19/08/2026
ہمارے بعد آزاد ہونے والا ملک جس نے گزشتہ دو دہائیوں میں شدید ترقی کی ہے اور آج دنیا سے بہت آگے نکل چکا ہے۔ یہاں آۓ روز ریلوے میں انقلاب آرہا ہے ، اپنے ہی ریکارڈ کو توڑ کر مزید نیۓ ریکارڈ قائم کررہا ہے۔ ریل گاڑیوں میں ایسی سہولیات ہیں کہ ہوائ سفر بہت پھیکا نظر آتا ہے۔ آج بلٹ ٹرین چائنا کی شناخت بن چکی ہے یہاں آنے والی سرکاری غیرملکی نمائندوں بشمول صدور اور وزیراعظموں تک کو بلٹ ٹرینز میں سفر کروایا جاتا ہے۔ گزشتہ ماہ جب بنگلہ دیش کے وزیراعظم چین کے دورے پر آۓ تو انہیں اور انکی اہلیہ کو بھی بلٹ ٹرین پر سفر کروایا گیا ، گزشتہ سال چین میں شنگھائ کانفرنس اور نیشنل پریڈ پر ہمارے وزیراعظم صاحب بھی چین کے سرکاری دورے پر موعو تھے انہیں بھی Tianjin سے بیجنگ تک بلٹ ٹرین پر سفر کروایا گیا۔
چائنا نہ صرف خود بلکہ اپنے دوست ممالک میں بھی ریل نیٹ ورک بچھانے میں مدد فراہم کررہا ہے جن میں ایشیائ ممالک کے علاوہ افریقی اور یورپی ممالک بھی شامل ہیں۔
ایک ہمارا ایم ایل ون ہے جس کے لیے کبھی چائنا کی طرف دیکھتے ہیں کبھی، جاپان، کبھی ترکیہ اور کبھی ایشین ڈوپلمنٹ بنک کی طرف ۔
معلوم نہیں کب اس کو فائلوں سے نکال کر عملدرآمد ہوگا۔ میرا ماننا ہے اسکی بڑی وجہ حکومت کی ریلوے میں عدم دلچسپی ہے اور جب اس میں کسی نے صحیح معنی میں دلچسپی لی تو ملک سیاسی عدم استحکام سے دو چار ہوگیا۔
معلوم نہیں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔
©️RAIL EYESHOT
China Railway