Bara Pind

Bara Pind "Discover Bara Pind,Zafarwal
A village steeped in history & rich culture! 🌟Birthplace of legendary poet Shiv Kumar Batalvi.
(4)

Nestled on the banks of Nala Basentar in Narowal,Punjab. Nature's beauty & talented souls define this charming village.

💝 گزشتہ سے پیوستہ 💖مرحوم و مغفور ماسٹر جاوید صاحبیادِ رفتگاں 🥺یقیناً موت ایک اٹل حقیقت ہے۔ لوگ آتے ہیں، اپنا کردار ادا ک...
25/07/2026

💝 گزشتہ سے پیوستہ 💖

مرحوم و مغفور ماسٹر جاوید صاحب

یادِ رفتگاں 🥺

یقیناً موت ایک اٹل حقیقت ہے۔ لوگ آتے ہیں، اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور پھر اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی جدائی صرف ایک فرد کی جدائی نہیں ہوتی بلکہ ایک پورے عہد، ایک پوری روایت اور بے شمار یادوں کے بچھڑ جانے کا احساس بن جاتی ہے۔ وقت بہت سے زخموں پر مرہم رکھ دیتا ہے، لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں نہ وقت مٹا سکتا ہے اور نہ یادیں بھلا سکتی ہیں۔
مرحوم و مغفور ماسٹر جاوید صاحب بھی انہی نایاب شخصیات میں سے ایک تھے، جن کا نام آج بھی احترام، محبت اور عقیدت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
وہ نہایت شفیق و مہربان، سادہ مزاج، خوش اخلاق، متحمل، خوش گفتار اور سراپا اخلاص شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی زندگی کا ہر پہلو سادگی، محبت اور خدمت سے عبارت تھا۔ دبلی پتلی صحت، ہاتھ میں باریک سی چھڑی، کرسی پر دونوں پاؤں سمیٹ کر بیٹھنے کا انداز، اور بچوں کو محبت بھرے لہجے میں کہنا: زور زور سے پڑھو! آج بھی ان کے شاگردوں کی یادوں میں ویسے ہی محفوظ ہے جیسے کل کی بات ہو۔
ماسٹر جاوید صاحب کا اندازِ تدریس بھی منفرد تھا۔ گورنمنٹ ہائی سکول بڑاپنڈ میں جب کوئی ننھا بچہ پہلی مرتبہ سکول آتا، گھر کے مانوس ماحول سے نکل کر اجنبی فضا میں قدم رکھتا، تو اکثر اسے ماسٹر جاوید صاحب کے سپرد کیا جاتا۔ وہ بچے کا نام بڑی محبت سے درج کرتے اور اپنی جیب سے ایک دو ٹافیاں نکال کر اس کے ہاتھ میں رکھ دیتے۔ شاید یہی وہ چھوٹا سا لمحہ ہوتا تھا جو ایک ڈرتے ہوئے بچے کے دل میں سکول کے لیے اپنائیت پیدا کر دیتا، اور یہی محبت زندگی بھر اس کے دل میں اپنے استاد کی جگہ بنا دیتی۔
کہتے ہیں کہ کسی بھی مضبوط عمارت کی اصل طاقت اس کی خوبصورت دیواریں نہیں بلکہ اس کی مضبوط بنیاد ہوتی ہے۔ بنیاد جتنی مستحکم ہو، اس پر اتنی ہی بلند منزلیں تعمیر کی جا سکتی ہیں۔ ماسٹر جاوید صاحب بھی ہزاروں بچوں کی زندگیوں کی وہ مضبوط بنیاد بنانے والوں میں سے تھے۔ انہوں نے صرف الفاظ پڑھانا نہیں سکھایا بلکہ کردار، اعتماد اور علم کی پہلی اینٹ رکھی۔ بعد میں انہی بنیادوں پر ڈاکٹر، انجینئر، اساتذہ، سرکاری افسران، فوجی جوان، کاروباری افراد اور زندگی کے مختلف شعبوں میں کامیاب ہونے والے بے شمار لوگ اپنی اپنی منزلوں تک پہنچے۔
ہمارا ان کے ساتھ ا، ب، پ، ت سے شروع ہونے والا سفر آج بھی دل میں زندہ ہے۔ ایک دونی، دونی، دو دونی چار... کی صدائیں، تختی پر قلم کی آواز اور استاد کی شفقت بھری نگرانی یہ سب یادیں وقت کے ساتھ پرانی ضرور ہو گئیں، مگر کبھی مدھم نہیں پڑیں۔
وہ دور بھی کیا خوبصورت تھا! کچی جماعت کی تختی، قلم، دوات، قاعدہ، کپڑے کا سلا ہوا بستہ، اور نہایت محدود وسائل کے باوجود علم کی وہ برکت، آج بھی ایک حسین یاد بن کر دل میں بسی ہوئی ہے۔ آج کے جدید دور میں شاید نئی نسل کے لیے یہ تصور کرنا بھی مشکل ہو کہ اتنی سادگی میں بھی بہترین تعلیم اور اعلیٰ تربیت دی جا سکتی تھی۔
ماسٹر جاوید صاحب نہایت شفیق طبیعت کے مالک تھے۔ اگر کبھی بچوں کی اصلاح کے لیے سختی بھی کرتے تو اس کے پیچھے صرف ایک مخلص استاد کا جذبہ ہوتا۔ اس وقت کے معاشرتی اور تعلیمی ماحول میں استاد کی معمولی سختی کو تربیت کا حصہ سمجھا جاتا تھا، اور شاگرد بھی جانتے تھے کہ یہ سختی ان کے بہتر مستقبل کے لیے ہے۔
وہ صرف ایک بہترین استاد ہی نہیں بلکہ ایک کامیاب، محنتی اور باصلاحیت کسان بھی تھے۔ سکول کی ذمہ داریاں پوری کرنے کے بعد کھیتوں میں جا کر محنت کرنا ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ تھا۔ فصلوں کی دیکھ بھال، بہتر پیداوار کے طریقے، کھیتی باڑی کے تجربات اور زرعی معاملات پر دوسرے کسانوں سے مشورہ کرنا اور انہیں مشورہ دینا ان کی عادت تھی۔ انہوں نے علم اور محنت دونوں کو اپنی زندگی کا شعار بنایا اور ثابت کیا کہ قلم اور ہل، دونوں قوم کی تعمیر میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔
انہوں نے اپنے عہدے سے کہیں بڑھ کر گورنمنٹ ہائی سکول بڑاپنڈ، اپنے شاگردوں اور پورے گاؤں کی خدمت کی۔ آج بھی ان کے پڑھائے ہوئے بے شمار شاگرد مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خدمات انجام دے رہے ہیں، اور یہی ایک استاد کے لیے سب سے بڑا اعزاز اور صدقۂ جاریہ ہے۔
ایسی شخصیات وقت گزرنے کے باوجود دلوں میں زندہ رہتی ہیں، کیونکہ وہ صرف سبق نہیں پڑھاتیں بلکہ نسلیں تیار کرتی ہیں، کردار بناتی ہیں اور معاشرے کی بنیاد مضبوط کرتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ مرحوم و مغفور ماسٹر جاوید صاحب کی کامل بخشش و مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، جنت الفردوس میں اعلیٰ و ارفع مقام عطا فرمائے، اور ان کی علمی، اخلاقی اور معاشرتی خدمات کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ 🤲

#بڑاپنڈ #جرپال #بڑاپنڈپرگوال #بڑاپنڈجرپال #بڑاپنڈکااثاثہ #بڑاپنڈکےبزرگ #یادرفتگاں #یادماضی #موت #پچھلادور

21/07/2026

🌧️ نالہ باسنتر — بارش کے بعد کا حسین منظر
When the rain stops, nature speaks 🌿
تفصیل:
بارش کے بعد نالہ باسنتر کا نظارہ ہر بار ایک نیا رنگ لے کر آتا ہے۔ پانی کی روانی، مٹی کی خوشبو، اور اردگرد کی ہریالی مل کر ایک ایسا سکون بخش منظر بناتے ہیں جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ یہ ہمارے علاقے ظفروال کی وہ چھپی ہوئی خوبصورتی ہے جو ہر موسمِ برسات میں دوبارہ جی اٹھتی ہے۔
Hashtags:

20/07/2026

Contact number 📍

فری طبعی کیمپ بڑاپنڈ جرپالآج بروز ہفتہ 9:00 بجے سے شام 4:30 بجے تکبمقام: مولوی سلامت گودام، نزد گورنمنٹ ہائی سکول بڑاپنڈ
18/07/2026

فری طبعی کیمپ بڑاپنڈ جرپال
آج بروز ہفتہ 9:00 بجے سے شام 4:30 بجے تک
بمقام: مولوی سلامت گودام، نزد گورنمنٹ ہائی سکول بڑاپنڈ

17/07/2026

دلوں کو سکون اور روح کو تازگی بخشتا جمعہ کا یہ خوبصورت منظر۔ اللہ پاک ہم سب کی دعائیں اور عبادات قبول فرمائے۔ آمین۔ 🌸🕌

#بڑاپنڈ

16/07/2026
🌹 بڑاپنڈ کی پہچان🌹محترم بزرگ شیخ بشارت صاحبہر گاؤں کی کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو وقت گزر جانے کے بعد بھی یادوں میں زندہ...
16/07/2026

🌹 بڑاپنڈ کی پہچان🌹

محترم بزرگ شیخ بشارت صاحب

ہر گاؤں کی کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو وقت گزر جانے کے بعد بھی یادوں میں زندہ رہتی ہیں۔ گاؤں اور گاؤں کے ہزاروں طلبہ کے لیے ایسی ہی ایک آواز گورنمنٹ ہائی سکول کی گھنٹی ہے، اور اس گھنٹی کے ساتھ جڑا ہوا ایک نام محترم بزرگ شیخ بشارت صاحب۔
وہ شخصیت جنہوں نے برسوں گورنمنٹ ہائی سکول بڑاپنڈ میں معاونِ انتظامیہ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں نہایت دیانت، خلوص اور فرض شناسی کے ساتھ انجام دیں۔ ان کی ملازمت محض ایک سرکاری ذمہ داری نہیں تھی بلکہ ایک ایسی خاموش خدمت تھی جسے انہوں نے عبادت کا درجہ دے رکھا تھا۔
شیخ بشارت صاحب نہایت سادہ مزاج، خوش اخلاق، ملنسار اور محبت بانٹنے والی شخصیت کے مالک ہیں۔ ان سے ملنے والا ہر شخص ان کے خندہ پیشانی، نرم گفتاری اور بے مثال اخلاق سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا، بڑے ہوں یا چھوٹے، امیر ہوں یا غریب، وہ ہر ایک سے اس احترام اور محبت سے پیش آتے جیسے سامنے والا ان سے عمر اور مرتبے میں بڑا ہو۔ عاجزی ان کی طبیعت کا حسن ہے اور محبت ان کی گفتگو کا انداز۔
اگرچہ طبیعت میں بے حد نرمی تھی، لیکن جب بات سکول کے نظم و ضبط کی آتی تو ان کی شخصیت کا ایک اور ہی رنگ سامنے آتا۔ ان کی گرج دار اور رعب دار آواز سکول کے ماحول میں نظم، ترتیب اور ذمہ داری کا احساس پیدا کر دیتی تھی۔ مگر اس مضبوط لہجے کے پیچھے ایک ایسا دل دھڑکتا ہے جو اپنے طلبہ کے لیے بے پناہ شفقت اور محبت سے لبریز تھا۔
وقت کی پابندی ان کی زندگی کا اصول ہے اپنی پوری ملازمت کے دوران نہ کبھی فرائض میں غفلت برتی، نہ وقت کی پابندی میں کوتاہی کی اور نہ ہی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کی۔ وہ ہر کام کو پوری دیانت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ انجام دیتے، اسی لیے اساتذہ، طلبہ اور اہلِ علاقہ سبھی ان کا بے حد احترام کرتے تھے۔
شیخ بشارت صاحب کی شخصیت کی سب سے منفرد پہچان سکول کی گھنٹی تھی۔
صبح سکول کے آغاز کی گھنٹی، ہر پیریڈ کی گھنٹی، تفریح کی گھنٹی اور پھر چھٹی کی گھنٹی... یہ سب ان کے معمولات کا حصہ تھیں، مگر جس انداز سے وہ گھنٹی بجاتے تھے، وہ صرف ایک معمول نہیں بلکہ سکول کی شناخت بن چکا تھا۔
صبح جب وہ سکول لگنے کی گھنٹی بجاتے تو اس کی آواز آس پاس کے دیہات تک سنائی دیتی تھی۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ برسوں کی ملازمت میں کبھی ایک لمحے کی بھی تاخیر نہ ہوئی۔ چاہے پہلی گھنٹی ہو، پیریڈ کی تبدیلی کا وقت ہو، تفریح کا وقفہ ہو یا چھٹی کا اعلان، ہر گھنٹی اپنے مقررہ وقت پر بجتی، گویا وقت بھی ان کی پابندی کا احترام کرتا تھا۔
ہمارے بچپن کی یادوں میں اگر کوئی آواز ہمیشہ کے لیے محفوظ ہے تو وہ یہی گھنٹی ہے۔ خاص طور پر جب چھٹی کی گھنٹی بجتی تو بچوں کے چہروں پر خوشی کی ایسی لہر دوڑ جاتی جسے شاید الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ وہ صرف چھٹی کا اعلان نہیں ہوتا تھا بلکہ معصوم بچپن کی خوشیوں، قہقہوں اور حسین یادوں کا آغاز ہوتا تھا۔
صبح کی اذان کے بعد اگر کوئی آواز ہمارے بچپن کا حصہ بنی، جس نے ہمیں روزانہ علم کے سفر پر روانہ کیا، تو وہ گورنمنٹ ہائی سکول بڑاپنڈ کی گھنٹی ہے۔ اور جس محبت، مہارت اور ذمہ داری کے ساتھ شیخ بشارت صاحب نے اسے برسوں بجایا، وہ انداز نہ ان سے پہلے کسی کا تھا اور نہ ان کے بعد کسی کا ہو سکا۔
شیخ بشارت صاحب ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ انسان کی عظمت اس کے عہدے سے نہیں بلکہ اس کی نیت، کردار، دیانت، وقت کی پابندی اور خدمت کے جذبے سے پہچانی جاتی ہے۔ بعض لوگ خاموشی سے اپنی پوری زندگی دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں اور یہی خاموش کردار وقت گزرنے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔
محترم شیخ بشارت صاحب یقیناً بڑاپنڈ کی پہچان ہیں۔ ان کی سادگی، محبت، فرض شناسی، وقت کی پابندی اور سکول سے بے لوث وابستگی ہمیشہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک خوبصورت مثال رہے گی۔

اللہ تعالیٰ ہمارے بزرگ شیخ بشارت صاحب کو صحت، عافیت، ایمان والی لمبی عمر، عزت و وقار اور دونوں جہانوں کی بھلائیاں عطا فرمائے، اور ان کی زندگی کو نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ بنائے۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین۔🤲

#بڑاپنڈ

Barsaat ke baad ki khamoshi, jab zameen bhi saans leti hai 🌿💧(The quiet after the rain, when even the earth breathes)   ...
15/07/2026

Barsaat ke baad ki khamoshi, jab zameen bhi saans leti hai 🌿💧
(The quiet after the rain, when even the earth breathes)

Address

Bara Pind
Zafarwala
51670

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bara Pind posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Bara Pind:

Share