Zikar e Sahaba Media Exclusive

Zikar e Sahaba Media Exclusive Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Zikar e Sahaba Media Exclusive, Sialkot.

08/01/2026
👕 امیر المومنین کا کُرتا اور ایک عام آدمی کا سوالایک بار مالِ غنیمت (یا بیت المال) سے کچھ یمنی چادریں مدینہ آئیں۔ حضرت ع...
30/11/2025

👕 امیر المومنین کا کُرتا اور ایک عام آدمی کا سوال
ایک بار مالِ غنیمت (یا بیت المال) سے کچھ یمنی چادریں مدینہ آئیں۔ حضرت عمرؓ نے حکم دیا کہ مدینہ کے ہر شخص کو ایک ایک چادر تقسیم کر دی جائے۔
سب کو ایک ایک چادر مل گئی۔
🕌 جمعہ کا خطبہ اور رکاوٹ
اگلے جمعہ کو حضرت عمرؓ مسجدِ نبوی کے منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ دینے لگے۔ آپؓ نے لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا:
"اِسْمَعُوا وَأَطِيعُوا"
(سنو اور اطاعت کرو!)
ابھی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ مجمع میں سے ایک عام آدمی کھڑا ہو گیا اور اس نے بلند آواز میں کہا:
"لَا نَسْمَعُ وَلَا نُطِيعُ"
(نہ ہم سنیں گے اور نہ اطاعت کریں گے!)
پوری مسجد میں سناٹا چھا گیا۔ یہ خلیفہ وقت سے بات کرنے کا انداز تھا؟ صحابہ کرامؓ حیران تھے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔
حضرت عمرؓ نے نہایت اطمینان سے پوچھا: "بھائی! تم کیوں نہیں سنو گے اور کیوں اطاعت نہیں کرو گے؟ وجہ کیا ہے؟"
❓ اعتراض
اس شخص نے کہا:
"امیر المومنین! آپ نے ہم سب کو ایک ایک چادر دی تھی۔ میں ایک درمیانے قد کا آدمی ہوں، میرا کُرتا اس ایک چادر میں مشکل سے بنا ہے۔ لیکن آپ کا قد لمبا اور جسم بھاری ہے۔ ایک چادر میں آپ کا یہ کُرتا (جو آپ نے پہنا ہوا ہے) بن ہی نہیں سکتا۔ یقیناً آپ نے اپنے لیے دو چادریں لی ہیں۔ جب آپ خود انصاف نہیں کر رہے اور مالِ غنیمت میں خیانت کر رہے ہیں (نعوذ باللہ)، تو ہم آپ کی بات کیوں سنیں؟"
سوچیں! آج کے دور میں کسی حکمران سے یہ پوچھنے کی جرات کوئی کر سکتا ہے؟
🗣️ جواب اور گواہی
حضرت عمرؓ کو غصہ نہیں آیا۔ انہوں نے مجمع میں ادھر ادھر دیکھا اور پکارا:
"عبداللہ بن عمر کہاں ہیں؟"
آپؓ کے بیٹے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کھڑے ہوئے۔
حضرت عمرؓ نے فرمایا: "بیٹا! اس شخص کو جواب دو۔"
حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے مجمع کو بتایا:
"لوگو! یہ بات سچ ہے کہ میرے والد کا قد لمبا ہے اور ایک چادر میں ان کا کُرتا نہیں بن سکتا تھا۔ اس لیے میں نے اپنے حصے کی چادر اپنے والد کو دے دی تھی۔ یہ کُرتا ان دو چادروں (ایک ان کی اپنی اور ایک میری) سے مل کر بنا ہے۔"
✅ اطمینان
جب اس شخص نے یہ وضاحت سنی تو اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور دل مطمئن ہو گیا۔ اس نے وہیں کھڑے ہو کر کہا:
"الْآنَ نَسْمَعُ وَنُطِيعُ"
(ہاں! اب ہم سنیں گے بھی اور اطاعت بھی کریں گے۔)

⚔️ پس منظر: ضرار بن ازورؓ کی گرفتاریمسلمانوں کا لشکر خالد بن ولیدؓ (سیف اللہ) کی قیادت میں رومیوں (بازنطینی فوج) کے خلاف...
30/11/2025

⚔️ پس منظر: ضرار بن ازورؓ کی گرفتاری
مسلمانوں کا لشکر خالد بن ولیدؓ (سیف اللہ) کی قیادت میں رومیوں (بازنطینی فوج) کے خلاف برسرپیکار تھا۔ اس جنگ میں ضرار بن ازورؓ، جو کہ بہت بڑے بہادر تھے اور اکثر قمیض کے بغیر (Bare-chested) لڑنے کے لیے مشہور تھے، جوش میں لڑتے لڑتے دشمن کی صفوں میں بہت اندر چلے گئے اور رومی فوج نے انہیں چاروں طرف سے گھیر کر گرفتار کر لیا۔
ضرارؓ کی گرفتاری مسلمانوں کے لیے بہت بڑا نقصان تھی۔ لشکر میں مایوسی پھیلنے لگی تھی۔
🐎 پراسرار سیاہ پوش شہسوار (The Mystery Rider)
خالد بن ولیدؓ اپنی فوج کو دوبارہ منظم کر ہی رہے تھے کہ اچانک صحرا کی دھول میں سے ایک نقاب پوش شہسوار نمودار ہوا۔
یہ شہسوار سر سے پاؤں تک سیاہ لباس میں ملبوس تھا۔
چہرے پر نقاب تھا، صرف آنکھیں نظر آ رہی تھیں۔
گھوڑے کی رفتار بجلی جیسی تھی اور ہاتھ میں لمبا نیزہ تھا۔
یہ شہسوار مسلمانوں کی صفوں کو چیرتا ہوا سیدھا رومی فوج کے سمندر میں تنہا کود گیا۔
منظر دیکھ کر خود خالد بن ولیدؓ بھی دنگ رہ گئے۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا: "یہ کون ہے؟ کیا تم میں سے کوئی اسے جانتا ہے؟"
سب نے کہا: "اللہ کی قسم! ہم نہیں جانتے، شاید یہ کوئی فرشتہ ہے یا کوئی مددگار جو اللہ نے بھیجا ہے۔"
🌪️ میدانِ جنگ کا نقشہ
وہ نقاب پوش اکیلا رومیوں پر قہر بن کر ٹوٹا۔ وہ جدھر جاتا، رومیوں کی لاشیں گرتی جاتیں۔ اس نے اکیلے ہی دشمن کی صفوں کو درہم برہم کر دیا۔ خالد بن ولیدؓ نے جب یہ دیکھا تو انہوں نے بھی اپنی فوج کو عام حملے کا حکم دے دیا۔
جنگ ختم ہوئی، مسلمان غالب آ گئے، لیکن وہ شہسوار ایک طرف خاموشی سے کھڑا ہو گیا۔
🎭 حقیقت کا انکشاف
خالد بن ولیدؓ اور دیگر سالار اس شہسوار کے پاس پہنچے اور اس کی تعریف کی۔ خالدؓ نے پوچھا:
"اے بہادر! تو کون ہے جس نے آج اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ایسی جنگ لڑی؟ اپنا چہرہ تو دکھاؤ۔"
شہسوار نے کوئی جواب نہیں دیا اور جانے کی کوشش کی۔
خالدؓ نے اصرار کیا: "میں تمہیں اس خدا کا واسطہ دیتا ہوں جس نے ہمیں فتح دی، بتاؤ تم کون ہو؟"
تب ایک زنانہ لیکن بارعب آواز آئی:
"اے امیر! میں نے حیا کی وجہ سے اپنا تعارف نہیں کروایا۔ میں کوئی مرد نہیں، میں ضرار بن ازور کی بہن 'خولہ بنت ازور' ہوں۔ جب مجھے خبر ملی کہ میرا بھائی قید ہو گیا ہے، تو مجھ سے رہا نہ گیا اور میں بھیس بدل کر میدان میں آ گئی۔"
یہ سن کر خالد بن ولیدؓ اور تمام صحابہ کی آنکھوں میں حیرت اور عقیدت کے آنسو آ گئے۔ ایک عورت کی ایسی شجاعت!
خالد بن ولیدؓ نے فوراً حکم دیا: "ہم سب مل کر حملہ کریں گے اور خولہ کے بھائی کو چھڑائیں گے۔"
پھر بی بی خولہؓ اور اسلامی لشکر نے مل کر حملہ کیا اور ضرار بن ازورؓ کو دشمن کی قید سے چھڑا لائے۔

یہ ہجرتِ مدینہ سے پہلے کا وقت ہے۔ مکہ میں مسلمان سخت مشکلات میں تھے، لیکن یثرب (مدینہ) سے کچھ لوگ مسلمان ہو چکے تھے۔ نبی...
30/11/2025

یہ ہجرتِ مدینہ سے پہلے کا وقت ہے۔ مکہ میں مسلمان سخت مشکلات میں تھے، لیکن یثرب (مدینہ) سے کچھ لوگ مسلمان ہو چکے تھے۔ نبی کریمﷺ نے فیصلہ کیا کہ وہاں ایک ایسے شخص کو بھیجا جائے جو وہاں کے لوگوں کو اسلام سکھائے اور ماحول تیار کرے۔
اس مشن کے لیے آپﷺ نے نہ تو کوئی تجربہ کار بوڑھا صحابی چنا اور نہ ہی کوئی جنگجو۔ آپﷺ نے مصعب بن عمیرؓ کو چنا، جو ایک نوجوان، خوش لباس اور انتہائی نرم مزاج انسان تھے۔ انہیں "اسلام کا پہلا سفیر" (First Ambassador) کہا جاتا ہے۔
🌿 باغ میں وہ تاریخی مکالمہ
حضرت مصعب بن عمیرؓ مدینہ پہنچے اور حضرت اسعد بن زرارہؓ کے گھر قیام کیا۔ وہ روزانہ لوگوں کو جمع کرتے، نہایت محبت سے قرآن سناتے اور دین کی باتیں بتاتے۔ مدینہ کے سرداروں کو یہ بات کھٹکنے لگی۔
مدینہ کے دو سب سے بڑے سردار، سعد بن معاذ اور اسید بن حضیر، اس نئی لہر سے بہت غصے میں تھے۔
سعد بن معاذ نے اسید سے کہا: "تم جاؤ اور اس اجنبی (مصعب) کو دھمکا کر آؤ کہ ہمارے نوجوانوں کو گمراہ کرنا بند کرے، ورنہ خیر نہیں ہوگی۔"
⚔️ نیزہ بمقابلہ اخلاق
اسید بن حضیر (جو اپنے قبیلے کے دیو ہیکل پہلوان اور سردار تھے) ہاتھ میں نیزہ لیے غصے میں وہاں پہنچے جہاں مصعبؓ لوگوں کو دین سکھا رہے تھے۔
اسید نے آتے ہی گالی گلوچ شروع کر دی اور نیزہ زمین پر مار کر کہا:
"تم ہمارے محلے میں کیوں آئے ہو؟ ہمارے کمزوروں کو بیوقوف بنا رہے ہو؟ اگر اپنی جان پیاری ہے تو ابھی یہاں سے دفع ہو جاؤ!"
عام حالات میں کوئی بھی نوجوان اتنے بڑے سردار کو دیکھ کر ڈر جاتا یا پھر جواب میں لڑنے لگتا۔ لیکن حضرت مصعبؓ کے چہرے پر اطمینان تھا اور ہونٹوں پر مسکراہٹ۔
حضرت مصعبؓ نے نہایت نرمی اور اعتماد سے وہ تاریخی جملہ کہا جس نے مدینہ کی تقدیر بدل دی:
"أَوَ تَجْلِسُ فَتَسْمَعَ؟"
(کیا آپ تھوڑی دیر بیٹھ کر میری بات سننا پسند نہیں کریں گے؟)
انہوں نے مزید کہا:
"اگر میری بات آپ کو پسند آئے تو قبول کر لیجئے گا، اور اگر ناپسند ہو تو میں آپ کو چھوڑ کر چلا جاؤں گا اور دوبارہ کبھی اپنی شکل نہیں دکھاؤں گا۔"
❤️ دل کا پگھلنا
اسید بن حضیر ایک سمجھدار آدمی تھے۔ انہوں نے سوچا کہ بات تو انصاف کی ہے، سننے میں کیا حرج ہے؟
وہ اپنا نیزہ گاڑ کر بیٹھ گئے۔
حضرت مصعبؓ نے قرآن پاک کی چند آیات تلاوت کیں اور اسلام کا سادہ پیغام پیش کیا۔
جیسے جیسے مصعبؓ بولتے گئے، اسید کے چہرے کے تاثرات بدلتے گئے۔ غصہ ختم ہو گیا اور چہرے پر نور آ گیا۔ ابھی بات ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ اسید بول پڑے:
"یہ کتنا بہترین کلام ہے اور کتنا سچا دین ہے! مجھے بتاؤ اس دین میں داخل ہونے کے لیے کیا کرنا پڑتا ہے؟"
وہ شخص جو قتل کرنے کے ارادے سے آیا تھا، اسی مجلس میں غسل کر کے مسلمان ہو گیا۔
🔄 دوسرا سردار (سعد بن معاذ)
جب اسید واپس گئے تو ان کے چہرے کی رنگت ہی بدلی ہوئی تھی۔ سعد بن معاذ (قبیلے کا سب سے بڑا سردار) سمجھ گیا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ اب سعد بن معاذ خود غصے میں تلوار لے کر آئے۔
لیکن حضرت مصعبؓ نے ان کے ساتھ بھی وہی حکمت اپنائی۔ وہی جملہ دہرایا: "بس تھوڑی دیر سن لیں، پسند نہ آئے تو میں چلا جاؤں گا۔"
نتیجہ وہی نکلا۔ سعد بن معاذ بھی مسلمان ہو گئے۔
جب سعد بن معاذ نے اسلام قبول کیا، تو وہ اپنی قوم کے پاس گئے اور پوچھا: "تم مجھے کیسا سمجھتے ہو؟"
سب نے کہا: "آپ ہمارے سردار ہیں۔"
سعد نے کہا: "تو سنو! مجھ پر تم میں سے کسی مرد یا عورت سے بات کرنا حرام ہے جب تک تم اللہ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان نہ لے آؤ۔"
تاریخ بتاتی ہے کہ شام ہونے تک پورا قبیلہ مسلمان ہو چکا تھا۔

⚖️ خلیفہ وقت عدالت کے کٹہرے میں 🏛️یہ کوفہ شہر کا منظر ہے۔ مسلمانوں کے خلیفہ، شیرِ خدا، حضرت علی المرتضیٰؓ بازار سے گزر ر...
24/11/2025

⚖️ خلیفہ وقت عدالت کے کٹہرے میں 🏛️
یہ کوفہ شہر کا منظر ہے۔ مسلمانوں کے خلیفہ، شیرِ خدا، حضرت علی المرتضیٰؓ بازار سے گزر رہے تھے کہ اچانک ان کی نظر ایک یہودی شخص پر پڑی جس کے ہاتھ میں ایک زرہ (جنگی لباس) تھی۔ 🛡️👀
حضرت علیؓ نے فوراً اپنی زرہ پہچان لی اور اس شخص سے فرمایا:
🗣️ "یہ زرہ میری ہے، میں نے نہ اسے بیچا ہے اور نہ کسی کو تحفے میں دیا ہے، یہ تمہارے پاس کیسے آئی؟"
اس شخص نے ڈھٹائی سے جواب دیا:
😏 "یہ زرہ میری ہے کیونکہ یہ میرے قبضے میں ہے۔"
حضرت علیؓ چاہتے تو ایک اشارہ کرتے اور زرہ واپس لے لیتے کیونکہ وہ وقت کے بادشاہ تھے، لیکن آپ نے عدل و انصاف کی ایسی مثال قائم کی جو دنیا آج تک نہیں بھول سکی۔ آپ نے فرمایا:
👉 "چلو! ہمارے درمیان مسلمانوں کا قاضی (جج) فیصلہ کرے گا۔"
🏛️ قاضی شریح کی عدالت 🔨
یہ دونوں قاضی شریح (رحمہ اللہ) کی عدالت میں پہنچ گئے۔ قاضی شریح نے جب خلیفہ وقت کو دیکھا تو احتراماً کھڑے ہونے لگے، لیکن حضرت علیؓ نے اشارہ کیا کہ عدل کے معاملے میں ہم دونوں برابر ہیں اور اس یہودی کے برابر میں بیٹھ گئے۔ 🪑🤝
قاضی شریح نے پوچھا: "یا امیر المومنین! آپ کا کیا دعویٰ ہے؟"
حضرت علیؓ نے فرمایا:
"یہ زرہ میری ہے جو اس کے ہاتھ میں ہے۔"
قاضی نے یہودی سے پوچھا: "تم کیا کہتے ہو؟"
اس نے کہا: "یہ زرہ میری ہے کیونکہ میرے قبضے میں ہے۔"
اب قاضی شریح نے حضرت علیؓ کی طرف دیکھا اور کہا:
🗣️ "اے امیر المومنین! کیا آپ کے پاس کوئی گواہ ہے؟" (کیونکہ اسلامی قانون میں دعویٰ کرنے والے کو ثبوت دینا ہوتا ہے)۔
حضرت علیؓ نے فرمایا:
"ہاں! میرا بیٹا حسنؓ اور میرا غلام قنبر گواہ ہیں۔" 🙋‍♂️
قاضی شریح نے سر جھکا لیا اور فرمایا:
🚫 "یا امیر المومنین! آپ کی بات سر آنکھوں پر، لیکن اسلامی قانون میں باپ کے حق میں بیٹے کی گواہی قبول نہیں کی جا سکتی۔"
حضرت علیؓ مسکرائے (کہ قانون کی پاسداری ہو رہی ہے) اور فرمایا: "اس کے علاوہ میرے پاس کوئی گواہ نہیں۔" 🤷‍♂️
⚡ فیصلہ اور حیران کن انجام 📜
چونکہ ثبوت پورا نہیں تھا، قاضی شریح نے فیصلہ سنایا:
⚖️ "چونکہ علی (رضی اللہ عنہ) گواہ پیش نہیں کر سکے، اس لیے یہ زرہ اسی یہودی کی ملکیت سمجھی جائے گی۔"
یہودی یہ منظر دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایک عظیم سلطنت کا حکمران اپنی ہی عدالت میں ایک عام شہری سے مقدمہ ہار جائے گا اور خاموشی سے فیصلہ قبول کر لے گا! 😲🌍
جب حضرت علیؓ جانے لگے تو وہ شخص پکار اٹھا:
😭 "رک جائیں! اے امیر المومنین! خدا کی قسم! یہ حکمرانوں کا نہیں بلکہ نبیوں کا طریقہ ہے۔"
اس نے زرہ حضرت علیؓ کے سامنے رکھ دی اور کہا:
🗣️ "یہ زرہ آپ ہی کی ہے۔ میں تو صرف آزما رہا تھا کہ مسلمانوں کا انصاف کیسا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔" ☝️💚
اس شخص نے وہیں اسلام قبول کر لیا۔
حضرت علیؓ اس کے اسلام لانے پر اتنے خوش ہوئے کہ وہ زرہ بھی اسے تحفے میں دے دی اور ساتھ 700 درہم بھی عطا فرمائے۔ 🎁💰
📚 حوالہ جات (References)
یہ واقعہ درج ذیل کتب میں موجود ہے:
تاریخ دمشق (Tarikh Dimashq): ابن عساکر، جلد 42، صفحہ 487۔
حلیۃ الاولیاء (Hilyat al-Awliya): جلد 4، صفحہ 139۔
السنن الکبریٰ (Al-Sunan al-Kubra): بیہقی۔

🦁 سید الشہداء: جب شکاری خود شکار ہو گیاحضرت حمزہ بن عبدالمطلب (رضی اللہ عنہ) نبی اکرم ﷺ کے چچا بھی تھے اور رضاعی بھائی (...
18/11/2025

🦁 سید الشہداء: جب شکاری خود شکار ہو گیا
حضرت حمزہ بن عبدالمطلب (رضی اللہ عنہ) نبی اکرم ﷺ کے چچا بھی تھے اور رضاعی بھائی (دودھ شریک بھائی) بھی۔ وہ مکہ کے سب سے طاقتور اور رعب دار نوجوان مانے جاتے تھے۔ ان کا مشغلہ شیروں کا شکار کرنا تھا۔ وہ جب اپنی کمان کندھے پر لٹکا کر مکہ کی گلیوں سے گزرتے تو بڑے بڑے سردار ان کا راستہ چھوڑ دیتے تھے۔
1. ایک افسوسناک واقعہ 😔
نبوت کا چھٹا سال تھا۔ مسلمانوں پر سختیاں عروج پر تھیں۔ ایک دن نبی اکرم ﷺ کوہِ صفا کے قریب تشریف فرما تھے۔ مکہ کا سب سے بڑا دشمن، ابو جہل، وہاں سے گزرا۔
اس نے آپ ﷺ کو تنہا دیکھا تو بدتمیزی شروع کر دی۔ اس نے آپ ﷺ کو بہت برا بھلا کہا اور گالیاں دیں۔ نبی کریم ﷺ خاموش رہے اور اسے کوئی جواب نہیں دیا۔ ابو جہل نے حد کر دی اور آپ ﷺ کے سرِ مبارک پر پتھر یا کمان دے ماری جس سے خون بہنے لگا۔ 🩸
یہ سارا منظر عبداللہ بن جدعان کی ایک کنیز (غلام لڑکی) دیکھ رہی تھی۔ اسے بہت دکھ ہوا، لیکن وہ کچھ کر نہیں سکتی تھی۔
2. شکاری کی واپسی 🏹
شام کے وقت حضرت حمزہ (رضی اللہ عنہ) شکار سے واپس لوٹے۔ ان کا معمول تھا کہ وہ شکار سے واپسی پر گھر جانے سے پہلے کعبہ کا طواف کرتے اور سرداروں کی محفلوں میں سلام کرتے ہوئے گزرتے۔
وہ اپنی شان و شوکت کے ساتھ آ رہے تھے کہ اسی کنیز نے انہیں روک لیا۔
اس نے کہا: "اے ابوعمارہ! (حضرت حمزہ کی کنیت) کاش تم دیکھتے کہ آج تمہارے بھتیجے محمد (ﷺ) کے ساتھ کیا ہوا؟ ابو جہل نے انہیں گالیاں دیں اور زخمی کر دیا، اور انہوں نے آگے سے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔"
3. شیر کا غضب 😡⚡
یہ سننا تھا کہ حضرت حمزہ (جو ابھی مسلمان نہیں تھے) کی خاندانی غیرت اور بھتیجے کی محبت جوش مار گئی۔ ان کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ 🌋
انہوں نے گھر جانے کا ارادہ ترک کیا اور سیدھا حرم کعبہ کا رخ کیا، جہاں ابو جہل اپنی قوم کے سرداروں کے ساتھ بیٹھا ڈینگیں مار رہا تھا۔
حضرت حمزہ 🌪️ کی طرح وہاں پہنچے۔ انہوں نے کسی سے دعا سلام نہیں کی۔ وہ سیدھے ابو جہل کے سر پر پہنچے، اپنی کمان (Bow) زور سے اس کے سر پر دے ماری!
کمان اتنی زور سے لگی کہ ابو جہل کا سر پھٹ گیا اور خون بہنے لگا۔ 💥
4. تاریخی چیلنج 🗣️
ساری محفل میں سناٹا چھا گیا۔ حضرت حمزہ نے گرجدار آواز میں کہا:
"کیا تو محمد (ﷺ) کو گالیاں دیتا ہے؟ سن لے! میں بھی اسی کے دین پر ہوں، جو وہ کہتا ہے، میں بھی وہی کہتا ہوں۔ اگر تجھ میں ہمت ہے تو میرا مقابلہ کر کے دکھا!"
ابو جہل کے قبیلے (بنو مخزوم) کے لوگ لڑنے کے لیے کھڑے ہو گئے، لیکن ابو جہل حضرت حمزہ کی طاقت اور دلیری کو جانتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر لڑائی ہوئی تو بہت نقصان ہوگا۔
اس نے اپنے لوگوں کو روکا اور کہا: "ابوعمارہ کو جانے دو، واقعی میں نے اس کے بھتیجے کو بہت برا بھلا کہا تھا۔"
5. دل کی تبدیلی اور نورِ ایمان 💡
حضرت حمزہ نے غصے میں یہ تو کہہ دیا کہ "میں محمد (ﷺ) کے دین پر ہوں"، لیکن وہ ابھی دل سے مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ یہ صرف حمیت (غیرت) کا ردعمل تھا۔
جب وہ گھر واپس آئے تو پریشان ہو گئے۔ سوچنے لگے کہ میں نے جذبات میں آ کر بہت بڑا دعویٰ کر دیا ہے۔ کیا مجھے اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ دینا چاہیے؟ وہ ساری رات بے چین رہے اور اللہ سے دعا کی: "اے خدا! اگر یہ راستہ (اسلام) سچا ہے تو میرے دل کو اس پر مطمئن کر دے۔" ✨
صبح ہوتے ہی وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے اپنا ماجرا سنایا۔ آپ ﷺ نے انہیں اسلام کی دعوت دی اور کچھ آیات تلاوت فرمائیں۔
وہ الفاظ حضرت حمزہ کے دل میں اتر گئے اور انہوں نے اسی وقت سچے دل سے کلمہ پڑھ لیا۔ ❤️
6. اسلام کی طاقت 💪
حضرت حمزہ (رضی اللہ عنہ) کے مسلمان ہونے سے اسلام کو بہت بڑی طاقت ملی۔ اس سے پہلے مسلمان چھپ کر عبادت کرتے تھے۔ حضرت حمزہ کے بعد حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) بھی مسلمان ہو گئے۔
ان دونوں شیروں کے آنے کے بعد مسلمانوں نے پہلی بار کعبہ میں کھل کر دو صفوں میں نماز ادا کی۔ ایک صف کے آگے حضرت حمزہ تھے اور دوسری کے آگے حضرت عمر۔ قریش والے یہ دیکھ کر جل بھن گئے لیکن کسی میں ہمت نہ تھی کہ ان شیروں کو روک سکے۔
اسی بہادری کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ نے انہیں "اسد اللہ" (اللہ کا شیر) کا لقب عطا فرمایا۔ 🦁👑

*༺ ذِکْر صَحَــــــابَہؓ مِیڈِیَا ༻*
https://chat.whatsapp.com/DJeFcf4Ue2lGt2MNeFuciB?mode=hqrc


⚔️ نو (9) تلواریں ٹوٹ گئیں: غزوہِ موتہ کا معرکہمنظر:یہ مقابلہ بالکل غیر مساوی تھا۔ایک طرف 3,000 مسلمانوں کا چھوٹا سا لشک...
18/11/2025

⚔️ نو (9) تلواریں ٹوٹ گئیں: غزوہِ موتہ کا معرکہ
منظر:
یہ مقابلہ بالکل غیر مساوی تھا۔
ایک طرف 3,000 مسلمانوں کا چھوٹا سا لشکر 👳‍♂️۔
دوسری طرف رومی سلطنت (سپر پاور) کا 2,00,000 (دو لاکھ) کا سمندر! 🌊
(یعنی 1 مسلمان کے مقابلے میں تقریباً 66 دشمن)۔
نبی اکرم ﷺ مدینہ میں تھے اور لشکر روانہ کرتے وقت آپ نے تین سپہ سالار مقرر فرمائے تھے:
"سب سے پہلے امیر زید بن حارثہ ہوں گے۔"
"اگر وہ شہید ہو جائیں تو جعفر بن ابی طالب ہوں گے۔"
"اگر وہ بھی شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ ہوں گے۔"
(یہ ترتیب سن کر صحابہ سمجھ گئے تھے کہ مقابلہ بہت سخت ہونے والا ہے)۔ 😢
1. تینوں سالاروں کی شہادت 🩸
جنگ شروع ہوئی اور مسلمانوں نے بہادری کی ایسی مثال قائم کی کہ زمین کانپ گئی۔
سب سے پہلے حضرت زید (رضی اللہ عنہ) جھنڈا لے کر آگے بڑھے اور دشمن کی صفوں میں گھس گئے۔ وہ لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ 🚩
پھر جھنڈا حضرت جعفر (رضی اللہ عنہ) (نبی ﷺ کے چچازاد بھائی) نے تھاما۔ وہ گھوڑے سے کود پڑے اور دشمن پر ٹوٹ پڑے۔ دورانِ جنگ ان کا دایاں بازو کٹ گیا، انہوں نے جھنڈا بائیں ہاتھ میں تھام لیا۔ بایا بازو بھی کٹ گیا، تو انہوں نے جھنڈا اپنے سینے اور بازوؤں کے بچے ہوئے حصے سے بھینچ لیا تاکہ اسلام کا جھنڈا زمین پر نہ گرے۔ بالآخر وہ بھی شہید ہو گئے۔
(انہیں کے بارے میں نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے انہیں جنت میں دو بازوؤں کے بدلے دو پر (Wings) عطا کیے ہیں جس سے وہ جہاں چاہیں اڑتے پھرتے ہیں۔ اسی لیے انہیں "جعفر طیار" کہتے ہیں۔) 🕊️
پھر حضرت عبداللہ بن رواحہ (رضی اللہ عنہ) آگے بڑھے۔ وہ بھی شیروں کی طرح لڑے اور جامِ شہادت نوش کر لیا۔
2. کمان کس کے ہاتھ میں؟ 🤔
تینوں مقررہ سالار شہید ہو چکے تھے۔ لشکر میں بھگدڑ مچنے والی تھی۔ جھنڈا زمین پر تھا۔
ایسے میں حضرت ثابت بن اقرم (رضی اللہ عنہ) نے جھنڈا اٹھایا اور پکارا: "اے مسلمانو! کسی ایک شخص کو اپنا امیر چن لو!"
سب کی نظریں ایک ہی شخص پر جم گئیں۔۔۔ وہ تھے خالد بن ولید۔
حضرت خالد نے پہلے انکار کیا، لیکن حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے جھنڈا تھام لیا۔
3. نو تلواریں اور اللہ کی تلوار ⚔️💥
جیسے ہی کمان حضرت خالد (رضی اللہ عنہ) کے ہاتھ میں آئی، جنگ کا نقشہ بدل گیا۔
حضرت خالد (رضی اللہ عنہ) کو اسلام لائے ابھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا، لیکن جنگی مہارت ان کی رگ رگ میں تھی۔
اس دن حضرت خالد (رضی اللہ عنہ) نے ایسی لڑائی لڑی کہ انسانی عقل دنگ رہ جائے۔ وہ دشمن کے لشکر میں بجلی بن کر کونڈتے رہے۔ ⚡
حضرت خالد (رضی اللہ عنہ) خود بیان کرتے ہیں (صحیح بخاری کی روایت ہے):
"غزوہ موتہ کے دن میرے ہاتھ سے 9 تلواریں ٹوٹیں، اور میرے ہاتھ میں صرف ایک یمنی چوڑے پھل والی تلوار باقی بچی۔"
آپ اندازہ لگائیں اس جوش اور طاقت کا کہ لوہے کی 9 تلواریں لڑتے لڑتے ٹوٹ گئیں! 💪🔥
4. تاریخی جنگی حکمتِ عملی (Masterstroke) 🧠
شام ہو گئی اور جنگ رک گئی۔ حضرت خالد جانتے تھے کہ 3 ہزار لوگ 2 لاکھ کو ختم نہیں کر سکتے۔ انہیں لشکر کو بچا کر نکالنا تھا۔
انہوں نے راتوں رات ایک زبردست چال چلی:
لشکر کی ترتیب بدل دی: جو دستہ دائیں (Right) طرف تھا اسے بائیں (Left) کر دیا، اور بائیں کو دائیں کر دیا۔ جو پیچھے تھے انہیں آگے کر دیا۔
دھول اور شور: انہوں نے پچھلے دستوں کو حکم دیا کہ صبح ہوتے ہی دور سے خوب دھول اڑائیں اور نعرے لگائیں۔ 🌪️🗣️
صبح جب رومیوں نے دیکھا کہ جھنڈے بدل گئے ہیں، چہرے بدل گئے ہیں اور پیچھے سے دھول اور شور آ رہا ہے، تو انہیں لگا کہ "مدینہ سے مسلمانوں کی بہت بڑی مدد (Reinforcements) آ گئی ہے۔" 😱
رومی خوفزدہ ہو گئے۔ حضرت خالد (رضی اللہ عنہ) نے آہستہ آہستہ لشکر کو پیچھے ہٹانا شروع کیا۔ رومیوں نے سمجھا یہ بھی کوئی جال ہے، اس لیے وہ پیچھے نہ آئے۔
اس طرح حضرت خالد (رضی اللہ عنہ) پورا لشکر صحیح سلامت نکال لائے۔ یہ پسپائی نہیں، بلکہ ایک عظیم فتح تھی۔ 🏆
5. "سیف اللہ" کا خطاب 👑
مدینہ میں اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے یہ سارا منظر کھول دیا تھا۔ آپ ﷺ ممبر پر تشریف فرما تھے اور صحابہ کو (لائیو) بتا رہے تھے:
"اب زید شہید ہو گئے۔۔۔ اب جعفر نے جھنڈا لیا اور شہید ہو گئے۔۔۔ اب عبداللہ شہید ہو گئے۔۔۔" (آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے)۔ 😢
پھر آپ ﷺ نے فرمایا:
"اب جھنڈا اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار (خالد) نے لے لیا ہے، اور اللہ نے ان کے ہاتھ پر فتح دی ہے۔"
یہیں سے آپ کا نام "سیف اللہ" (Sword of Allah) پڑ گیا۔ ⚔️
✦••┈┈┈•◈•🌿•◈•┈┈┈••✦
📿 *ذِکْرِ صَـــحَــابَــہٗ میڈِیا* 📿
✦••┈┈┈•◈•🌿•◈•┈┈┈••✦

یہ واقعہ غزوہِ احد (3 ہجری) کا ہے۔ یہ اسلام کی تاریخ کا وہ دن تھا جب مسلمانوں پر بہت سخت وقت آیا تھا، اور نبی اکرم ﷺ کی ...
18/11/2025

یہ واقعہ غزوہِ احد (3 ہجری) کا ہے۔ یہ اسلام کی تاریخ کا وہ دن تھا جب مسلمانوں پر بہت سخت وقت آیا تھا، اور نبی اکرم ﷺ کی حفاظت کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کیے جا رہے تھے۔ 🛡️
اس دن حضرت سعد بن ابی وقاص (رضی اللہ عنہ) نے تیر اندازی کا وہ کمال دکھایا کہ تاریخ لرز گئی۔ اور انہیں وہ انعام ملا جو پوری کائنات میں کسی اور صحابی کو (اکٹھا) نہیں ملا۔ 🏅
🏹 "تیر چلاؤ سعد! میرے ماں باپ تم پر قربان!"
حضرت سعد (رضی اللہ عنہ) نبی اکرم ﷺ کے ماموں (رشتہ دار) بھی لگتے تھے اور اسلام کے لیے پہلا تیر چلانے کا اعزاز بھی انہی کے پاس تھا۔ لیکن احد کے دن بات کچھ اور ہی تھی۔
1. احد کا خوفناک منظر 🌋
جنگ کا پانسہ پلٹ چکا تھا۔ خالد بن ولید (جو تب مسلمان نہیں تھے) نے پیچھے سے حملہ کر دیا تھا۔ مسلمانوں میں بھگدڑ مچ گئی۔ افواہ پھیل گئی کہ (نعوذ باللہ) نبی اکرم ﷺ شہید ہو گئے ہیں۔
لیکن حقیقت میں آپ ﷺ زندہ تھے، مگر آپ کو مشرکین نے چاروں طرف سے گھیر لیا تھا۔ دشمن آپ ﷺ کے قریب پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ⚔️
اس نازک وقت میں صرف چند (گنتی کے) صحابہ آپ ﷺ کے گرد انسانی دیوار بن کر کھڑے تھے۔ ان میں سے ایک حضرت سعد بن ابی وقاص تھے۔
2. تیروں کی بارش 🌧️🏹
حضرت سعد (رضی اللہ عنہ) زمین پر اکڑوں بیٹھ گئے اور اپنی کمان (Bow) سنبھال لی۔ انہوں نے اپنے ترکش (Quiver) سے تیر نکالنے شروع کیے۔
یہ کوئی عام تیر اندازی نہیں تھی۔ حضرت سعد کا نشانہ اتنا پکا تھا کہ وہ جس دشمن کو نشانہ بناتے، تیر سیدھا اس کے گلے یا پیشانی پر لگتا اور وہ وہیں ڈھیر ہو جاتا۔ 🎯
حضرت سعد تیر چلاتے جاتے اور کہتے:
"اے اللہ! یہ تیرا دشمن ہے، اسے جہنم رسید کر دے!" 🔥
3. نبی ﷺ کا خدمت کرنا 🤲
سب سے حیران کن منظر یہ تھا کہ کائنات کے سردار، نبی اکرم ﷺ خود حضرت سعد (رضی اللہ عنہ) کی مدد کر رہے تھے۔
آپ ﷺ اپنے دستِ مبارک سے تیر اٹھا کر حضرت سعد کو دیتے اور فرماتے: "یہ لو، چلاؤ!"
یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اپنے ترکش کے تیر بھی حضرت سعد کے سامنے بکھیر دیے کہ ان سے دشمنوں کو مارو۔
4. وہ تاریخی جملہ جو اعزاز بن گیا 👑
جب دشمن کا دباؤ بہت بڑھ گیا، تو نبی اکرم ﷺ نے جوش دلانے کے لیے حضرت سعد کو وہ الفاظ کہے جو انہوں نے پوری زندگی کسی اور انسان کے لیے (اکٹھے) استعمال نہیں کیے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
💚 "اِرْمِ سَعْدُ۔۔۔ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي!" 💚
(تیر چلاؤ اے سعد! میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں!)
اللہ اکبر! 😲
صحابہ کرام فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے کبھی کسی کے لیے یہ نہیں کہا کہ "میرے ماں باپ تم پر قربان"، سوائے سعد بن ابی وقاص کے۔ حضرت علی (رضی اللہ عنہ) فرمایا کرتے تھے: "مجھے سعد پر ہمیشہ رشک آتا تھا کہ انہیں یہ مقام ملا۔"
5. ایک تیر کا نشانہ 👁️
اسی دوران دشمنوں کا ایک سردار حبان بن عرقہ مسلمانوں پر بہت ظلم ڈھا رہا تھا۔ اس نے نبی ﷺ کی طرف تیر چلایا جو آپ کے قریب سے گزرا۔
نبی ﷺ نے سعد سے فرمایا: "اسے دیکھو!"
حضرت سعد نے اپنے ترکش میں دیکھا تو کوئی تیر نہ تھا، صرف ایک تیر بچا تھا جس کے آگے پھل (نوک/head) نہیں تھا اور پیچھے پر (feathers) ٹوٹے ہوئے تھے۔ بظاہر یہ بیکار تیر تھا۔
لیکن سعد (رضی اللہ عنہ) نے اللہ کا نام لے کر وہی ٹوٹی ہوئی لکڑی کمان میں رکھی اور چلا دی۔ 🏹💫
وہ تیر سیدھا جا کر اس کافر (حبان) کی آنکھ میں لگا اور بھیجے میں اتر گیا۔ وہ وہیں گرا۔
یہ دیکھ کر نبی اکرم ﷺ اتنا مسکرائے کہ آپ کے دندانِ مبارک ظاہر ہو گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "سعد! تم نے اس کا بدلہ لے لیا۔" 😊
حضرت سعد (رضی اللہ عنہ) بعد میں فاتح ایران (Conqueror of Persia) بنے، لیکن وہ بڑھاپے میں اپنی اولاد کو یہ واقعہ فخر سے سناتے اور کہتے: "یہ وہ دن تھا جب میرے حبیب ﷺ نے اپنے والدین کو مجھ پر قربان کیا۔" ❤️

*༺ ذِکْر صَحَــــــابَہؓ مِیڈِیَا ༻*
https://chat.whatsapp.com/DJeFcf4Ue2lGt2MNeFuciB?mode=hqrc

Follow us
17/11/2025

Follow us

✨🌙 A Powerful Islamic Story That Shocked a Non-Muslim Judge 🌙✨A false accusation was once made against Imam Abu Hanifa ر...
17/11/2025

✨🌙 A Powerful Islamic Story That Shocked a Non-Muslim Judge 🌙✨

A false accusation was once made against Imam Abu Hanifa رحمه اللہ by some men in the court of the caliph. A non-Muslim judge was assigned to the case, and he already disliked Muslims.

When Imam Abu Hanifa رحمه اللہ entered the courtroom, he stood with complete calmness and dignity. ✨

The judge asked:
"Do you realize that lying may lead you to death?"

Imam Abu Hanifa رحمه اللہ replied:
"Truth saves a man—not from death, but from humiliation." 🌙🔥

The entire court was stunned.
After investigation, the accusation was proven completely false.

The non-Muslim judge said:
"I have never seen such honesty in the face of danger. A liar could never stand this calmly!"

His heart softened… the justice and truthfulness of Islam shook him so deeply that he later embraced Islam. 🌟🤲✨

This is the beauty of Islam — truth, justice, and unwavering faith.

---

🔥 💥 🌙 ✨ ⚖️ 💗 🌟 🎬 🕊️ 💫 📖 🔥🔥 🔍

📌故事:伊玛目阿布哈尼法的公正 —— 让非穆斯林震撼的瞬间一位非穆斯林法官负责审判阿布哈尼法(Imam Abu Hanifa)ؒ 被诬陷的案件。他本就对穆斯林有成见,并认为这是一个“轻松定罪”的机会。当阿布哈尼法ؒ 走进法庭时,全场安静下来...
17/11/2025

📌故事:伊玛目阿布哈尼法的公正 —— 让非穆斯林震撼的瞬间

一位非穆斯林法官负责审判阿布哈尼法(Imam Abu Hanifa)ؒ 被诬陷的案件。
他本就对穆斯林有成见,并认为这是一个“轻松定罪”的机会。

当阿布哈尼法ؒ 走进法庭时,全场安静下来。
法官问:
“你知道这个罪名可能让你丧命吗?”

阿布哈尼法ؒ 平静地回答:
“真理保护人,不是生命。”✨

经过详细调查,所有指控被证明完全虚假。
法官震惊地说:
“我从未见过一个人在面对死亡时如此坦然、如此诚实。”

这份坚定的信仰与高尚的品格深深打动了他。
不久之后,这位非穆斯林法官被伊斯兰的真诚和公正折服,最终选择了皈依伊斯兰。 🌙🤲✨

۔
۔
۔
#热门故事🔥 #真实事件💥 #感动瞬间❤️ #伊斯兰之美🌙 #正义不灭⚖️
#善良的力量✨ #打动人心💗 #值得深思🧠 #改变人生🌟 #深度好文📚 #震撼心灵💫 #为你推荐👉 #必看故事🎬 #超强共鸣🔥 #温暖世界🤝 #全网最火🔥🔥

حضرت علی کرم اللہ وجہہُ کی شجاعت — جنگِ خندق کا وہ لمحہ جس نے دشمن کے دل ہلا دیے جنگِ خندق کے دن…سارا مسلمانوں کا لشکر ا...
16/11/2025

حضرت علی کرم اللہ وجہہُ کی شجاعت — جنگِ خندق کا وہ لمحہ جس نے دشمن کے دل ہلا دیے

جنگِ خندق کے دن…
سارا مسلمانوں کا لشکر ایک طرف 😶⚔️
اور سامنے عرب کا سب سے بہادر، سب سے خطرناک پہلوان: عَمرو بن عبدوَدّ 🔥🐎

پورا میدان گونج رہا تھا:
"کون ہے جو میرے مقابل آئے؟" 😡⚔️

کوئی آگے نہ بڑھا…
سکوت، خوف، خاموشی…

اور پھر ایک آواز آئی:
"میں جاتا ہوں!"
یہ تھے — شیرِ خدا حضرت علی کرم اللہ وجہہُ 💥🗡️🔥

نبیِ کریم ﷺ نے خود عمامہ باندھا، دعا دی، اور علیؑ آگے بڑھے۔
پوری زمین جیسے تھم گئی 😳⚡

جنگ شروع ہوئی…
دو تلواریں ٹکرائیں…
چنگاریاں اڑیں… ⚔️🔥
دھول اٹھی… 🌪️😨
اور اگلے ہی لمحے، لوگوں نے دیکھا:

عمرو زمین پر گرا ہوا ہے — اور حضرت علیؑ فاتح کھڑے ہیں! 🗡️🔥👑

پورا میدان نعرہ تکبیر سے گونج اٹھا:
اللّٰہُ أَکْبَر! 🔥❤️

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“علی کا یہ وار، اُمّت کے تمام اعمال سے افضل ہے!”
(مستند اثر)

🔥 شجاعت کا اصل مطلب:
✔ خوف ہو تو بھی کھڑے رہو
✔ حق کے لیے لڑو
✔ اور نیت صرف اللہ ہو

حضرت علیؑ نے دکھا دیا:
جس کے دل میں ایمان ہو، اس کے سامنے دنیا کا کوئی پہلوان کچھ نہیں! ⚡🗡️🔥


#شجاعت





Address

Sialkot
30000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zikar e Sahaba Media Exclusive posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Zikar e Sahaba Media Exclusive:

Share