10/02/2026
یہ تصویر سعودی عرب کی ایک قدیم طرزِ تعمیر کی خوبصورت عمارت کو ظاہر کرتی ہے، جس میں پرانے زمانے کی سادگی اور مضبوطی دونوں جھلکتی ہیں۔ اس منظر کو دیکھ کر انسان کو اپنے گاؤں اور ماضی کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔
ماضی کی خوشبو لیے پرانی عمارتیں
رات کی روشنی میں نہائی ہوئی یہ پرانی عمارت ہمیں اُس دور کی یاد دلاتی ہے جب گھر صرف رہنے کی جگہ نہیں بلکہ محبت، سادگی اور اپنائیت کا مرکز ہوتے تھے۔ دیواریں موٹی، کھڑکیاں سادہ اور تعمیر میں فطری ٹھنڈک کا انتظام ہوتا تھا۔ آج کی جدید عمارتیں اونچی ضرور ہیں، مگر وہ مٹی کے گھروں والی سکون بھری کیفیت کم ہی دیتی ہیں۔
ہمارے دیہات میں جو گھر مٹی سے بنائے جاتے تھے، انہیں اردو میں "مٹی کے گھر" یا "کچے گھر" کہا جاتا ہے۔ ان گھروں کی دیواریں عموماً مٹی اور گارے سے بنائی جاتی تھیں، جو گرمی میں ٹھنڈک اور سردی میں گرمی فراہم کرتی تھیں۔
اسی طرح بارش کے پانی کو چھت سے نیچے گرانے کے لیے جو نالی یا پائپ لگایا جاتا تھا، اسے اردو میں عام طور پر "پرنالہ" یا "ناودان" کہا جاتا ہے۔ یہ پرانی عمارتوں کا اہم حصہ ہوتا تھا۔
ایسی تاریخی عمارتیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ اصل #خوبصورتی سادگی اور قدرتی طرزِ زندگی میں ہوتی ہے۔ جدید ترقی کے باوجود ہمیں اپنے ماضی اور ثقافتی ورثے کو نہیں بھولنا چاہیے۔
Fakhar Yousafzai Izat Ullah