05/07/2026
کل کا دن شاید میں کبھی نہیں بھولوں گا
میں اپنے ایک دوست کے ساتھ ایئرپورٹ پر بیٹھا فلائٹ کا انتظار کر رہا تھا ہر طرف رش تھا لوگ اپنے اپنے سامان ٹکٹ اور فون میں مصروف تھے اسی دوران میری نظر ایک نوجوان پر پڑی اس کے ہاتھ میں پاسپورٹ تھا لیکن وہ بار بار اسے بند کرتا کھولتا پھر بیگ کے اوپر رکھ لیتا چہرے پر عجیب سی پریشانی تھی تقریبا 5 سے 10 منٹ گزر گئے لیکن وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلا میں نے اپنے دوست سے کہا چلو پوچھتے ہیں شاید کوئی مسئلہ ہو ہم اس کے پاس گئے پہلے تو وہ یہی کہتا رہا کہ سب ٹھیک ہے بھائی لیکم کافی اصرار کے بعد اس نے آہستہ سے کہا
میں پہلی بار بیلجیئم نوکری کے لیے جا رہا ہوں امی نے جاتے وقت صرف ایک بات کہی تھی کہ بیٹا فلائٹ میں بیٹھنے سے پہلے ایک بار ویڈیو کال کر لینا وہ چند لمحے خاموش رہا پھر بولا ابھی کچھ منٹ پہلے گھر فون آیا تھا امی کو اچانک ہسپتال لے گئے ہیں گھر والے کہہ رہے ہیں کہ تم پریشان نہ ہو فلائٹ مت چھوڑنا اگر آج نہ گیا تو شاید یہ نوکری بھی نہ رہے یہ کہتے ہوئے اس کی آواز کانپنے لگی وہ نہ گھر واپس جا سکتا تھا نہ سکون سے فلائٹ میں بیٹھ سکتا تھا میں اور میرا دوست کچھ دیر خاموش رہے پھر ہم نے اس سے کہا
تم اپنی امی سے ویڈیو کال کرو
اس نے فون ملایا لیکن شاید گھر والے خود بھی پریشان تھے تو فون نہیں اٹھایا
ہم نے اس کا حوصلہ بڑھایا اس کے ساتھ بیٹھے رہے اس کے لیے دعا کی اور اپنے ایک جاننے والے کے ذریعے اس کے شہر میں موجود ایک دوست سے رابطہ کروایا تاکہ وہ فورا ہسپتال جا کر اس کے گھر والوں کے ساتھ رہے اور ضرورت پڑنے پر مدد بھی کرے تقریبا بیس منٹ بعد اس کے گھر سے دوبارہ کال آئی امی کی طبیعت پہلے کافی سے بہتر ہے اپ پریشان نا ہوں اس لڑکے کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے لیکن اس بار وہ بے بسی کے نہیں اطمینان کے تھے
فلائٹ کے لیے اعلان ہوا تو وہ ہمیں گلے لگا کر صرف اتنا بولا
اپ اج سب سے مشکل وقت میں میرا سب سے بڑا سہارا بنے ہو پھر ہم الگ ہو گئے جہاز پر میں یہی سوچتا رہا
کہ کبھی کبھی ایک انسان کو صرف کسی ایسے کندھے کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے یہ احساس دلا دے کہ تم اکیلے نہیں ہو اگر کبھی زندگی میں کسی کو پریشان دیکھیں تو صرف اتنا ضرور پوچھ لیا کریں
بتائیں میں آپ کے کس کام آ سکتا ہوں؟
یقین کریں بعض اوقات یہی ایک سوال کسی ٹوٹتے ہوئے انسان کو سنبھال لیتا ہے
صدر پاکستان