17/05/2026
ان کے لبوں پہ ایسے ہنسی ہے سجی ہوئی
جیسے کوئی کلی ہو ذرا سی کھلی ہوئی
حسن شباب زلف پریشاں خمار چشم
اف جیسے سامنے ہو قیامت کھڑی ہوئی
بھیگے لبوں کی ہائے وہ لہجہ طرازیاں
شبنم کی جیسے بوند ہو وہ بھی دھلی ہوئی
یوں دفعتا ملے تھے سر راہ ایک دن
پھر ہم نے چھوڑ دیں وہیں آنکھیں پڑی ہوئی
ازبر ہیں مجھ کو اس کے خدو خال اس طرح
جیسے کوئی غزل ہو مری ہی کہی ہوئی
حالانکہ سچ نہیں ہے مگر بولتے ہیں سب
"مل کر جناب آپ سے بیحد خوشی ہوئی"
برسوں دکھا ہے دل تو اٹھی ہے ذرا سی آہ
مدت کے بعد آج کوئی شاعری ہوئی
ہونٹوں پہ رکھ کے ہاتھ کہا تھا کسی نے" چپ"
زخمی ہے اب بھی سانس وہیں پر رکی ہوئی
ســـــراج عالـــم زخمــــی