Saeed Ahmad

Saeed Ahmad � Simple Life • Strong Mind
� Be Real, Be Kind

10/02/2026

یہ تصویر سعودی عرب کی ایک قدیم طرزِ تعمیر کی خوبصورت عمارت کو ظاہر کرتی ہے، جس میں پرانے زمانے کی سادگی اور مضبوطی دونوں جھلکتی ہیں۔ اس منظر کو دیکھ کر انسان کو اپنے گاؤں اور ماضی کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔

ماضی کی خوشبو لیے پرانی عمارتیں

رات کی روشنی میں نہائی ہوئی یہ پرانی عمارت ہمیں اُس دور کی یاد دلاتی ہے جب گھر صرف رہنے کی جگہ نہیں بلکہ محبت، سادگی اور اپنائیت کا مرکز ہوتے تھے۔ دیواریں موٹی، کھڑکیاں سادہ اور تعمیر میں فطری ٹھنڈک کا انتظام ہوتا تھا۔ آج کی جدید عمارتیں اونچی ضرور ہیں، مگر وہ مٹی کے گھروں والی سکون بھری کیفیت کم ہی دیتی ہیں۔

ہمارے دیہات میں جو گھر مٹی سے بنائے جاتے تھے، انہیں اردو میں "مٹی کے گھر" یا "کچے گھر" کہا جاتا ہے۔ ان گھروں کی دیواریں عموماً مٹی اور گارے سے بنائی جاتی تھیں، جو گرمی میں ٹھنڈک اور سردی میں گرمی فراہم کرتی تھیں۔

اسی طرح بارش کے پانی کو چھت سے نیچے گرانے کے لیے جو نالی یا پائپ لگایا جاتا تھا، اسے اردو میں عام طور پر "پرنالہ" یا "ناودان" کہا جاتا ہے۔ یہ پرانی عمارتوں کا اہم حصہ ہوتا تھا۔

ایسی تاریخی عمارتیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ اصل #خوبصورتی سادگی اور قدرتی طرزِ زندگی میں ہوتی ہے۔ جدید ترقی کے باوجود ہمیں اپنے ماضی اور ثقافتی ورثے کو نہیں بھولنا چاہیے۔
Fakhar Yousafzai Izat Ullah

21/01/2026
ایک پاکستان، دو نظامیہ کیسا پاکستان ہے جہاں ایک ہی ملک میں دو الگ زندگیاں، دو الگ قانون، دو الگ انصاف اور دو الگ ریاستیں...
18/01/2026

ایک پاکستان، دو نظام

یہ کیسا پاکستان ہے جہاں ایک ہی ملک میں دو الگ زندگیاں، دو الگ قانون، دو الگ انصاف اور دو الگ ریاستیں چل رہی ہیں؟
ایک طرف وہ پاکستان ہے جہاں اقتدار کے ایوانوں میں شادی کی تقریبات سجتی ہیں، سیاسی خاندانوں کے لانوں میں قہقہے گونجتے ہیں، وزراء، مشیر، حتیٰ کہ وزیراعظم بھی خوشیوں میں شریک ہو کر تصویر بنواتے ہیں، جیسے اس ملک میں سب کچھ ٹھیک ہو۔
اور دوسری طرف وہ پاکستان ہے جہاں لوگ اپنے ہی وطن میں مہاجر بن چکے ہیں، جہاں آبادی پر گویا غیر اعلانیہ ٹریاژ آپریشن ہو رہا ہے—کون زندہ رہے، کون مرے، کون سسک سسک کر ہجرت کرے، اور کون خاموشی سے مٹ جائے۔

پنجاب ہو یا سندھ، خیبر ہو یا بلوچستان—غریب کے لیے ریاست کہیں موجود نہیں۔
لیکن طاقتور کے لیے پورا نظام حاضر ہے۔

کہیں سیلاب ہے، کہیں مہنگائی، کہیں بےروزگاری، کہیں لاشوں پر سیاست—مگر حکمرانوں کے چہروں پر شکن تک نہیں۔
لوگ اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور ہیں، اپنے بچوں کو بہتر مستقبل کے خواب دکھا کر در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، اور حکمران ہیں کہ شادی ہالوں میں مصروف، اقتدار کے کھیل میں مگن، اور عوام کے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں۔

یہ کیسا انصاف ہے؟ یہ کیسی ریاست ہے؟ یہ کیسی جمہوریت ہے؟

ایک طرف عوام کے لیے مہنگائی، گولیاں، آنسو، بےیقینی
اور دوسری طرف اشرافیہ کے لیے پروٹوکول، مسکراہٹیں، موسیقی اور دعوتیں

اگر ملک واقعی ایک ہے تو نظام دو کیوں ہیں؟
اگر وزیراعظم سب کا ہے تو وہ صرف مخصوص گھروں کی خوشیوں میں کیوں دکھائی دیتا ہے؟
اگر یہ سب محض اتفاق ہے تو پھر عوام کی بدحالی مسلسل کیوں ہے؟

سچ تو یہ ہے کہ یہ لوگ حکومت نہیں کر رہے،
یہ لوگ ٹائم پاس کر رہے ہیں—قوم کے صبر کے ساتھ، عوام کی زندگیوں کے ساتھ، اور پاکستان کے مستقبل کے ساتھ۔

یہ سوال اب صرف سوال نہیں رہا، یہ ایک چیخ بن چکا ہے:
کب تک؟

کب تک عوام ہجرت کرتے رہیں گے؟
کب تک لاشیں گنتی میں آئیں گی؟
کب تک خوشیاں صرف اقتدار کے ایوانوں تک محدود رہیں گی؟

اگر یہی طرزِ حکمرانی ہے تو پھر مان لینا چاہیے کہ
یہ لوگ صرف نااہل نہیں—
یہ عوام کے دکھ سے بےحس، اور قوم کے زخموں پر ہنسنے والے ہیں۔

اور تاریخ گواہ ہے:
قومیں غربت سے نہیں مرتیں،
قومیں دوہرے نظام اور بےحس حکمرانوں سے مرتی ہیں۔

۔۔  شانگلہ: ہنرمندوں کی ہجرت اور اقتدار کو کمائی بنانے والی سیاستشانگلہ آج ایک تلخ اور ناقابلِ تردید حقیقت کا سامنا کر ر...
17/01/2026

۔۔ شانگلہ:
ہنرمندوں کی ہجرت اور اقتدار کو کمائی بنانے والی سیاست

شانگلہ آج ایک تلخ اور ناقابلِ تردید حقیقت کا سامنا کر رہا ہے۔ یہاں کے ہنرمند اور تعلیم یافتہ نوجوان روز بروز پاکستان سے باہر جا رہے ہیں۔ کوئی سعودی عرب، کوئی خلیجی ممالک، کوئی یورپ کا رخ کر رہا ہے۔ یہ ہجرت کسی شوق یا عیش کی تلاش نہیں، بلکہ شانگلہ میں روزگار، مواقع اور انصاف کی کمی کا واضح ثبوت ہے۔

اگر صرف اعداد و شمار کی بات کی جائے تو حقیقت اور بھی خوفناک ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر شانگلہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں کیڑی کو ہی دیکھ لیجیے۔ مقامی معلومات کے مطابق صرف سال 2025 میں اس ایک گاؤں سے:

تقریباً20 اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان

اور کم از کم70ہنرمند افراد
بیرونِ ملک روزگار کے لیے جا چکے ہیں۔

یہ صرف ایک گاؤں کا حال ہے، جس کی آبادی محدود ہے۔ اگر ایک چھوٹے سے گاؤں سے اتنی بڑی تعداد میں نوجوان ہجرت پر مجبور ہو رہے ہیں تو پورے شانگلہ ضلع سے جانے والوں کی تعداد کتنی ہو گی؟ یہ سوال خود ہی نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔

دوسری طرف شانگلہ میں اقتدار کو کمائی بنانے والی سیاست پوری قوت کے ساتھ جاری ہے۔ عوام کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے، مگر سیاسی اشرافیہ کی دولت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اقتدار میں آ کر خدمت کے بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دی گئی، سیاست کو عوامی خدمت کے بجائے منافع بخش کاروبار بنا دیا گیا۔

شانگلہ کے عوام کو برسوں سے جھوٹے دعوؤں کے ذریعے بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔ ہر الیکشن میں وہی رٹے رٹائے جملے سننے کو ملتے ہیں:
“ہم نے یہ کیا، ہم نے وہ کیا، ہم نے سڑکیں بنائیں، اسکول بنائے، اسپتال دیے، روزگار پیدا کیا۔”
مگر اگر واقعی یہ سب کچھ کیا گیا ہوتا تو آج کیڑی جیسے گاؤں کے نوجوان درجنوں کی تعداد میں پردیس کیوں جا رہے ہوتے؟

حقیقت یہ ہے کہ ترقی کے نام پر تختیاں تو لگیں، تصویریں تو بنیں، مگر عوام کی زندگی میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔ اقتدار کے سائے میں پلتی دولت سمیٹتی سیاسی اشرافیہ مضبوط ہوتی گئی، جبکہ عوام غریب سے غریب تر ہوتی چلی گئی۔

یہ کالم کسی فرد یا جماعت کے خلاف نہیں، بلکہ اس نظام کے خلاف ہے جو شانگلہ کے نوجوانوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور اور سیاست دانوں کو مزید طاقتور بنا رہا ہے۔ اگر آج بھی عوام نے سوال نہ اٹھایا، اعداد و شمار کو نہ دیکھا، اور دعوؤں کے بجائے حقیقت کو معیار نہ بنایا، تو کل شانگلہ صرف ہجرت کی کہانیوں کا ضلع بن کر رہ جائے گا

Ãbû Ãjmãñ ShãñgLã Pk Saeed Ahmad Khan Fakhar Yousafzai     بیٹی کے نام ایک باپ کی ساری زندگییہ تصویر اگر غور سے دیکھوتو ...
12/01/2026

Ãbû Ãjmãñ ShãñgLã Pk Saeed Ahmad Khan Fakhar Yousafzai

بیٹی کے نام ایک باپ کی ساری زندگی

یہ تصویر اگر غور سے دیکھو
تو اس میں مسکراہٹ کم
اور قربانی زیادہ نظر آتی ہے۔

فرش پر بیٹھا یہ شخص
شاید آج پہلی بار ہلکا محسوس کر رہا ہے،
کیونکہ برسوں کا بوجھ
آج اس کے دل سے کچھ کم ہوا ہے۔

کہتے ہیں یہ بنگالی ہے،
غریب دیس، غریب حالات،
مگر نیت امیر—
بیٹی کو کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کے قابل نہیں،
بلکہ سفید کوٹ پہننے کے قابل بنانا ہے۔

یہ وہ باپ ہے
جو فجر سے پہلے اٹھا،
سورج سے پہلے کام پر نکلا،
پسینے میں بھیگا،
لوگوں کی سخت باتیں سنی،
اپنی بھوک چھپائی،
اپنے خواب مارے—
صرف اس لیے
کہ اس کی بیٹی کے خواب زندہ رہیں۔

اس نے کبھی نہیں پوچھا
کہ بیٹی ہے یا بیٹا،
بس اتنا کہا:
“میری اولاد ہے،
اور اس کی عزت میری ذمہ داری ہے۔”

جب بیٹی کتابوں میں گم ہوتی تھی
تو یہ باپ خاموشی سے
اضافی کام ڈھونڈتا تھا۔
جب فیس کی تاریخ قریب آتی
تو یہ اپنے کپڑے، اپنی خواہشیں،
حتیٰ کہ اپنی صحت بھی بیچ دیتا تھا۔

لوگ کہتے ہوں گے:
“لڑکی ہے، کل کسی اور کے گھر چلی جائے گی”
مگر یہ باپ کہتا تھا:
“لڑکی ہے،
کل کسی کا سہارا بنے گی۔”

آج جب اس بیٹی نے
اے جے میڈیکل کالج کے لیے کوالیفائی کیا ہے
تو یہ صرف ایک کامیابی نہیں،
یہ باپ کی ساری زندگی کی قبولیت ہے۔

یہ باپ شاید
اپنے آنسو کسی کو نہ دکھائے،
مگر اس کے رب نے دیکھ لیے۔
اور رب کبھی
باپ کے آنسو ضائع نہیں کرتا۔

یہ تصویر ہمیں سکھاتی ہے
کہ اصل امیری
بینک بیلنس نہیں،
بلکہ وہ لمحہ ہے
جب باپ کہہ سکے:
“میں نے اپنی بیٹی کو
کسی کا محتاج نہیں بنایا۔”

اللہ ایسے باپوں کو سلامت رکھے،
ایسی بیٹیوں کو علم اور وقار دے،
اور ہر اس باپ کی زندگی
واقعی…
گُلزار کر دے۔
آمین @ د

  زندگی اندھیرے کے مانند ہے،یہاں روشنی بانٹی نہیں جاتی،یہاں چراغ مانگے نہیں جاتے،یہاں انسان کو خود ہی جلنا پڑتا ہے۔زندگی...
07/01/2026



زندگی اندھیرے کے مانند ہے،
یہاں روشنی بانٹی نہیں جاتی،
یہاں چراغ مانگے نہیں جاتے،
یہاں انسان کو خود ہی جلنا پڑتا ہے۔

زندگی ایک ایسی رات ہے جس میں ہر شخص کو اپنا راستہ خود تلاش کرنا ہوتا ہے۔ کوئی ستارہ مستقل ساتھ نہیں دیتا، کوئی دیا ہمیشہ روشن نہیں رہتا۔ لوگ مشورے تو بہت دیتے ہیں، دعوے بھی کرتے ہیں، مگر جب اندھیرا گہرا ہو جائے تو ہر ایک اپنی راہ بدل لیتا ہے۔

یہ دنیا تماشہ دیکھنا جانتی ہے، ہاتھ پکڑنا نہیں۔ یہاں ہمدردی الفاظ میں ہوتی ہے، عمل میں نہیں۔ جو شخص خود کو جلانا سیکھ لے، وہی دوسروں کے لیے روشنی بنتا ہے، ورنہ لوگ اندھیرے میں ڈوبنے والوں کے نام تک بھول جاتے ہیں۔

زندگی ہمیں کمزور نہیں کرتی، بلکہ ہمیں خود سے متعارف کرواتی ہے۔ جب سب دروازے بند ہوں، جب آوازیں خاموش ہو جائیں، تب انسان کو احساس ہوتا ہے کہ اصل طاقت باہر نہیں، اندر ہے۔ وہی اندر کی چنگاری اگر بجھ جائے تو دن بھی رات بن جاتا ہے۔

اس لیے شکوہ کم کرو، حوصلہ پیدا کرو۔
اندھیرے کو کوسو مت،
اپنے اندر چراغ جلاؤ۔
کیونکہ جو خود روشن ہو جائے،
اسے راستہ پوچھنا نہیں پڑتا۔ 🌙✨

Address

ممرصیفی الانصاری حی الشمیسی
Riyadh
12745

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Saeed Ahmad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category