہی بھارتی مصنوعات پاکستان میں براستہ سنگاپور اور دبئی امپورٹ ہوتی ہیں ۔
اس سے بھارت کا تو کوئی نقصان نہیں ہو رہا ، البتہ پاکستان کا بہت حد تک ہورہا ۔

اب وہی پروڈکٹ جو فرض کریں پاکستان کو 1 ارب ڈالر کی لاگت میں پڑنی تھیں، 10 ارب ڈالر میں پڑ رہی ہیں، اور یہ ٹیکہ براہ راست لگ رہا پاکستانی عوام کو ، عوام کو چیزیں مہنگی ملتی ہیں اور ملک کا کثیر زرمبادلہ "ڈالرز" کی شکل میں خرچ ہوتا ہے، کیونکہ بین الاقوامی دنیا میں زیادہ تر تجارت ڈالرز میں ہوتی ہے ۔

خیر پنجابی میں ایک قول ہے
جے مرانی اے تے سِدھی طرح مراؤ ، تا پاٹے تے گھٹ پیڑ ہوئے۔
Write Ali Haider

22/04/2026

Viral my first upload video funny [share]|like support me guys

انہوں نے دو سر والے کتے کا تجربہ کیا جو دنیا بھر میں مشہور ہوا۔ وہ ایک چھوٹے کتے کا سر اور اس کے اگلے حصے کو ایک بڑے کتے...
22/04/2026

انہوں نے دو سر والے کتے کا تجربہ کیا جو دنیا بھر میں مشہور ہوا۔ وہ ایک چھوٹے کتے کا سر اور اس کے اگلے حصے کو ایک بڑے کتے کے جسم پر جوڑ دیتے تھے۔ اس طرح ایک جسم پر دو سر ہو جاتے تھے۔
سر کو صرف اس طرح جوڑا جاتا تھا کہ اس کی خون کی نالیاں بڑے کتے کے جسم سے جُڑ جائیں۔ اس سے نئے سر کو آکسیجن اور غذائیت ملتی رہتی تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں سر الگ الگ ردعمل دیتے تھے یعنی دونوں زندہ ہوتے تھے۔
لیکن حقیقت کیا تھی؟ یہ کتے زیادہ دیر زندہ نہیں رہتے تھے اکثر چند دن سے چند ہفتے کیونکہ امیون سسٹم اسے غیر حصہ سمجھ کر رد کر دیتا تھا اُس وقت جدید ادویات اور ٹیکنالوجی موجود نہیں تھیں۔
یہ تجربات کیوں کیے گئے؟
ڈیمیخوف کا مقصد اصل میں دل اور دوسرے اعضا کی پیوندکاری کو سمجھنا تھا۔ آج جو ہارٹ ٹرانسپلانٹ ممکن ہے، اس کی بنیاد انہی ابتدائی اور متنازع تجربات پر پڑی۔ یہ تجربات سائنسی لحاظ سے اہم تھے، مگر اخلاقی طور پر آج کے دور میں انہیں انتہائی متنازع اور غیر انسانی سمجھا جاتا ہے۔ کیا سائنسی ترقی کے لیے ایسی حد تک جانا درست تھا؟ یہ کہانی آپ کو حیران بھی کرے گی اور سوچنے پر بھی مجبور کرے گی کہ سائنس کہاں تک جا سکتی ہے۔

بندا 100روپے پٹرول ریلیف رجسٹریشن کروانے گیا، وہاں اسکی بائیک کے 46 E چلان نکل آئے۔"بائیک تھانے بندکردی گئی۔ سائل کو پید...
19/04/2026

بندا 100روپے پٹرول ریلیف رجسٹریشن کروانے گیا، وہاں اسکی بائیک کے 46 E چلان نکل آئے۔"
بائیک تھانے بندکردی گئی۔ سائل کو پیدل گھر بھیج دیا.
یہ گورنمنٹ کی طرف سے بائیو میٹرک والے نظام صرف ملزمان کو پکڑنا اور ریکوری کرنا ہی مقصد ہے.

57 مسلم اکثریتی ملکوں میں سے صرف ایک نے کھلم کھلا ایٹمی تجربہ کیا ہے۔ کئی اور نے پروگرام شروع کیے،  پاکستان واحد مسلم ای...
18/04/2026

57 مسلم اکثریتی ملکوں میں سے صرف ایک نے کھلم کھلا ایٹمی تجربہ کیا ہے۔ کئی اور نے پروگرام شروع کیے،
پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز جنوری 1972 میں ہوا، 1971 کی جنگ میں مشرقی پاکستان کھونے کے چند ہفتے بعد۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ملتان میں سائنسدانوں کو بلایا اور کہا، «ہم گھاس کھائیں گے، مگر بم ضرور بنائیں گے»۔ فیصلہ کن موڑ مئی 1974 میں آیا جب بھارت نے «Smiling Buddha» دھماکہ کیا۔ پاکستان نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سربراہی میں یورینیم افزودگی تیز کر دی، جو یورپ سے سینٹری فیوج کے ڈیزائن لائے۔ 1987 تک پاکستان «کولڈ ٹیسٹ» کی صلاحیت حاصل کر چکا تھا۔ مئی 1998 میں بھارت کے تجربوں کے بعد، پاکستان نے 28 مئی 1998 کو چاغی، بلوچستان میں پانچ دھماکے کر کے جواب دیا۔ محرک سلامتی تھی: روایتی طور پر مضبوط بھارت اور 1971 کی یاد۔ بم کو اندرون ملک «اسلامی بم» کہا گیا، مگر اس کی بنیاد مذہب نہیں، ریاست کی بقا تھی۔
Iraq Atomic Programme

صدام حسین کے عراق نے سب سے ترقی یافتہ عرب ایٹمی پروگرام چلایا۔ 1970 کی دہائی میں عراق نے فرانس سے «اوسیراک» ریسرچ ری ایکٹر خریدا۔ اسرائیلی انٹیلی جنس نے اسے ہتھیاروں کا منصوبہ قرار دیا۔ 7 جون 1981 کو اسرائیلی F-16 طیاروں نے «آپریشن اوپیرا» میں اوسیراک تباہ کر دیا۔ عراق نے خفیہ طور پر الیکٹرومیگنیٹک اور سینٹری فیوج طریقوں پر کام شروع کیا۔ 1991 کی خلیجی جنگ کے بعد اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں نے ایک وسیع ایٹمی ڈھانچہ دریافت کر کے ختم کر دیا۔ 1995 تک پروگرام عملی طور پر ختم ہو چکا تھا۔ 2003 کے امریکی حملے میں کوئی فعال ہتھیاروں کا پروگرام نہ ملا۔ عراق کا کیس پیشگی انسدادِ پھیلاؤ کی کلاسیکی مثال بن گیا۔
Libya Atomic Program
معمر قذافی نے 1970 سے 2003 تک ایٹمی ہتھیاروں کا پیچھا کیا۔ لیبیا نے A.Q. خان نیٹ ورک سے سینٹری فیوج، ڈیزائن، اور یورینیم ہیکسا فلورائیڈ خریدے۔ مگر پروگرام سست روی سے آگے بڑھا۔ عراق جنگ کے بعد قذافی کو ڈر ہوا کہ اگلی باری اس کی ہے۔ دسمبر 2003 میں لیبیا نے اعلان کیا کہ وہ تمام WMD پروگرام ختم کر دے گا اور اپنا ایٹمی سامان امریکہ اور برطانیہ کے حوالے کر دیا۔ لیبیا کا کیس اس بات کا ثبوت ہے کہ سفارت کاری اور دباؤ بغیر جنگ کے بھی پروگرام واپس کروا سکتے ہیں۔

Syria Atomic Program
شام کی کوشش خفیہ اور مختصر تھی۔ شمالی کوریا کی مدد سے اس نے «الکبار» میں ایٹمی ری ایکٹر بنایا، جو شمالی کوریا کے یونگ بیون ری ایکٹر جیسا تھا اور پلوٹونیم بنا سکتا تھا۔ یہ تنصیب IAEA کو ظاہر نہیں کی گئی۔ 6 ستمبر 2007 کو اسرائیلی طیاروں نے رات کے حملے میں اسے تباہ کر دیا۔ IAEA نے بعد میں تصدیق کی کہ یہ جگہ «بہت ممکنہ طور پر» ایٹمی ری ایکٹر تھی۔ 2011 کے بعد شامی خانہ جنگی نے دوبارہ شروع ہونے کا امکان ختم کر دیا۔

Iran Atomic Program
ایران کا پروگرام سب سے طویل اور متنازع ہے۔ شاہ کے دور میں 1970 کی دہائی میں امریکی مدد سے شروع ہوا، ایران-عراق جنگ کے بعد دوبارہ زندہ کیا گیا۔ 2002 میں ایک جلاوطن گروپ نے نطنز میں خفیہ افزودگی سائٹس اور اراک میں بھاری پانی کا پلانٹ بے نقاب کیا۔ IAEA نے پایا کہ ایران نے 2003 تک «AMAD پروجیکٹ» کے تحت ہتھیار سازی کی تحقیق کی۔ ایران کہتا ہے پروگرام پرامن ہے اور NPT میں شامل ہے۔ 2015 کے JCPOA معاہدے نے افزودگی روک دی، مگر امریکہ 2018 میں نکل گیا۔ 2026 تک ایران 60% یورینیم افزودہ کر چکا ہے، جو 90% ہتھیاروں کے درجے سے ایک تکنیکی قدم دور ہے۔ اس نے بم نہیں بنایا، مگر «دہلیز پر کھڑی ریاست» سمجھا جاتا ہے۔ ایران کا حساب امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ڈیٹرنس اور پابندیوں کی قیمت کے درمیان توازن ہے۔

Egypt Atomic Program
ناصر کے دور میں مصر نے 1960 کی دہائی میں اسرائیل کے ڈیمونا ری ایکٹر کے بعد پروگرام پر غور کیا، مگر چھوڑ دیا۔ الجزائر کے چینی ساختہ ری ایکٹر نے 1990 کی دہائی میں تشویش پیدا کی، مگر IAEA کو ہتھیاروں کا کوئی تعلق نہ ملا۔ ترکی NATO شیئرنگ کے تحت امریکی ایٹمی ہتھیار رکھتا ہے مگر اپنا کبھی نہیں بنایا۔ سعودی عرب نے کہا ہے کہ «اگر ایران نے بم بنایا تو ہم بھی بنائیں گے»، مگر آج کوئی بنیادی ڈھانچہ نہیں۔ وہ بچاؤ کے طور پر امریکہ سے سویلین ایٹمی تعاون مانگ رہا ہے۔
Why Pakistan is successful?
تین عوامل بتاتے ہیں کہ صرف پاکستان کیوں کامیاب ہوا۔ پہلا، تکنیکی اور مالی رکاوٹیں بہت بڑی ہیں۔ دوسرا، بین الاقوامی نظام — NPT، پابندیاں، اسرائیلی اور امریکی پیشگی کارروائی — قیمت بڑھا دیتا ہے۔ تیسرا، اکثر مسلم ریاستیں سلامتی اتحاد سے حل کرتی ہیں، آزاد ڈیٹرنس سے نہیں۔ «اسلامی بم» کا لیبل اصل محرک کو چھپاتا ہے: ریاست کی اپنی عدم تحفظ کا احساس۔ مسلم ایٹمی پروگراموں کی تاریخ اس لیے مذہب سے کم اور اس بات سے زیادہ جڑی ہے کہ نوآبادیاتی دور کے بعد کی ریاستیں جب وجودی خطرہ محسوس کرتی ہیں تو کیا ردعمل دیتی ہیں۔ پاکستان نے بنایا، عراق اور شام پر بمباری ہوئی، لیبیا نے چھوڑ دیا، اور ایران دہلیز پر کھڑا توازن کر رہا ہے۔ ریکارڈ بتاتا ہے کہ بم بنانا ممکن ہے، مگر اسے رکھنا سیاسی فیصلہ ہے۔
, , , , , . , ,

ٹک ٹاک کا ایک گھمبیر مسلئہ جو بہت سے کریٹر کا حق مار رہا ہے ❌👎👎ویڈیو وائرل گئی  جب ویڈیو پر 3 لاکھ ویوز ہوئے تھے تب ایرن...
18/04/2026

ٹک ٹاک کا ایک گھمبیر مسلئہ جو بہت سے کریٹر کا حق مار رہا ہے ❌👎👎
ویڈیو وائرل گئی
جب ویڈیو پر 3 لاکھ ویوز ہوئے تھے تب ایرننگ 40 ڈالرز بن چکی تھی، جیسے ہی اس سے اوپر ویوز ہوئے یعنی 1.8 ملینز تک ویوز ہوئے تو ایرننگ بہت حد تک کم ہوگئی۔
1.7 ملینز ویوز کوالیفائیڈ ہونے سے ریجیکٹ کردیے گئے❌
ایرننگ 59 ڈالرز پر آکر رک گئی 👎
اگر کوالیفائیڈ ویوز 7 لاکھ بھی بنتے تو 413 ڈالرز اس ویڈیو سے بن جانے تھے لیکن 59 پر ایرننگ رک گئی۔
ٹک ٹاک نے ہمارے ساتھ کیا کیا ؟؟
جب ویڈیو پر ویوز کم تھے تب آڈیوینس یو ایس اے سے آرہی تھی اور ڈالرز بھی بہت تیزی سے بن رہے تھے جیسے ہی ویڈیو نے ملینز کراس کیا اور اچانک آڈیوینس میں افریقیوں نے ہلا بول دیا۔
ہر طرف افریقی آگئے
ساری ویڈیو کا بیڑہ غرق ہوگیا
اسی وجہ سے 1.7 ملینز ویوز کوالیفائیڈ ہونے سے ریجیکٹ ہوگئے اور یوں افریقیوں نے محنت پر پانی پھیر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس ویڈیو پر افریقی پہنچ جائیں اس سے ایرننگ کرنے کا خواب ادھورا رہ جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ افریقیوں سے اپنے کانٹینٹ کیسے محفوظ رکھیں ؟؟ آخر کیا کریں جس سے افریقی ویڈیو واچ نہ کریں؟
کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے دیں
پھر میں ان شاءاللہ اس کا سلوشن دوں گا
"ان کی ایسی کی تیسی اب "

Address

Pir Mahal

Telephone

+923120657791

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Usman vibe posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category