Uzma Mujahid Official

Uzma Mujahid Official Public Figure

18/03/2024
18/02/2024

ہماری 2023/2022 کی تمام ای۔بکس ڈسکاؤنٹ پر ایولیبل ہیں۔۔
زردادقلبم شوی 400/Rs
دہلیزدل کادیا 300/Rs
دلباران عشقاء250/Rs
من درفقیرجاناں 300/Rs
نزول عشق 250/Rs
رقیب عشقم+لمس قربونت عشقم400/

16/02/2024

اس دن خوب بھر بھر کے مینہ برسا تھا۔زرداد کی فلائیٹ کینسل ہونے پر اسے واپس گھر آنا پڑا تو پہلی نظر ہی ٹیرس پر جھومتی علیزے پر پڑی تھی۔فلائیٹ ڈیلے اور اپنےکام کو لے کروہ انتہائی تفکر میں گھرا ہونےکے باوجود بھی علیزے کو دیکھ کر وہ ایک سکون کے احساس میں مبتلا ہوا تھا اور بنا چینج کیئے ٹیرس کی طرف قدم بڑھائے۔ہروہ منظر جو دور سے دھندلا تھا پاس آنے پر شفاف تھا جبکہ زرداد بےطرح ٹھٹھکا تھا۔دوبٹے کی ڈھال سے آزاد ،کڑاہی دار سفید کاٹن کے سوٹ میں ملبوس لڑکی ،شاید اپنے وجود کی اٹھانوں سے بےخبر تھی جبھی اپنی مستی میں گم مور کی طرح پنکھ پھیلائے ،کھلی فضا میں بازو وا کیئے ہوئے تھے۔زرداد اپنے قدم اسکی طرف اٹھنے سے روک نہیں پایا تھا۔
ایسے ضروری ہو مجھکو تم
جیسے ہوائیں سانسوں کو
ایسے تلاشوں میں تمکو
جیسےکہ پیرزمینوں کو
ہنسنا یا رونا ہو مجھے
پاگل سا ڈھونڈو میں تمہیں
کل مجھ سے محبت ہونا ہو
کل مجھکو اجازت ہونا ہو
ٹوٹےدل کےٹکڑے لےکر
تیرےدرپرہی رہ جاؤنگا۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکے سامنے رکتے زردادحیدر کے دل نے کچھ لمحوں میں کتنی صدائیں بن لی تھیں ،سامنے ٹہری لڑکی پوری طرح سے انجان تھی جب اپنے سامنےساکت ہوتے وجود کو دیکھتے وہ رکی تھی۔
"حیدر ،اوہ گاڈ سچ میں ،اللہ تعالی کتنے اچھے ہیں نا اگر اسوقت ہم ان سے کچھ اور مانگ لیتے تو شاید وہ بھی ہمیں دے دیتے۔۔۔ہنم۔۔۔پر ہم ان سے آپکے سوا کیا مانگتے ؟ہاں شاید اپنا میتھ اچھا ہونے کی دعا۔۔۔۔"علیزے اسے دیکھتے بہت ایکسائیٹڈہوئی تھی۔زردادکےشانوں پر اسکا ہاتھ جانہیں سکتا تھا جبھی اسکی کمر کے اردگرد ہاتھ ڈالےاسکے سینے پر سر ٹکائے چہک رہی تھی جبکہ وہ جتنا زاہد وحامد ہوتا،صنف مخالف کے وجودکی نرماہٹیں اسکے اندر ایک یک برق سی بھرنے لگی تھیں وہ چاہ کر بھی علیزے کو جھٹک نہیں پارہا تھا۔اتنی بارش میں اسے اپنا وجود پسینے میں بھیگتا محسوس ہورہا تھا۔
"آپ۔۔نے۔۔۔آپ نے ہمیں کیوں مانگا علیزے۔ہم تو پہلے ہی آپکے ہیں؟"زردادنےٹائی کی ناٹ ڈھیلی کی جو بھیگنے کی وجہ سےکچھ چبھن کا احساس دے رہی تھی جبکہ اسکی وائٹ شرٹ پوری طرح بھیگ چکی تھی۔
"او۔۔۔نہیں تو ،ہم چاہتے ہیں آپ ہمیشہ ہمارے دل میں رہیں۔۔۔۔زردادقلبم شوی ،رادرقلبم شوی(میرے دل کا گہنا بن کے، میرے دل کا دل بن کے)۔"
اس نے پرجوش آواز میں کہا تھا جبکہ زردادچونکا ،وہ بھی اسکی طرح مختلف زبانوں پر عبور چاہتی تھی ،جانے کیوں وہ لڑکی زردادحیدر کی پرچھائی بن کے رہنا چاہتی تھی۔زردادنے بارش میں بھیگے رخساروں کو سہلایا تو وہ جیسےاسکی آزمائش بننے لگی تھی۔
“حیدر آپکو پتا ہے ہمیں بارش بہت پسند ہے۔۔”وہ دونوں ہاتھ آسمان کی اوور کیئےچہرہ اوپر کیئے کن من ہوتی بارش کو پوری طرح خود میں محسوس کرتی بولی تو زرداد نےاثبات میں سرہلایا تھا۔بارش کی بوندوں کو مٹھی میں قید کرتی لڑکی اسوقت زردادحیدر کو اس شام کا سب سے حسین منظر لگی تھی۔وہ بغور اسکی روشن پیشانی ،ناک اور پھر لبوں سے ٹھوڑی تک کا سفر کرتے بارش کےقطروں کو دیکھنے لگا جو ابھی بھی اپنا رستہ بناتےاسکی گردن سےہوتے شرٹ کی اتھاہ گہرائیوں میں گم ہوگئے تھے۔حالنکہ اس مقام پرزردادحیدر کی تلاش ختم ہوجانی چاہیئےتھی پرسفید کاٹن کی شرٹ سےجھانکتے دلفریب منظر کےنشیب وفراز زردادحیدرکو بےساختہ گستاخی پر مجبور کرگئے تھے۔علیزے اپنے اور اسکےرشتے کی گھمبیرتا سےواقف نہیں تھی وہ تو ایک باحواس مرد تھا جس پر حق ملکیت کا احساس پوری طرح اجاگر ہوتے اسےسامنےکے دلفریب مناظرپر بار بار بھٹکنے پر مجبور کررہا تھا۔اس نے بنا محسوس کرائے علیزے پر جھکتے اسےنرم بازووں کا حصار دیا تو علیزے اسکی اتنی سی توجہ پاتےبےحد کہلہلائی تھی جبکہ اسکی نادانیاں زردادحیدرکی بےچینیوں کومزیدبڑھاوا دیتیں شوق رفاقت کےجذبات بھڑکارہی تھیں۔اس نے بوند بوند برستی بارش کے قطروں کو لبوں سے اسکی پیشانی سےچننا چاہا تووہ شرارتی سی علیزےکی ناک کارخ کرگئیں زردادحیدر کےلبوں نے کسی پیاسےمسافر کی مانند اسکی ناک کا سفر کیا تو بوندیں مزیدشرارت بامائل ہوتی لبوں سے گریبان کا سفرطےکرگئیں ۔وہ ان خطاوار بوندوں سےناراض ناراض سےعلیزےکی گردن پر سختی سےلب جماگیا تھا جبکہ وہ کسی بت مانند ٹہری زردادحیدرکا یہ ناآشنا لمس محسوس کررہی تھی جانےکیوں دھڑکنوں میں عجیب سا احساس اجاگر ہوا تھا وہ بےاختیار خود پر جھکے زردادحیدر کی گردن میں بازو حمائل کرگئی تو وہ چونکتے کسی خواب نگری سےواپس آتے علیزے کے الجھن زدہ چہرے کو دیکھنے اور پھر سختی سے لب بھینچے اسکا بازو اپنے گلے سے جھٹکا۔
اس سے پہلے کہ وہ کوئی گھمبیرخطا کرکے اسکےمعصوم ذہن میں کوئی ناگواری پیدا کرتا اسے پیچھے ہٹاتے تیز تیز قدموں سے وہاں نکل گیا تھا اور پھر ملازمہ کے ذریعے اسے پیغام بھیج کر بلوا لیا تھا۔رات گئے تک یہ بارش شدید طوفان کی شکل اختیار کرچکی تھی ،اتنی کہ جون میں بھی سرما کی شدت محسوس ہورہی تھی۔کھانا ان دونوں نے ایک ساتھ ہی کھایا تھا اور کھانا کھاتے ساتھ ہی وہ اپنا لیپ ٹاپ اٹھائے مصروف ہوگیا تھا جبکہ علیزےکے پاس کرنے کو کچھ خاص تھا نہیں جبھی وہ جلدی سونے چلی گئی تھی۔پر کچھ دیر ہی گزری تھی جب ،بادلوں کی گھں گرج اسے وحشت میں مبتلا کرنے لگی اور وہ لاؤنچ میں زرداد کے پاس لوٹ آئی تھی۔
"وہاٹ ہپینڈ علیزے،ہمیں لگا آپ سوگئی ہونگی؟"زرداد نےاسے دیکھ کر اپنا لیپ ٹاپ سیمٹتے ہوئے کہا تو وہ زرداد کےپاس آکر بیٹھی تھی۔
"حیدر۔۔۔وہ۔۔وہ ہم آپکے پاس سوجائیں۔۔ ہمیں بادلوں سے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔"زرداد کو اٹھتے دیکھ اس نے فورا اسکا ہاتھ تھاما جب وہ اجنبھے سے اسے دیکھنے لگا تھا۔
"بٹ کیوں؟آئی تھنک دن تک تو آپکی بادلوں سے اچھی خاصی دوستی تھی اینڈآپ انجوائے بھی کررہےتھے انکے ساتھ۔"زرداد نے جمائی روکنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئےعلیزے کو غیرسنجیدگی سے لیتے ہوئے کہا۔
"بٹ ابھی ،بہت زور کی آواز ہے ہمیں ،ڈر لگ رہا ہے۔"وہ بھی زرداد کے ساتھ کھڑی ہوئی تو وہ اسے ایک نظر دیکھتےبےبس ہوا تھا کتنی مشکل۔سے تو اس نے شام میں خود کو سنبھالا تھا اگر وہ اسکے پاس آکر رہے گی تو یقینا وہ خود کو مزید پیشمان سا خطاوار محسوس کرتا تبھی اسکے روم کی طرف بڑھ گیا۔چونکہ اسکا روم گھر کے ایج پر تھا جبھی ،باہر ہوتی گھن گرج باآسانی کھڑکی سے اسے دہلا رہی تھی۔
"سوجائیں علیزے ہم یہاں ہیں،کچھ نہیں کہہ رہے بادل آپکو۔۔۔"زردادپر اگرچے نینیدکی خماری تھی اسکےباوجود وہ اسے بہلانے کو اسکے روم میں موجود چئیر پر بیٹھا تھا جبکہ وہ فورا بیڈ کی طرف بڑھتے کمفرٹر میں مقید ہوئی زردادسیل پر مصروف تھا جب ایک بار پھر بادلوں نے اپنا جوبن دکھایا علیزے نے دونوں ہاتھ کان پر رکھے چیخ ماری تو زرداد کو ناچار اپنا شغل ترک کیئے اسکے پاس آنا پڑا تھا۔
"آپ علیزے کے ساتھ سوئیں گے؟"وہ حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی جو اسکے برابر لیٹا انتہائی دلچسپی سے اسکے حیران حیران، تاثرات دیکھ رہا تھا۔
"ہاں کوئی مسئلہ ہے کیا ہمارے ساتھ سونے پر آپکو؟آئی تھنک بادلوں سے نمٹنے کا اور کوئی حل نہیں ہےہمارے پاس۔۔۔"
حیدر نے اسکے تکیے پر بکھرے بال سیمیٹے تھےجب اسکا چہرہ حیدر کے لمس پر عجیب سے احساس سے دہک اٹھا تھا۔
"نہیں ہمیں مسئلہ تو کوئی نہیں ہےلیکن ہم ،آپ۔۔۔ہمارا مطلب ہے آپ یہاں سوجائیں ہم کاؤچ پر جاکر سوجائیں گے۔"علیزے نے اسکے پہلو سے اٹھنا چاہا تھا جب حیدر نے اپنے بازو کا ایک حصار سا اسکے سینے اور بیڈ کے درمیان بنایا تھا۔اسکے بازو کے حصار کو ناسمجھی سے دیکھتی علیزے نے کچھ بولنے کو پرتولے تھے جب حیدر نے اس کے اوپر جھکتے ہوئے اپنے اطلسی ہونٹوں سے اسکے بارفشیں ہونٹوں کو چھوا تھا۔وہ بھی بندہبشر تھا جب حسن کھل کےاسطرح پورے اسحقاق سے بکھرا تھا تو وہ کب تک نظریں چرائے رہ سکتا تھا۔اسی پل اس نے ایک عہد جڑا تھا ،کبھی بھی علیزے کو خود سے الگ نہ کرنے کا،وہ زردادحیدرکیلئےقلب شوی کی مانند رہنے والی تھی جسکی مسکراہٹ ،جسکے بھولےپن میں زردادحیدر کی سانس اٹکنےجارہی تھی۔
علیزے تحیرزدہ سی اسکی حرکت کو دیکھتی اسکی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔آج کل حیدر اسے اپنے ہونٹوں کے لمس سے جو آشنائی دےرہا تھا وہ علیزےکو پریشان کررہی تھی۔جانے کیوں وہ عجیب احساس میں گھر رہی تھی۔زردادحیدر نے اسکا حیران ہونا بخوبی دیکھا اور مسکراتے ہوئے اس کے اوپر سے ہٹتے اسکے برابر تکیے پر سرٹکاتے اسکا سر اپنے بازو پر رکھا تھا۔
"جب زردادحیدر آپکے آس پاس ہوں لیزے تو؟ آپکو ان سے دور جانے کے بہانے ڈھونڈنا الاؤ نہیں ہے۔ہم یہاں ہیں صرف آپکیلئے اور آپ بیڈ چھوڑ کر صوفے پر جانے کا سوچ رہی ہیں جو کہ ہمیں بلکل پسند نہیں آیا ہےبس یہ عمل اسکی سزا سمجھ لیں آپ جب جب ہم سے دور جانے کی بات کریں گی ہم ایسےہی آپکوسزا دیا کریں گے۔"
حیدر کی آواز میں ناراضگی نمایاں تھی۔علیزے کی جان پر بنی وہ زرا سا اوپر کو اٹھتے اسکا چہرہ دیکھنے لگی تھی جو بلکل سپاٹ تھا۔یقینا وہ علیزے سے تضاد بھرا کوئی مذاق نہیں کرتا تھا۔
"ہم نے اسیلئے بولا تھا تاکہ آپ یہاں کھلے ہوکر سوسکیں ۔لیزے کا بیڈ تو چھوٹا ہے نا اور آپ اس پر نہیں سوسکیں گے حیدر۔۔۔"وہ اسکا ہاتھ اپنے
مخروطی ہاتھوں میں لیئے بےچین سی بولی تھی۔
"اوہوں گنجائش دلوں میں ہونا چاہیئے علیزےحیدربیڈ کا کیا ہے ہم دونوں اتنی آسانی سے اس پر ایڈجسٹ ہوسکتے ہیں۔۔بلکہ آپ چاہیں تو اپنے سونے کیلئے اس بندے کا وسیع سینہ بھی استعمال کرسکتی ہیں یقین مانیں یہ ہمارے لیئے بےحد مسرت کا باعث ہوگا۔"
حیدر نے اسکا ہاتھ اپنے چہرے پر مسلا تھا۔علیزے اسکی داڑھی کی چبھن پر زرا سا مسکائی تھی جبکہ زردادحیدراسکی مسکان کی خوبصورتی میں کھوساگیا تھا۔
"سوری ہمارا ایسا کوئی مطلب نہیں تھا اور ہمیں اچھا لگے گا ،آپ ادھر ہونگے ہم ڈریں گے بھی نہیں۔۔۔"
علیزے نے زرداد کی حرکت دہراتے اسکےہونٹوں کو چھوا اور پھر اپنے رخسار اسکے رخساروں سے مس کیئے،اسکےپیار کا انداز لوٹایا تھا۔علیزے انجانے میں اس شخص کے اندر نئی آگ جلارہی تھی۔
"مت اتنی پیاری لگا کریں علیزے کہ حیدر کی جان نکلنے لگے۔۔۔"
حیدر نے اسے ایک دم خود میں بھینچتے ہوئے گھمبیر آواز میں اسکے کانوں کے پاس سرگوشی کی تو وہ اسکی شدتوں پر گھبرائی تھی۔زردادخود بھی نہیں جانتا وہ اس عمرکی قید سے خود کو آزاد کیوں محسوس کررہا تھا؟اس نے شاید ہی علیزے کے ساتھ عمربھر کے خواب سجائے ہوں بلکہ جوں جوں علیزے ،بالپکن کی حدیں کراس کرتی جوانی کی دہلیز پر قدم دھررہی تھی اسکے اندر ایک عجیب پکڑ دھکڑ ہونے لگی تھی۔جب وہ اپنے اور زرداد کےرشتے کی سمجھ بوجھ میں آئے گی تو کیا تب بھی وہ ایسے بچکانہ حرکت کرسکے گی؟اور سب سے بڑھ کر کیا وہ زرداد کو اپنا ہمسفر بناپائےگی جبکہ ،وقت بڑھتے زردادحیدر کی عمرڈھلنےوالی ہوگی۔۔۔ایک دم کئی جان لیوا سوچیں اس پر حملہ آور ہوئیں تو اسکے اندر سناٹے بھرنے لگے تھے۔علیزے کو ایک رشتے کی آگاہی نہیں بلکہ اپنے ،ماں باپ کی موت کی وجہ بھی پتا چلی تو شاید وہ ہمیشہ کیلئے زردادحیدر سے دور ہوجائےاور تب وہ اسکی جدائی ہرگز برداشت نہیں کرسکے گا۔عجیب منجدھار میں پھنسی زندگی بنتی جارہی تھی جو دل و دماغ کی تاویلیوں میں قید ہوگئی تھی مستقبل کےاندیشے مکمل خوشی نہیں دے پارہے تھے۔زردادنے بےچینی میں گھرتے علیزے سے فاصلہ بنایا تھا۔
"آپ نے کہاتھا آپ علیزے کو میتھ کے ایگزام میں ہیلپ کریں گے کل ہمارا ایگزام ہے اور ہم شاید اس بار بھی فیل ہوجائیں۔" زرداحیدرنے چونک کراسے دیکھا تھا آیا یہ اسکےشدت سے پرلمس پر طرز تغافل تھا یا وہ واقعی ایگزام کو لےکر ٹینس تھی۔پر اسکے تاثرات دیکھ کر کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔
"ہم بھی تو اپنے ایگزام میں فیل ہورہے ہیں علیزے حیدر ،فیل ہونا اتنی بھی بری بات نہیں ہوتی ہے۔"زردادحیدرکھوئےکھوئےاندازمیں جانے اسے کون کون سے مفہوم سمجھانا چاہتا تھا جو ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی تھی۔
"پرمام ،ڈیڈ تو کہتے تھے آپ بہت جینئس ہو پھر آپ کیسے فیل ہوسکتے ہیں؟"علیزے الجھی تھی زردادحیدر اسکی معصومیت کی گتھیاں سلجھانےلگا تھا۔
"اگر آپ چاہتی ہیں نا ہم اور آپ ہمارے ایگزام میں فیل نہ ہوں تو آپکو حیدر کی کچھ باتیں ماننی ہوں گی ۔"
زردادحیدرجانتا بھی تھا کہ وہ اس لڑکی کی عمر سے بڑے حساب چاہتا تھا پر وہ دل کا کیا کرتا جو لمحہ بہ لمحہ اسکی طرف مائل ہورہا تھا۔کہیں رومی کی باتیں سچ تو نہیں تھیں؟وہ کم سن کلی پر ایمان کھورہا تھاپر وہ اسکے نکاح میں تھی یہ الفت فطری تھی جو وہ اسکا بیمار ہورہا تھا۔
"بتائیں نا حیدر ،آپ ہمیشہ اچھی باتیں بتاتے ہیں۔۔"
وہ پراشتیاق انداز میں زردادحیدر کے شانے پر سررکھے بولی تھی۔زردادکیلئے یہ تنہائی اور یہ وجودآزمائش بن رہا تھا جبھی وہ اٹھ بیٹھا۔
"علیزے اگر آپکو کامیاب ہونا ہے تو اپنے خوف پر قابو پانا ہوگا۔بالفرض اگر آج ہم یہاں نا ہوتے تو کیا کرتیں آپ؟کسکو اپنے پاس بلاتیں؟"
زرداد نے اس سچویشن پر بازپرس کی شاید وہ اپنا دھیان بٹانا چاہتا تھا۔
"تو ہم دایا جان کو بلالیتے۔۔۔"علیزے نے جھٹ سے جواب دیا جب وہ نفی میں سرہلا گیا۔
"نہیں علیزے ،دوسروں کےسہارے لینا چھوڑ دیں ،اپنی اون پر جینا سیکھیں۔۔۔"زردادکےلب وہ لہجے میں ایک زمانے کی تھکن آسمٹی تھی جبکہ وہ اسے ناسمجھی سے دیکھنے لگی۔باہر بارش شاید رک چکی تھی تبھی بادلوں کی گھن گرج میں کمی تھی۔
"رہ لیں گی نا آپ اکیلے؟"زردادکا اندازایسا ناقابل فہم تھا کہ وہ سرہلاگئی تھی اور کیا کرتی۔زرداد اسکے قریب سے اٹھ گیا تھا جبکہ علیزے اسے جاتے دیکھ رہی تھی جیسےکسی بچے کا من پسند کھلونا کوئی اور لےگیا ہو۔پر زردادنے کہا تھا اسے ڈرنا نہیں ہے اور وہ واقعی نہیں ڈری۔اس نے اکیلے سنںبھلنا سیکھ لیا تھا۔
#ناول

★★★★★★★★★★★★★★★

آبریش کو سوئے ابھی کچھ دیر گزری تھی جب وہ اسکے روم میں آیا تھا۔چونکہ سیکورٹی کے لحاظ سےنورمحل میں ہر طرح کی بیفکری تھی تبھی وہ بھی ان سب کی طرح دروازے بندکرکے نہیں سوتی تھی۔
اسفندیار نے نائٹ بلب کی روشنی میں اسکے دودھیائی چکمدار چہرے کو دیکھا تھا اور اس پر جھکتے گویا اپنے رشتے کا استحقاق جتاتا لمس چھوڑا تو وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی تھی۔
"تم یہاں کیا کررہے ہو؟"
وہ اسے سامنے دیکھ کر چٹخی تھی اس رات کے بعد سے انکا سامنا نہیں ہوا تھا۔
"اماں سائیں بتارہی تھیں کہ انکی بہو مجھے یاد کررہی تھی؟"
وہ آبریش کا ہاتھ تھامے اسکے برابر لیٹا تھا۔وہ اسکی حرکت پر سیخ پا ہوتی اٹھنے لگی تھی جب اسفندیار نے اپنا بازو اسکے سینہ پر رکھتے اسکے اٹھنے کی کوشش ناکام بنادی تھی۔
"اگر بناکسی فضول حرکت کے خاموشی سے لیٹی رہیں گی تو یقین مانیں آپکا اپنا فائدہ ہے۔"
اسفندیار نے اپنے مخصوص دھیمے انداز میں کہتے اسکے تنے تنے نقوش کا جائزہ لیا تھا۔
"ہاں فائدے نقصان کی بات تم نہیں کروگے اسفندیار تو اور کون کرے گا لیکن میں تمہیں یہ بتادوں کہ میں اساوری نہیں ہوں جو تمہاری عیاشی کا سامان کرے۔"
وہ اسکا ہاتھ اپنے سینے سے ہٹانے کی تگ ودو کرتے بولی تھی جبکہ اسکی بات اسفندیار جیسے کول مائینڈ بندے کو بھی چٹخ گئی تھی۔اب کے اس نے آبریش کے دونوں ہاتھ اپنی گرفت میں لیئے تھے۔
"آپ نے مجھے بہت مایوس کیا ہے آبریش لگتا ہی نہیں کہ آپ امریکہ جیسے کھلے ڈلے ماحول سے آئی ہیں ۔وہیں ٹیپکل بیویوں والے طعنے بہرحال میں اپنی اس دن کی حرکت پر معذرت کرنے آیا تھا لیکن یہاں آکر پتا چل رہا ہے کہ آپکا دماغ تو اچھا خاصہ خراب ہوچکا ہے جسے درست کرنے کیلئے مجھے رخصتی کا انتظار کرنا فضول لگ رہا ہے۔"
اسکی گھمبیر آواز نے کمرے کے ماحول کو پرسرار سا بنایا تھا۔
"یہ تمہاری شدید غلط فہمی ہے اسفندیار کہ میں تمہیں رخصتی کا موقع بھی دونگی۔"
اس نے استہرائیہ انداز میں کہتے اسفندیار کا مذاق ہی اڑایا تھا جب اسفندیار نے اس پر جھکتے ہوئے اپنے لب اسکے عریاں لباس سے جھانکتی کہکشاؤں پر رکھتے کچھ خاص لمحے مستعار لیئے تھے۔
"تو موقع چاہیئے کسے آبریش صاحبہ۔۔۔"
اسکا ذومعنی انداز اور حرکتیں آبریش کو ٹھنڈے پسینے سے تر کرگئی تھیں۔یہاں موجود اسفندیار کے اس انداز سے تو وہ ناواقف ہی تھی۔
"کک۔۔۔کیا کررہے ہوتم ،اگر تمہیں لگتا ہے میں اساوری کی طرح تمہاری زورزبردستی پر خاموش ہوجاؤنگی تو۔۔۔۔"
"شش۔۔۔چپ بلکل چپ آبریش ،جانتی ہیں اس لمحے میں آپکی سانس لینے آواز بھی مجھے بلکل اچھی نہیں لگ رہی ہے آیا کہ کسی رقیب کا ذکر۔۔۔"
اسفندیار نے مصنوعی بٹنوں سے اٹی اسکی شرٹ کو اسکے سینے سے رہا کیا تو حددرجہ بولڈ رہنے کے باوجود بھی آبریش اس حرکت پر خود میں سمٹ گئی تھی جبکہ اسفندیار شاید اس بات سے آگاہ ہی نہیں تھا کہ اسوقت وہ آبریش پر اپنے حق جتانے کی ہر حد سےگزر رہا تھا شاید۔
آبریش نے اپنے وجود کو حجاب کی آڑ میں لینے کی خاطر اسفندیار کی طرف پیٹھ کرلی تھی۔
عریاں کہکشاؤں کا منظر تو جیسے بادلوں کی اوٹ میں چھپ گیا تھا پر اسفندیار ان شادابی ہونٹوں کی لذت سے محرومی کا بھی شکار ہوا تھا۔
اسکے ہاتھ آبریش کی کمر کے بل خم میں الجھتے ناف کا پیالہ ناپنے لگے جس نے میں محبت کے كنكر پھینک پھینک کر اپنی پیاس بجھانے کو اپنے لب اسکی کمر پر رکھ دئیے تھے۔
اسقدر جان لیوا لمس ،آبریش کو لگ رہا تھا اگر وہ اسی طرح کچھ دیر مزید اسکے سامنے بےبس ہوئی تو اپنا آپ ہار دے گی۔اس سے پہلے کہ اسفندیار کے ہاتھوں کا پرحدت لمس اسکی پیٹھ سے ہوتے اسکے وجود کو اس بےحجاب لباس سے مکمل آزادی بخشتا وہ اسے جھٹکتے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
دل کی دھڑکنیں ادھم مچاتیں ،کسی انہونی کا اشارہ دے رہی تھیں۔
"پلیز اسفندیار تم جاؤ یہاں سے۔"
وہ اسکی جانب ہنوز پیٹھ کیے ٹہری تھی جب وہ بستر سے اٹھتے اسکے مقابل آیا تھا اور اسے پشت سے جکڑے دیوار کے ساتھ لگاتے اسکا رخ اپنی جانب کرلیا ۔
"کیوں؟ابھی سے ہار گئیں آپ جبکہ میں تو آپکو آپکے بھاری لفظوں کے مطلب بھی نہیں سمجھا پایا جو آپ میری ماں کے سامنے بول کر آئی ہیں۔"
اسفندیار کے لہجے نے اسے ڈگمگایا تھا۔وہ اسکی چاہ میں مغلوب ہوکر اسکے وجود پر اپنی راجھستانی قائم کرنے نہیں آیا تھا بلکہ وہ تو اسکے بولے لفظوں کو کسی تماچے کی مانند لوٹانے آیا تھا۔
"آپ نے ہی تو کہا تھا اس محل کے مردوں کو جہاں موقع میسر آئے وہ اسے اپنی عیاشی کا اڈہ بنالیتے ہیں تو آبریش شاہ مجھ پر یہ فرض کردیا گیا ہے کہ ان لفظوں کا قرض لٹاؤں ،میں آپکو بتاؤں کہ آپ کس قدر اپنی بات کی سچی ہیں۔"
دھیرے دھیرے اسفندیار کی آواز ہی نہیں بلکہ اسکی گرفت بھی سختی پکڑ رہی تھی جبکہ وہ گنگ سی ٹہری تھی۔
"مجھے لگا تھا جب کبھی میرے کردار کی گواہی کا موقع آیا تو آپ صف اول آکر مجھے باکردار ثابت کریں گی کیونکہ کئی بار کے ایسے مواقع تھے کہ اپنا پورا حق رکھنے کے باوجود میں نے آپکی طرف دیکھنا بھی گناہ سمجھا تو آپ نے یہ کیسے مان لیا کہ اسفندیارولی اسقدر گراوٹ کا شکار شخص ہوگا جو اپنے گھر کی بیٹی پر بری نگاہ ڈالے گا ؟"
اسفندیار کے دونوں ہاتھ اسکے کندھوں میں گڑ سے گئے تھے۔
آبریش کے دل ودماغ میں دھواں سا بھررہا تھا جب اس نے اپنے لبوں کی جنبش کے ساتھ ،اپنے جبڑوں کا کمال بھی آبریش کے نازک وجود پر چھوڑا تو وہ تڑپ اٹھی تھی۔
"مم۔۔مجھے غلط فہمی ہوئی تھی۔۔سس۔۔سوری اسفندیار۔۔۔"
اسوقت آبریش کو کچھ نظر نہیں آرہا تھا ماسوائے اسکے کہ وہ اپنی غلطی مان کر اس شخص سے جان خلاصی کرلیتی ۔
"ایسے کیسے میری جان ،اتنی آسانی سے معافی تھوڑی نہ ملے گی۔۔۔"
اسفندیار نے کہتے ساتھ ہی اسکے وجود کو لباس کی قید سے رہا کیا تو وہ چیخ اٹھی تھی جبکہ وہ اس پر جھکتے اسکے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کی ظالم قید میں لےگیا تھا۔۔۔۔


یہ انتہائی خوبصورت ای۔بکس آپ اوریجنل قیمت ❌/ڈسکاؤنٹ پرائس 600 پر حاصل کرسکتے ہیں۔۔۔مزید تفصیلات کیلئے انباکس کریں۔۔۔۔
♡♡。♡♡

"تم ابھی اتنی چھوٹی سی ہو تناوش یہ لوگ اتنی جلدی تمہارا نکاح کیوں کررہے ہیں اور رخصتی اوہ مائے گاڈ یہ کہیں پاگل تو نہیں ...
14/02/2024

"تم ابھی اتنی چھوٹی سی ہو تناوش یہ لوگ اتنی جلدی تمہارا نکاح کیوں کررہے ہیں اور رخصتی اوہ مائے گاڈ یہ کہیں پاگل تو نہیں ہوگئے جسٹ بکاز تم ابھی اٹین یئر کی نہیں ہو اپنا فیصلہ خود نہیں کرسکتی اسیلئے یہ تم پر اپنا فیصلہ امپوز کررہی ہیں اور تم انکے فیصلے پر سر جھکا رہی ہو؟"
آبریش کی اس گھر میں تناوش سے ہی کچھ بول چال تھی اسے کچھ زیادہ دکھ تھا۔
"یہاں کچھ پوچھا نہیں جاتا بس بتایا جاتا ہے بھابھی ،آپ بھی تو آزاد فضاؤں سے اس قفس میں چلی آئی ہیں کیوں؟ کیونکہ آپ اس گھر کی بیٹی ہیں اور اس گھر کی بٹیاں بڑوں کے فیصلے سے روگردانی کریں تو انہیں قبر کی زینت بنا دیا جاتا ہے۔"
آبریش اسکی بات سن کر سکتے میں آئی تھی جیسے۔
"تو تم نے ہتھیار ڈال دئیے ہیں تم اپنے لیئے 'اپنے حق کیلئے آواز نہیں اٹھاؤ گی؟"
تناوش نے نفی میں سرہلایا تو وہ اسے برا بھلا کہتے اپنے روم میں آئی تھی۔
پر دل کو کسی طرح سکون نہیں ملا تو اس نے مائی میراں کے ذریعے سے اسفندیار کو بلا بھیجا پر وہ رات کے اندھیروں میں ہی آیا تھا۔
"اسوقت بھی نہ آتے کیا ضرورت تھی آنے کی۔"
اسے دہلیز پر دیکھ کر وہ منہ کے کئی زاویے بناتے ہوئے بولی تھی۔
"یہاں غیرشادی شدہ بچیاں بھی رہتی ہیں آبریش رضا انکی موجودگی میں یوں منہ اٹھائے آپکے روم میں آنا کسی طرح مناسب نہیں ہے۔"
وہ ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے سنگل صوفے پر بیٹھتے بولا تھا۔
"غیر شادی شدہ ،ہنہہ تم لوگوں کو تو جیسے بڑا احساس ہے انکا جانتے بھی ہو گرینڈپا تناوش کی رضامندی کی بغیر اسکی شادی کررہے ہیں اور وہ بھی کسی اناؤن پرسن سے۔"
اسفندیار کو اس بات پر حیرانی ہوئی تھی کہ وہ اس گھر کے معمالوں سے اگاہ ہے پر ساتھ ہنسی بھی آئی تھی کہ وہ اسے اس قدر بےخبر سمجھتی تھی۔
"وہ اناؤن پرسن نہیں ہے بلکہ تناوش بچپن سے اسکے نکاح میں ہے اور یہ نکاح اسکے والد صاحب خود کرکے گئے تھے باؤجی تو محض ایک رسم نبھا رہے ہیں۔"
اس نے تفصیلی جواب دیا تو آبریش کو جھٹکا لگا تھا۔
"کیا مطلب اس بات کا؟ کیا آبریش تمہاری بہن نہیں ہے اور بچپن کا نکاح یو مین چائلڈ ہوڈ میرج وچ از ٹوٹلی کرائم ۔۔"اس نے بےیقینی سے اسے دیکھا تھا اسفند نے سرجھٹکتے اسکی ہاں میں ہاں ملائی تھی۔
"اگر آپکا تجسس ختم ہوگیا ہوتو میں جاسکتا ہوں کیونکہ میرا یہاں رکنا آپکو مشکل سے دوچار کرسکتا ہے۔" اسفندیار نے ایک بھرپور نگاہ اس پر ڈالی جو اسوقت نائٹ ڈریس میں تھی۔یہ بھی شکر تھا کہ ایسے ڈریس وہ اپنے کمرے تک استعمال کرتی تھی۔
"سنو!میرا سیل نیٹ ورک آن نہیں ہورہا کیا تم مجھے سم رپیلس کرکے دوگے مجھے اپنے دوستوں سے بات کرنی ہے۔"
وہ اس سے جو نوازشات چاہ رہی تھی جانتی نہیں تھی کہ کس قدر سنگین جرم تھا یہاں۔
"اوکے میں دن ٹائم اپناسیل بھیج دونگا آپ بات کرلیجئےگا۔"وہ اپنی بات کرکے جانے لگا تھا جب وہ اسکی راہ میں حائل ہوئی تھی۔
"پر مجھے اپنے سیل میں سم چاہیئے۔"
وہ بضد ہوئی تھی۔
"ایسا ممکن نہیں کیونکہ یہاں کی لڑکیاں موبائل استعمال نہیں کرتیں۔"اسفندیار کے ٹکے جواب نے اسے گرم توے پر لابٹھایا تھا۔
"رئیلی یہاں کی لڑکیوں کو سانس لینا کیسے الاؤ کردیا تم نے۔"اسفندیار نے اسکا لال گلال چہرہ دیکھا اور پھر نظرانداز کیا۔
"فضول سوالوں کے جواب نہیں ہیں میرے پاس اگر کوئی کام کی بات نہیں ہے تو میں جارہا ہوں۔"
وہ دروازہ عبور کرگیا جبکہ وہ دل مسوس کررہ گئی تھی۔
اگلے دن وہ سب کو اپنے اپنے کمروں میں گم دیکھ مائی میراں کے پاس آئی تھی تاکہ وہ اسے اسفندیار کے پاس لے جائے۔مائی میراں کی مہربانی تھی جو وہ بمشکل ایک لمبی سی چادر لپیٹے باہر آئی تھی۔
"بیبی جی چھوٹے سائیں جانوروں کے بھاڑے میں ہے سنبھل کر جائیے گا پر میرا نام نہ لیجئے گا مہربانی سرکار کی۔"
مائی میراں اسے وہاں چھوڑتے غائب ہوئی تھی۔
آبریش کو وہاں سے عجیب سی باس محسوس کرتے وومٹنگ ہونے لگی تو وہ چادر منہ پر ڈالے آگے بڑھ گئی سامنے ہی اسفندیار جانوروں کے بھوسے میں لتھڑا نظر آیا تو آبریش کا دل کٹ سا گیا تھا۔
اگر اسکے دوست اس حلیے میں اسفندیار کو دیکھ لیتے تو یقینا بری طرح آبریش کا ریکارڈ لگاتے کیونکہ اسے بھی اسفند یار کے حلیے سے کراہت آرہی تھی۔اسفندیار کی بےساختہ نگاہ اسطرف اٹھی تو سامنے ادھ کھلے چہرے والی لڑکی کو دیکھ کر اسے پہچاننے میں دیر نہیں لگی تھی کہ اسطرح یہاں آنے کی گستاخی کون کرسکتا تھا۔
"آپ یہاں کیوں آئی ہیں گھر جائیں رات میں بات ہوگی۔"
وہ تلملایا سا اسکے پاس پہنچا،لمبی پتلی ٹانگوں پر تنگ جینز اور شارٹس پہنے وہ اسکی غیرت کو للکار رہی تھی۔
"رات میں کیوں ؟مجھے ابھی تم سے بات کرنی ہے ابھی مجھے سم لے کردو۔"
وہ بھرہور ضدی انداز میں بولی تھی۔
"دیکھیں آبریش میرا دماغ مت خراب کریں کوئی بھی ملازم یہاں آگیا تو کیا سوچے گا وہ؟گھر جائیں ابھی کے ابھی۔"
وہ بنا اپنے گندے ہاتھوں کی پرواہ کیے اسکے بازو پر ہاتھ رکھتے اسے واپسی کے راستے پر دھکیل گیا تھا جب آبریش کا پاؤں رپٹا اور وہ زمین بوس ہوئی تھی اور اسکی چادر گیلی چکنی مٹی سے رنگی تھی۔
"اوہ گاڈ اٹس ٹو ڈرٹی۔۔۔"
اس نے فورا سے چادر اپنے وجود سے الگ کی تھی جبکہ اسفندیار یوں دن کی روشنی میں اسکے وجود کی عیاں رعنائیاں دیکھ کر دنگ رہ گیا تھا۔اسکا ہاتھ تھامے وہ ایک طرف کو بڑھا اور چھچے پر پڑی اپنی چادر اسکے وجود کے گرد لپیٹتے گویا ایک عیاں راز پر پردہ ڈالا تھا۔
"اٹس ٹو ہیوی آئی کانٹ کیری اٹ۔"
آبریش کو نیا اعتراض ہوا تھا گویا وہ یہاں اسکا ضبط آزمانے ہی آئی تھی۔
"آبریش گھر جائیں ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔"وہ اسے گھورتے ہوئے غرایا جبکہ آبریش وہاں پڑی چارپائی پر بیٹھ گئی تھی۔
"میں یہاں سے جب تک نہیں جاؤنگئ جب تک تم میری بات نہیں مانوگے۔"وہ بےحد اڑیل ثابت ہوتی اسفندیار کا دماغ گھما چکی تھی وہ اسے گھورتے رہنے کے بعد وہاں سے نکلتے بھاڑے کی حدود کراس کرگیا اور پھر جلد ہی واپس آیا تھا۔
"آپکو سیل ایکٹو چاہیئے ٹھیک ہے ہوجائے گا پر ایک شرط پر۔۔"وہ سینے پر ہاتھ باندھے آبریش کے سامنے ایک نئی آزمائش کھڑی کرتے بولا تھا۔
"اوکے میں کوئی بھی شرط ماننے کو تیار ہوں۔"
وہ بھی دوبدو ہوئی تھی اسفندیار اسکا ہاتھ تھامے اسے جانوروں کے کٹے ہوئے چارے کے پاس لایا تھا۔
"آپ یہ سب جانوروں کو ڈالیں گی اسکے بعد آپ جو کہیں گی ویسا ہوگا۔"
اسفندیار کی شرط سن کر وہ شاکڈ ہوئی تھی۔
"یہ کیا بہودگی ہے میں ایسا کچھ نہیں کرنے والی تم مجھے موبائل ایکٹو کرکے دے رہے ہو یا نہیں۔"
وہ دانت چباتے بولی تھی۔
"جب تک میری شرط نہیں مانے گی تو نہیں،اور آئیندہ تک بھی اگر آپ اپنی ضد پر قائم رہیں گی تو یہ شرائط اور کڑی ہونگی ۔ہوسکتا ہے کل کو آپکو ان جانوروں کا گوبر بھی اٹھانا پڑے اسیلئے ابھی سے سوچ لیں کہ آپ انہیں چارہ کھلا رہی ہیں کہ نہیں۔۔۔"
اسفندیار کی بات پر وہ روہانسی سی کبھی چارے اور کبھی جانوروں کو دیکھتی۔
"پر انکو اٹھانا کیسے ہے؟"
وہ پریشان سی پوچھ رہی تھی تبھی اسفندیار نے ایک ٹوکری چارے کی بھر کے جانوروں کے سامنے پھینکی اور وہیں ٹوکری لاکر اسکے قدموں میں رکھی تھی۔
"میرے خیال سے اب آپ یہ کرسکتی ہیں۔"
وہ اسے کہتے دور جاکھڑا ہوا تھا آبریش ک لگا تھا وہ اسکی ہیلپ کرے گا لیکن وہ دورے کنارے کھڑا اسکا تماشہ دیکھ رہا تھا۔
آبریش نے بہت سارا چارہ ٹوکری میں بھرلیا گویا سارا کام ایک ہی جست میں نبٹا دے گی مگر اسکی یہ غلط فہمی رہی کیونکہ اس ٹوکری نے ہلنے سے بھی انکار کردیا تھا جسے اسفندیار آرام سے اٹھا کر گیا تھا۔
"کیا تم اسے اٹھانے میں میری مدد نہیں کروگے؟"وہ بےبسی کی مورت بنی پوچھ رہی تھی۔
"بلکل بھی نہیں اپنی شرطوں کا بار آپکو خود اٹھانا ہے۔"اس نے بمشکل اپنی ہنسی روکی ہوئی تھی تقریبا مزید پندرہ منٹ اس کوشش میں الجھنے کے بعد اس نے تھوڑا تھوڑا کرکے چارہ ڈالنے کا سوچا اور کچھ چارہ بھرے وہ بھنیسوں کی جانب بڑھی جو اپنے بڑے بڑے ڈیلوں سے اسے تاڑ رہی تھیں۔
چارے کی ٹوکری قریب آتے دیکھ ایک بھینس بےتابی سے آبریش کی طرف بڑھی تھی اور آبریش پر گھبراہٹ طاری ہوئی اس نے وہ ٹوکری وہیں پھینکی تھی مگر وہ منہ کے بل کھڈے پر گری تھی جو سرخ اینٹوں سے بنی تھی ۔یہ لمحوں میں ہوئی کاروائی پر اسفندیار بھی الرٹ ہوا تھا۔
بھینس تو اگچے کھونٹے سے بندھی تھی اور ایک حد تک آکر رک گئی تھی لیکن اینٹوں بھرے فرش نے اپنا کمال دکھادیا تھا۔
آبریش کا پاؤں چھل گیا تھا تو پاؤں میں بھی موچ آگئی تھی جبکہ سر پر کسی اینٹ کا نوکیلا کونا چبھا تھا جس وجہ سے وہاں سے خون کا فوارہ سا ابھرا تھا۔
اسفندیار اسے چادر میں لپیٹتے بانہوں میں بھرے حویلی کے احاطے کی طرف دوڑا تھا۔
مرکزی گیٹ کے پاس بنے چھوٹے صحن میں جھولے پر بیٹھی اساورہ نے پھٹی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا تھا جب وہ اسے روم میں لایا اور مائی میراں کو آواز دیتے بلایا اور فرسٹ ایڈ باکس منگوایا تھا۔
اسکا ماتھا صاف کرتے پھرتی سے بینڈج کی تھی جںکہ آبریش کسی چھوٹے بچے کی طرح رو رہی تھی۔
"یااللہ خیر یہ کیا کرلیا؟"
نسیم شاہ،انکے پیچھے بانو اور تناوش بھی چلی آئیں تو اسے یہاں ٹہرنا مناسب نہیں لگا تھا۔وہ اماں سائیں کو اسکا ڈریس چینج کرنے کا کہتے ہوئے باہر نکل آیا تھا۔
"واہ سائیں اتنا بدلاؤ؟وہ لڑکی جو اس گھر کے لوگوں کو منہ نہیں لگاتی آپ اسے یوں اٹھائے پھرتے ہیں ۔کہاں گئے آپکے پاکدامنی کے دعوے ،کیا اس لڑکی کو چھونے سے آپ گنہگار نہیں ہوئے؟"
اساورہ اسکے سامنے آٹہری تھی آنکھوں میں آنسوؤ کی جھڑی تھی۔
جب سے آبریش آئی تھی اسکے تیور دیکھ کر یہی لگ رہا تھا وہ زیادہ دن یہاں نہیں ٹک پائے گا کیونکہ وہ اسفندیار کی توجہ حاصل نہیں کرپائی تھی اور اساورہ بھی خوش تھی کہ اسفندیار اس کی خوبصورتی سے مائل نہیں ہوا تھا تبھی تو یہاں آکر بھی وہ الگ الگ تھے۔
"شٹ اپ اساورہ ،وہ بیوی ہیں اسفندیار کی ،نکاح میں ہیں میرے آپ کی ہمت بھی کیسے ہوئی انکی ذات پر کوئی سوال اٹھائیں۔پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں کہ ایک نامحرم شخص سے محبت کے دعوے میں آپ کس حدتک گرچکی ہیں۔آئیندہ آبریش اور میری ذات کو لےکر کوئی سوال نہ آئے آپکی ذبان پر۔"
وہ اسے تنبہیہ کرتے وہاں سے نکل گیا تھا جب ان دونوں کے پیچھے ٹہریں بانو اسکے سامنے آرکی
تھیں۔
"تم کب ہوش میں آؤ گی اساوری؟کیوں اپنی عزت اور مقام کے پیچھے پڑی ہو آخر؟"
بانو پھپو اسے بازو پکڑے اپنے کمرے میں کھینچ لائی تھیں۔
"کیسی ماں ہیں آپ ،آپکو اپنی بیٹی کا زرا بھی احساس نہیں ،میں مرجاؤنگی اماں سائیں کے بغیر ،میں نے زندگی میں کبھی تم سے کچھ نہیں مانگا لیکن اسوقت مانگ رہوں اماں مجھے اسفندیار دے دو ۔۔۔مجھے اسفندیار چاہیئے اماں۔۔۔"
وہ ضدی بچوں کی طرح انکی ٹانگوں سے لپٹی دہائیاں دے رہی تھی جب آبریش کی طرف جاتے باؤجی بانوشاہ کے کمرے سے آتا شور سن کر اسطرف آئے تھے۔
"چپ کر بدبخت اگر ،کسی نے اسفندیار کا نام بھی تیرے لبوں سے سن لیا تو جانتی ہے کیا قیامت آئے گی اور وہ۔۔۔وہ تو تیرے باپ کی شکل نہیں دیکھنا چاہتا نام تک نہیں سننا چاہتا پھر کیسے قبول کرے گا تجھے۔۔۔"
بانو شاہ کی غصے میں لپٹی آواز پر باؤجی کے چہرے پر تناؤ بڑھا تھا وہ الٹے قدموں اپنی بیٹھک کی طرف چلے گئے تھے۔اسوقت انکے چہرے پر چھایا غیص وغضب کسی طوفان کی آمد کا پتا دے رہا تھا۔
♡♡。♡♡

"آبریش بچے تم وہاں کرنے کیا گئی تھی؟جا تناوش کل ہی نذیر آبریش کے کپڑے دے کر گیا تھا جا میری دھی فٹافٹ وہ لے کر آ۔۔۔"
نسیم شاہ نے اس سے لپٹی ،گرد آلود مٹی ہٹاتے ہوئے پوچھا تھا اور ساتھ ہی تناوش سے مخاطب ہوئیں تھیں۔
"میرا یہاں دم گھٹ رہا ہے آنٹی اور میرا سیل فون تک کام نہیں کررہا ۔اسفندیار نے کہا تھا کہ وہ مام ڈیڈ سے میری بات کروائے گا مگر اسے مجھ سے متعلق کچھ بھی یار کہاں رہتا ہے۔"
آبریش کو لگ رہا تھا اگر وہ اسکی بیوی تھی تو اس تکلیف میں اسے اسکے پاس ہونا چاہیئے تھا تبھی نسیم شاہ سے اسکی شکایت لگا ڈالی۔
"سارے گھر کی زمداریاں تو اسی پر ہیں نا ،تم حاکم سائیں سے کہتی وہ کروادیتے ۔"
نسیم شاہ اسوقت اسکی چوٹ دیکھ کر کچھ نرم ہوگئی تھیں جب تناوش اسکے کپڑے لےکر آئی تھی۔
آبریش کا دماغ چوٹ لگنے سے زیادہ تیزی سے کام کررہا تھا۔تناوش یہاں سے جارہی تھی ،بانو پھپھو اور اسکی بیٹی سے وہ الرجک تھی ایسے میں وہ نسیم شاہ کے سامنے اپنی معصومیت کے جال پھینک کے یہاں سے جان چھڑا سکتی تھی۔
آبریش نے شلوار قیمض کے کئی سیٹ دیکھے تو منہ بسور کررہ گئی تھی۔
"آنٹی میں یہ نہیں پہن سکوں گی۔"
اس نے صاف منع کیا تھا۔
"پر پتر یہاں تو سب ایسے ہی کپڑے پہنتے ہیں ،تم نے اب کونسا پنڈ چھڈ کے ولایت جانا ہے چل میری دھی جاکے کپڑے بدل لے جب تک میں تیرےلیئے ہلدی والا دودھ لاتی ہوں۔"
نسیم شاہ اسے کپڑے بدلنے کی تلقین کرتے وہاں سے چلی گئیں تو اس نے مرضی کا لباس نکالا اور چینج کرلیا تھا۔
"اماں سائیں ناراض ہوں گی آبریش بھابھی۔"
تناوش اسکے مٹی میں لتھڑے کپڑے لانڈری کی طرف لےجاتے اسے تنبہیہ کررہی تھی۔
"سووہاٹ ان سب کو لگتا ہے میں یہاں مستقل ہوں پر یہ ان سب کی خوشفہمی ہے۔میں موقع ملتے ہی یہاں سے بھاگ جاؤنگی سو میں کسی کیلئے اپنا رنگ ڈھنگ کیوں بدلوں؟"
وہ دوٹوک انداز میں کہتی ریلکس سی سوگئی تھی۔شام تک اسکی طبیعت ٹھیک رہی تھی مگر رات گئے جب وہ اسکے کمرے میں آیا تو وہ بخار میں پھنک رہی تھی۔
پاؤں اور ماتھے کی چوٹ نے صحیح سے اپنا اثر چھوڑا تھا۔
خود پر کوئی سائیہ سا محسوس کرتے آبریش نے سوئی جاگی حالت میں آنکھیں کھولی تھیں۔
"کک۔۔کون۔۔۔ہے۔"وہ خوفزدہ سی اٹھنے کی کوشش کرنے لگی پر پاؤں سے اٹھتی ٹیسوں پر کراہ اٹھی تھی۔
"کیا ہوا آبریش؟"وہ اسکے قریب بیٹھ گیا تھا جانی پہچانی آواز سن کر وہ رخ بدلتے سوگئی تھی۔
"اب کس بات پر ناراضگی ہے؟"
اسفندیار نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھتے اس پر جھک کر پوچھا تو اسکے گرم وجود کی تپش کا احساس ہوا تھا۔
"اوہ آپکو تو بہت تیز بخار ہےکسی نے بتایا ہی نہیں۔"وہ پریشان سا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
"کسی کو کیا میں مروں یا جیئوں سب اپنی ضد پوری کریں۔"وہ خفا خفا سی بولی تھی۔
اسفندیار اسے کچھ دیر دیکھنے کے بعد الماری کی طرف بڑھا تو ایک طرف پڑے نئے نویلے کپڑے دیکھ کر وہ چونکا تھا۔اسے یاد آیا کہ اماں سائیں نے بتایا تھا کہ انہوں نے اسکیلئے کچھ کپڑے سلائی کروانے کا آرڈر دیا ہے انہی کپڑوں میں اسے دو گرم شال نظر آئیں تو ایک شال اٹھائے وہ اسکے پاس آیا تھا اور اسکے وجود کو اچھی طرح ڈھانپتے وہ باہر نکل گیا تھا۔
آبریش برے برے منہ بناتے اسکی ساری کاروائیاں ملاحظہ کررہی تھی جب تھوڑی میں وہ تناوش کے ہمراہ دوبارہ اسکے کمرے میں آیا تھا۔
"تناوش آپ انہیں لے کر باہر آؤ بیٹا جب تک میں گیراج سے گاڑی نکالتا ہوں۔"
اس نے آبریش پر تناوش کی آمد کا مقصد واضع کیا تھا ۔
"پر میں تو نہیں چل پارہی۔"
آبریش نے پیچھے سے بولا تو اسکے قدم دروازے پر جمے تھے ۔
"جی لالہ بھابھی صحیح کہہ رہی ہیں ،مائی میراں کہہ رہی تھیں کہ انکے پاؤں میں موچ آئی ہے تبھی پٹی کرکے گئی تھی۔"
نسیم شاہ نے حسب عادت خواتین کیلئے مائی میراں کو ہی بلایا تھا۔اسفندیار نے اسکے سراپے پر اتنا غور کب کیا تھا جو اسکے پاؤں دیکھ پاتا۔
وہ پرسوچ نظروں سے ساری سچویشن سمجھ رہا تھا۔
"لالہ آپ آبریش بھابھی کو اٹھا کر لےچلیں۔"
اسکی بات سن کر آبریش نے استہرائیہ نظروں سے اسے دیکھا تھا۔کل تک وہ جو تناوش کے کپڑوں سے اتنی لاج کھا رہا تھا آج اپنی بہن کے سامنے بیوی کو اٹھائے گا کیسے۔
"ٹھیک ہے میں پھر ڈاکٹرنی کو یہاں لے آتا ہوں۔"
وہ اپنی بات کرتے باہر کی طرف بڑھ گیا تھا۔
وہ اپنا سا منہ لےکر رہ گئی تھی جبکہ تناوش بھی اس گھر کے مردوں کے رویوں سے تنگ نظر آئی تھی۔
"مجھے پہلی بار احساس ہورہا ہے کہ تمہیں تو خوش ہونا چاہیئے تناوش کہ اس گھر کی قید سے تمہیں رہائی مل رہی ہے۔"
آبریش غصے سے بولی تھی جب تناوش نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔
"بات قید کی نہیں ہے آبریش بھابھی جس طرح کسی بوجھ کی طرح گلے سے نکال کر پھینکا جارہا ہے یہ بہت تکلیف دہ ہے۔"
اسکی آنکھوں میں موتی چمکے تو آبریش کو احساس ہوا جب وہ اس بیچاری کیلئے کچھ کر نہیں سکتی تھی تو اسکا دل جلانے کا بھی فائدہ نہیں تھا۔
اسفندیار کچھ دیر میں ڈاکٹرنی کو لایا تو یہ بھی
شکر تھا کہ وہ اسی بہتر حلیے میں تھی جس میں وہ اسے چھوڑ کرگیا تھا۔
"میرے خیال سے سائیں آپ انہیں ہاسپٹل ہی لے چلتے تو اچھا تھا کیونکہ انکے ٹمپریچر کے ساتھ ساتھ زخموں کا علاج بھی ضروری ہے۔"
ڈاکٹر کی بات سن کر اسکے ماتھے پر کئی بل پڑے تھے۔
"ٹھیک ہے تناوش آپ ڈاکٹر صاحبہ کے ساتھ باہر چلیں میں آبریش کو لےکر آتا ہوں۔"
بلاآخر اسے گھٹنے ٹیکنے پڑے تھے۔انکے جاتے ہی اس نے احتیاط سے آبریش کو اٹھایا تو وہ اسکی گردن میں بازو حمائل کرگئی تھی۔
"کیا کررہی ہیں آپ آبریش۔۔۔"وہ اسے اس حرکت پر گھور کر رہ گیا تھا۔
"کیوں ،ایک بیوی اپنے شوہر کے گلے میں بازو بھی نہیں ڈال سکتی کیا؟"
وہ جان بوجھ کے اسے ژچ کررہی تھی اور وہ ہوبھی رہا تھا۔
تناوش اور ڈاکٹر کے سامنے اسے بےانتہا شرم آئی تھی پر وہ وقتی ضرورت کے تحت ایسا کرنے پر مجبور تھا۔اسے بیک سیٹ پر لٹایا تو تناوش نے اسکا سر اپنی گود میں رکھ لیا تھا جبکہ ڈاکٹر اسکے ساتھ فرنٹ سیٹ پر موجود تھی۔۔۔۔۔۔
بیسڈ رومینٹک ناول
Available on discount price
with the best deals.....

Address

Jeddah

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Uzma Mujahid Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share