NatureClick2See

NatureClick2See Chasing light, wandering trails, and capturing the raw beauty of the great outdoors. Welcome to my visual diary of mother nature. 📸

08/07/2026

لولوسر-دودی پت سر نیشنل پارک پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی خوبصورت وادی کاغان میں واقع ایک انتہائی دلکش اور مشہور نیشنل پارک ہے۔ یہ پارک اپنی قدرتی خوبصورتی، برف پوش پہاڑوں اور شیشے کی طرح چمکتی ہوئی جھیلوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔
یہ پارک کئی نایاب جانوروں اور پرندوں کا مسکن ہے، جن میں شامل ہیں: سنو لیپرڈ (برفانی چیتے), بلیک بیئر (کالا ریچھ), مارموش (Marmots - پہاڑی گلہری)
یہاں تک پہنچنے کے لیے بیسل (Besal) سے تقریباً 4 سے 5 گھنٹے کا پیدل ٹریک (ہائیکنگ) کرنا پڑتا ہے۔
شدید برف باری کی وجہ سے یہ پارک سردیوں میں بند رہتا ہے۔ یہاں گھومنے کا بہترین وقت جون سے ستمبر کے مہینے ہیں جب راستے کھلے ہوتے ہیں اور جھیلوں کا پانی اپنے پورے عروج پر ہوتا ہے۔

08/07/2026

کمراٹ کی سب سے بڑی پہچان یہاں کے طویل و عریض اور گھنے جنگلات ہیں، جن میں صنوبر (Deodar) کے اونچے اونچے درخت آسمان سے باتیں کرتے نظر آتے ہیں۔ ان جنگلات کے بیچ میں سے گزرتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انسان کسی طلسماتی دنیا میں آ گیا ہو۔ درختوں کی کثرت کی وجہ سے یہاں کی ہوا ہمیشہ صاف، تازہ اور معطر رہتی ہے۔

وادی کے عین درمیان سے گزرنے والا دریائے پنکورا اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتا ہے۔ اس دریا کا پانی شیشے کی طرح صاف، چمکدار اور حد درجہ ٹھنڈا ہے۔ پتھروں سے ٹکراتی ہوئی اس کی لہروں کا شور کانوں میں ایک مسحور کن موسیقی گھولتا ہے، جو انسان کو ذہنی سکون فراہم کرتا ہے۔

آلودگی اور شہروں کے شور شرابے سے دور، کمراٹ ایک انتہائی پرسکون جگہ ہے۔ رات کے وقت جب جنگل میں اندھیرا چھاتا ہے، تو آسمان تاروں سے بھر جاتا ہے اور یہاں کیمپنگ (Camping) کرنے کا تجربہ زندگی کے ناقابل فراموش تجربات میں سے ایک بن جاتا ہے۔ رات کو لکڑیاں جلا کر (Bonfire) اس کے گرد بیٹھنا اور دریا کی لہروں کی آواز سننا روح کو تروتازہ کر دیتا ہے۔

05/07/2026

شہری زندگی کے شور شرابے سے دور، یہ جگہ ان لوگوں کے لیے بہترین ہے جو فطرت کی آغوش میں سکون اور خاموشی کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ رات کے وقت یہاں کا آسمان ستاروں سے چمکتا ہوا دکھائی دیتا ہے جو کیمپنگ کرنے والوں کے لیے ایک سحر انگیز تجربہ ہوتا ہے۔

یہ مقام سطح سمندر سے تقریباً 10,000 فٹ سے زائد کی بلندی پر واقع ہے۔ یہاں کے وسیع و عریض ہریالی سے ڈھکے میدان، چاروں طرف پھیلے صنوبر اور دیودار کے گھنے جنگلات، اور پس منظر میں نظر آنے والے برف پوش پہاڑ ایک خوابناک منظر پیش کرتے ہیں۔

جہاز باندا تک پہنچنے کے لیے جندRecord (Jandrai) نامی گاؤں سے ٹریکنگ شروع ہوتی ہے۔ یہ ٹریک گھنے جنگلات اور خوبصورت جھرنوں سے گزرتا ہوا تقریباً 3 سے 5 گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔ ایڈونچر اور ہائیکنگ کے شوقین افراد کے لیے یہ ایک بہترین اور یادگار راستہ ہے۔

Memorable memory of Mulla Ki Basti Dudipatsar Trek
04/07/2026

Memorable memory of Mulla Ki Basti Dudipatsar Trek

30/06/2026

وادئ کمراٹ (لوئر دیر، خیبر پختونخوا) میں واقع آبشار، جسے عام طور پر کمراٹ آبشار (Kumrat Waterfall) کہا جاتا ہے، اس خوبصورت وادی کے سب سے دلکش اور مشہور سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے.

یہ آبشار ایک بہت ہی بلند اور دیوہیکل چٹان سے نیچے گرتی ہے۔ اس کا پانی برفانی گلیشیئرز سے پگھل کر آتا ہے، اس لیے یہ انتہائی ٹھنڈا، صاف اور شفاف ہوتا ہے۔ چٹانوں کے درمیان سے راستے بناتا ہوا پانی جب نیچے گرتا ہے تو ایک سحر انگیز منظر پیش کرتا ہے۔

آبشار کے ارد گرد کمراٹ کے مشہور، گھنے اور بلند و بالا دیودار کے درخت (Pine Trees) موجود ہیں۔ یہاں کی ہوا میں ایک خاص قسم کی تازگی اور سکون ہے، اور آبشار کے گرنے کی آواز دور دور تک سنائی دیتی ہے۔

29/06/2026

جہاز بانڈہ (Jahaz Banda) کی خوبصورت وادی میں بارش کے دوران ہائیکنگ کرنا ایک ایسا تجربہ ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے

جب آسمان پر کالے بادل چھا جائیں اور جہاز بانڈہ کے راستوں پر ہلکی ہلکی بوندیں گرنے لگیں، تو پورے ماحول پر ایک سحر انگیز خاموشی اور خوبصورتی طاری ہو جاتی ہے۔ جینڈرئی (Jandrai) گاؤں سے جب ہائیکنگ کا آغاز ہوتا ہے، تو مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو دل و دماغ کو تروتازہ کر دیتی ہے

تین سے چار گھنٹے کی کٹھن لیکن خوبصورت ہائیکنگ کے بعد جب آپ جہاز بانڈہ کی وسیع و عریض چراگاہ (Meadow) میں قدم رکھتے ہیں، تو ساری تھکن ایک پل میں غائب ہو جاتی ہے۔
چاروں طرف پھیلا ہوا سبزہ، دھند میں چھپی ہوئی پہاڑی چوٹیاں اور لکڑی کے بنے ہوئے چھوٹے چھوٹے ہٹس (Huts) کسی مائتھولوجیکل فلم کا منظر پیش کرتے ہیں۔ بارش کی ٹھنڈی ہواؤں کے بیچ جب آپ کو کسی کیمپ یا ہٹ سے لکڑی جلنے کی بو اور گرم چائے کی خوشبو آتی ہے، تو وہ سکون ناقابلِ بیان ہوتا ہے۔

28/06/2026

کٹورا جھیل صوبہ خیبر پختونخوا کے خوبصورت ضلع دیر بالا (Upper Dir) کی وادی کُمراٹ (Kumrat Valley) کے قریب، "جاز بانڈہ" (Jaz Banda) کے علاقے میں واقع ہے۔ یہ سطح سمندر سے تقریباً 11,500 فٹ کی بلندی پر موجود ایک الپائن جھیل (Alpine Lake) ہے
کٹورا جھیل (Katora Lake) سردیوں میں اور ابتدائی بہار کے موسم میں برف سے ڈھکی ہوتی ہے، جو اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتا ہے۔

اس جھیل کی بناوٹ بالکل ایک پیالے یا کٹورے جیسی ہے، اسی لیے اسے "کٹورا جھیل" کہا جاتا ہے۔ جب اس پر برف جمتی ہے، تو یہ ایک بہت بڑے سفید کٹورے کی مانند نظر آتی ہے جس میں ہر طرف سفید چمکتی ہوئی برف جمی ہوتی ہے
جاز بانڈہ سے کٹورا جھیل تک کا ٹریک عام طور پر 3 سے 4 گھنٹے کا ہے۔ لیکن جب وہاں برف باری ہو چکی ہو، تو یہ ٹریک کافی مشکل اور مہم جوئی سے بھرپور ہو جاتا ہے

برف کے موسم میں یہاں جانے کے لیے ہائیکنگ سٹکس (Hiking Sticks)، برف پر چلنے والے خاص جوتے (Crampons)، اور شدید سردی سے بچنے کے لیے گرم کپڑوں کا ہونا لازمی ہے۔

28/06/2026

No reception, but I found a better connection.

Address

Rawalpindi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when NatureClick2See posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share