25/07/2026
💝 گزشتہ سے پیوستہ 💖
مرحوم و مغفور ماسٹر جاوید صاحب
یادِ رفتگاں 🥺
یقیناً موت ایک اٹل حقیقت ہے۔ لوگ آتے ہیں، اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور پھر اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی جدائی صرف ایک فرد کی جدائی نہیں ہوتی بلکہ ایک پورے عہد، ایک پوری روایت اور بے شمار یادوں کے بچھڑ جانے کا احساس بن جاتی ہے۔ وقت بہت سے زخموں پر مرہم رکھ دیتا ہے، لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں نہ وقت مٹا سکتا ہے اور نہ یادیں بھلا سکتی ہیں۔
مرحوم و مغفور ماسٹر جاوید صاحب بھی انہی نایاب شخصیات میں سے ایک تھے، جن کا نام آج بھی احترام، محبت اور عقیدت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
وہ نہایت شفیق و مہربان، سادہ مزاج، خوش اخلاق، متحمل، خوش گفتار اور سراپا اخلاص شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی زندگی کا ہر پہلو سادگی، محبت اور خدمت سے عبارت تھا۔ دبلی پتلی صحت، ہاتھ میں باریک سی چھڑی، کرسی پر دونوں پاؤں سمیٹ کر بیٹھنے کا انداز، اور بچوں کو محبت بھرے لہجے میں کہنا: زور زور سے پڑھو! آج بھی ان کے شاگردوں کی یادوں میں ویسے ہی محفوظ ہے جیسے کل کی بات ہو۔
ماسٹر جاوید صاحب کا اندازِ تدریس بھی منفرد تھا۔ گورنمنٹ ہائی سکول بڑاپنڈ میں جب کوئی ننھا بچہ پہلی مرتبہ سکول آتا، گھر کے مانوس ماحول سے نکل کر اجنبی فضا میں قدم رکھتا، تو اکثر اسے ماسٹر جاوید صاحب کے سپرد کیا جاتا۔ وہ بچے کا نام بڑی محبت سے درج کرتے اور اپنی جیب سے ایک دو ٹافیاں نکال کر اس کے ہاتھ میں رکھ دیتے۔ شاید یہی وہ چھوٹا سا لمحہ ہوتا تھا جو ایک ڈرتے ہوئے بچے کے دل میں سکول کے لیے اپنائیت پیدا کر دیتا، اور یہی محبت زندگی بھر اس کے دل میں اپنے استاد کی جگہ بنا دیتی۔
کہتے ہیں کہ کسی بھی مضبوط عمارت کی اصل طاقت اس کی خوبصورت دیواریں نہیں بلکہ اس کی مضبوط بنیاد ہوتی ہے۔ بنیاد جتنی مستحکم ہو، اس پر اتنی ہی بلند منزلیں تعمیر کی جا سکتی ہیں۔ ماسٹر جاوید صاحب بھی ہزاروں بچوں کی زندگیوں کی وہ مضبوط بنیاد بنانے والوں میں سے تھے۔ انہوں نے صرف الفاظ پڑھانا نہیں سکھایا بلکہ کردار، اعتماد اور علم کی پہلی اینٹ رکھی۔ بعد میں انہی بنیادوں پر ڈاکٹر، انجینئر، اساتذہ، سرکاری افسران، فوجی جوان، کاروباری افراد اور زندگی کے مختلف شعبوں میں کامیاب ہونے والے بے شمار لوگ اپنی اپنی منزلوں تک پہنچے۔
ہمارا ان کے ساتھ ا، ب، پ، ت سے شروع ہونے والا سفر آج بھی دل میں زندہ ہے۔ ایک دونی، دونی، دو دونی چار... کی صدائیں، تختی پر قلم کی آواز اور استاد کی شفقت بھری نگرانی یہ سب یادیں وقت کے ساتھ پرانی ضرور ہو گئیں، مگر کبھی مدھم نہیں پڑیں۔
وہ دور بھی کیا خوبصورت تھا! کچی جماعت کی تختی، قلم، دوات، قاعدہ، کپڑے کا سلا ہوا بستہ، اور نہایت محدود وسائل کے باوجود علم کی وہ برکت، آج بھی ایک حسین یاد بن کر دل میں بسی ہوئی ہے۔ آج کے جدید دور میں شاید نئی نسل کے لیے یہ تصور کرنا بھی مشکل ہو کہ اتنی سادگی میں بھی بہترین تعلیم اور اعلیٰ تربیت دی جا سکتی تھی۔
ماسٹر جاوید صاحب نہایت شفیق طبیعت کے مالک تھے۔ اگر کبھی بچوں کی اصلاح کے لیے سختی بھی کرتے تو اس کے پیچھے صرف ایک مخلص استاد کا جذبہ ہوتا۔ اس وقت کے معاشرتی اور تعلیمی ماحول میں استاد کی معمولی سختی کو تربیت کا حصہ سمجھا جاتا تھا، اور شاگرد بھی جانتے تھے کہ یہ سختی ان کے بہتر مستقبل کے لیے ہے۔
وہ صرف ایک بہترین استاد ہی نہیں بلکہ ایک کامیاب، محنتی اور باصلاحیت کسان بھی تھے۔ سکول کی ذمہ داریاں پوری کرنے کے بعد کھیتوں میں جا کر محنت کرنا ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ تھا۔ فصلوں کی دیکھ بھال، بہتر پیداوار کے طریقے، کھیتی باڑی کے تجربات اور زرعی معاملات پر دوسرے کسانوں سے مشورہ کرنا اور انہیں مشورہ دینا ان کی عادت تھی۔ انہوں نے علم اور محنت دونوں کو اپنی زندگی کا شعار بنایا اور ثابت کیا کہ قلم اور ہل، دونوں قوم کی تعمیر میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔
انہوں نے اپنے عہدے سے کہیں بڑھ کر گورنمنٹ ہائی سکول بڑاپنڈ، اپنے شاگردوں اور پورے گاؤں کی خدمت کی۔ آج بھی ان کے پڑھائے ہوئے بے شمار شاگرد مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خدمات انجام دے رہے ہیں، اور یہی ایک استاد کے لیے سب سے بڑا اعزاز اور صدقۂ جاریہ ہے۔
ایسی شخصیات وقت گزرنے کے باوجود دلوں میں زندہ رہتی ہیں، کیونکہ وہ صرف سبق نہیں پڑھاتیں بلکہ نسلیں تیار کرتی ہیں، کردار بناتی ہیں اور معاشرے کی بنیاد مضبوط کرتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ مرحوم و مغفور ماسٹر جاوید صاحب کی کامل بخشش و مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، جنت الفردوس میں اعلیٰ و ارفع مقام عطا فرمائے، اور ان کی علمی، اخلاقی اور معاشرتی خدمات کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ 🤲
#بڑاپنڈ #جرپال #بڑاپنڈپرگوال #بڑاپنڈجرپال #بڑاپنڈکااثاثہ #بڑاپنڈکےبزرگ #یادرفتگاں #یادماضی #موت #پچھلادور